مساجد کی انتظامی کمیٹیاں ائمہ و مؤذنین کی تنخواہوں پر ہمدردانہ غور کریں۔ منبر و محراب فاؤنڈیشن کے بانی مولانا غیاث احمد رشادی کی اپیل

حیدرآباد: ملک کے ائمہ و خطباء کا نمائندہ ادارہ منبر و محراب فاؤنڈیشن کے بانی و مینیجنگ ٹرسٹی مولانا غیاث احمد رشادی نے مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے ذمہ داران سے درد مندانہ اپیل کی ہے کہ وہ اپنی اپنی مساجد کے ائمہ،خطباء اور مؤذنین کی تنخواہوں پر پوری سنجیدگی کے ساتھ ہمدردانہ و دردمندانہ غور فرمائیں اور انصاف کے ساتھ خود اپنے ضمیر سے سوال کریں کہ کیا وہ تنخواہیں جو انہیں دی جا رہی ہیں ان سے کیا واقعی ان ائمہ و مؤذنین کا گزارہ ہوسکتا ہے؟ موجودہ ناکافی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ یہ انتہائی افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ آسمان کو چھوتی مہنگائیوں کے اس زمانہ میں آج بھی بہت سے ائمہ و مؤذنین کی تنخواہیں اس قدر کم ہیں کہ جن تنخواہوں پر اپنی بیوی اور بچوں کی بنیادی ضرورتوں کے ساتھ زندگی بسر کرنا مشکل نہیں بلکہ محال ہے۔مساجد کے ذمہ داران تنہائی میں بیٹھیں، اپنی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیں۔مکانات کا کرایہ، پٹرول، پکوان گیس،غذائی اجناس، تعلیمی فیس، علاج ومعالجہ اور دیگر بنیادی اشیاء پر ماہانہ اوسطاً کتنا خرچ آتا ہے؟ پوری احتیاط کفایت شعاری کے ساتھ بھی اگر خرچ کیا جائے تو اوسطا ًبیس تا پچیس ہزار کم از کم اخراجات ماہانہ آتے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں اگر ہم اپنے ائمہ و مؤذنین کو ان کی بنیادی ضروریات کے مطابق بھی تنخواہ نہ دیں تو کیا یہ ان کے ساتھ نا انصافی نہیں ہے؟ اگر مساجد کے ذمہ داران یہ کہہ کر کہ مسجد کو اتنی آمدنی نہیں ہے تو یہ کوئی ذمہ دارانہ معقول بات نہیں ہے۔مساجد کے اخراجات کا ٹارگٹ بنا کر اپنے محلہ میں مثبت کوشش کی جائے تو مساجد کی آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مساجد کے ذمہ داروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ائمہ و مؤذنین کی معقول تنخواہوں کا نظم کریں۔مولانا غیاث احمد رشادی نے اپنے صحافتی بیان میں مزید کہا کہ لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے نتیجہ میں گزشتہ ایک سال سے ائمہ و مؤذنین بھی متاثر ہیں۔ نماز کے علاوہ اوقات میں یہ مدارس میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے مگر مدارس کا نظام بھی متاثر ہے جس کی وجہ سے وہ صرف مسجد کی تنخواہوں پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں ہر محلہ کے ذی اثر صاحبِ ثروت افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقہ کی مساجد کی آمدنی پر سنجیدہ فکر کریں اور اپنی مسجد کی انتظامی کمیٹی سے تعاون کریں۔ اگر محلہ کا ہر فرد قابل قدر تعاون کرے گا تو ائمہ و مؤذنین کی تنخواہوں میں اضافہ کوئی مشکل کام نہیں رہے گا۔ماہِ رمضان المبارک بہترین موقع ہے کہ مساجد کے ذمہ داران اور محلہ کے ذی حیثیت افراد اس سلسلہ میں ایک نشست منعقد کریں اور بغور جائزہ لیں اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کا فیصلہ کریں۔ جن مساجد سے ائمہ و مؤذنین کے لیے مکانات نہیں ہیں اور مسجد کے احاطہ میں ان دونوں افراد کے لیے مختصر ہی سہی مکانات تعمیر کیے جاسکتے ہوں تو ان کے لیے مکانات تعمیر کریں تاکہ ان پر کرایہ کی ادائیگی کا جو بوجھ ہے وہ ہلکا ہو جائے اور وہ یکسوئی کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے سکیں۔