کورونا سے فوت ہندو شخص کی مسلم نوجوانوں نے انجام دی آخری رسومات _ تلنگانہ میں انسانی ہمدردی کا بہترین مظاہرہ

تانڈور _ کورونا کے خوف نے خونی رشتے اپنوں کی آخری رسومات انجام دینے سے انکار کررہے ہیں ۔جس کے نتیجہ میں کئی ہندو نعشوں کی آخری رسومات مسلم نوجوانوں نے انجام دے رہے ہیں تلنگانہ میں کورونا کی پہلی لہر کے دوران  کورٹلہ کے مسلم نوجوانوں نے ہندو نعشوں کی آخری رسومات انجام دیتے ہوئے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندو مسلم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مستحکم کرنے میں اہم رول ادا کیا تھا اور اب کورونا کی دوسری لہر میں بھی مسلم نوجوان ہی ہندو نعشوں کی آخری رسومات انجام دینے آگے آرہے ہیں اس طرح کے ایک واقعہ میں تانڈور کے مسلم نوجوانوں نے کورونا سے متاثر خودکشی کرنے والے ایک شخص کی آخری رسومات انجام دی۔بتایا جاتا ہے کہ ٹانڈور کے سیتا رام پیٹ سے تعلق رکھنے والا 38 ،سالہ ہنمنت مقامی طور پر گنے کے جوس کا کاروبار کرتا ہے چند دن قبل ہنمنت کورونا وائرس سے متاثر ہوگیا تھا اور اسے گھر پر ہی الگ تھلگ رکھا گیا تھا تاہم پڑوسیوں نے ہنمنت کے کورونا کے متاثر ہونے پر اس کے گھر والوں میں خوف پیدا کردیا اور کہا کہ ہنمنت کی وجہ سے اس کی بیوی اور بچے بھی کورونا سے متاثر ہوجائیں گے۔پڑوسیوں کی جانب سے خوف پیدا کرنے پر پریشان ہوکر ہنمنت نے ٹرین کے سامنے کود کر خودکشی کرلی۔بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ میں ہنمنت کے جسم کے کئی ٹکڑے ہوگئے۔اور پولیس نے اس کی نعش ہاسپٹل منتقل کردی اور گھر والوں کو آخری رسومات انجام دینے کا مشورہ دیا۔تاہم ہنمنت کے گھر والوں نے نعش کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔جس پر تانڈور کے مسلم نوجوانوں کی ٹیم نے ہنمنت کو شمشان گھاٹ پہونچانے اور آخری رسومات انجام دینے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔