روزہ کا فدیہ کتنا ۔۔۔۔۔کس کے لئے ؟ اور کتنا؟

 

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

 

 

[ میرے حلقۂ احباب __ جن میں خواتین اور مرد حضرات دونوں ہیں __ میں سے بہت سے لوگوں نے سوال کیا ہے کہ روزہ کا فدیہ کیا ہے؟ پیش ہے گزشتہ برس کی تحریر ]

رمضان کا روزہ فرض کیا گیا ہے ، اس کی حکمتیں اور فوائد بیان کیے گئے ہیں ، یہ سمجھایا گیا ہے کہ اسے اپنے اوپر بوجھ نہ سمجھو ، یہ محض گنتی کے چند دن ہیں ، اللہ تعالٰی تمھیں مشقّت میں نہیں ڈالنا چاہتا ، وہ تمھارے لیے آسانی چاہتا ہے _ اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ یہ احکام عام لوگوں کے لیے ہیں جو صحت مند ہوں اور آسانی سے روزہ رکھ سکتے ہوں _ چنانچہ جن لوگوں کو کوئی عذر ہو ان کے لیے رخصت کی صورتیں بھی بتادی گئی ہیں _ چنانچہ ارشاد ہوا :
فَمَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ مَّرِيۡضًا اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنۡ اَيَّامٍ اُخَرَ‌ؕ (البقرۃ :184)
” اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو ، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے _”
اہمیت کے پیش نظر یہی بات اگلی آیت میں پھر دہرائی گئی ہے _

* اس آیت میں دو طرح کے معذوروں کا تذکرہ ہے : ایک مسافر ، دوسرا مریض _
* مریض دو طرح کے ہوتے ہیں : ایک وہ جنہیں کوئی عارضی مرض ہو ، جس سے جلد یا بہ دیر شفا پانے کی امید ہو ، مثلاً شدید نزلہ زکام ، دردِ سر ، دست ، پیچش ، تیز بخار ، پیٹ میں درد ، ورمِ جگر یا کوئی دوسرا ایسا مرض جس کی موجودگی میں روزہ رکھنے میں بہت زحمت ہو _ ایسے مریضوں کو اجازت دی گئی ہے کہ رمضان آئے اور وہ ایسے کسی مرض میں مبتلا ہوں تو اس وقت روزہ نہ رکھیں ، بعد میں جب وہ صحت یاب ہوجائیں تب ان روزوں کی قضا کرلیں _

* دوسرے وہ مریض جو ایسے امراض میں مبتلا ہوں جن سے اب شفا پانے کی امید نہ ہو ، ان امراض کا اب زندگی بھر کا ساتھ ہو ، مثلاً ذیابیطس (Sugar) ، شدید دمہ ، امراض قلب ، یا کوئی ایسا مرض جس میں تھوڑی تھوڑی دیر میں غذا یا دوا لینی پڑتی ہے _ چوں کہ ایسے امراض سے مستقل شفا پانے کی امید نہیں ہے اس لیے ایسے مریضوں سے بعد میں روزوں کی قضا کرنے کی امید نہیں _ ایسے مریضوں کو روزہ نہ رکھ کر اس کا فدیہ ادا کرنے کی اجازت ہے _

* حاملہ عورت ، نفساء (بچے کی پیدائش سے فارغ ہونے والی عورت) اور دودھ پلانے والی عورت کا شمار بھی ایسے مریضوں میں کیا گیا ہے جنھیں رمضان کے روزے نہ رکھ کر بعد میں ان کی قضا کرنے کی اجازت ہے _

* جن عورتوں کے روزے حمل اور رضاعت کی وجہ سے چھوٹ گئے ہوں اور بعد میں بھی وہ ان کی قضا نہ کرسکی ہوں ، یہاں تک کہ اب ان کی صحت بہت خراب ہوگئی ہو اور وہ روزہ نہ رکھنے کی پوزیشن میں ہوں تو اب وہ فدیہ دے سکتی ہیں _

* یہ صورت کہ عورت موجودہ رمضان کے روزے تو رکھ لے ، لیکن پچھلے چھوٹے ہوئے روزوں کا فدیہ دے دے ، فقہاء نے اسے جائز نہیں قرار دیا ہے _ موجودہ رمضان کے روزے رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کوشش کرے تو چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا بھی کرسکتی ہے _ بہر حال اس معاملے میں عورت کی ہمّت اور سکت کو ملحوظ رکھنا مناسب ہوگا _ اگر وہ جیسے تیسے موجودہ رمضان کے روزے تو رکھ لے رہی ہے ، لیکن پچھلے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا نہیں کرپارہی ہے تو میری رائے میں وہ بھی سابقہ چھوٹے ہوئے روزوں کا فدیہ ادا کرسکتی ہے _

* چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا جلد از جلد کرنی چاہیے _ زندگی کا کیا بھروسا؟! پتہ نہیں ، کب مہلتِ عمل ختم ہوجائے؟ لیکن بہر حال ان کی قضا اگلے رمضان سے قبل کرنا ضروری نہیں ہے _ اگر نہ کی جا سکی ہو تو بعد میں جب توفیق ہو ، قضا کی جاسکتی ہے _

* بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کا شمار ایسے مریضوں میں کیا گیا ہے جو روزے نہ رکھ کر اس کا فدیہ دے سکتے ہیں _ احکامِ روزہ کے ضمن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَعَلَى الَّذِيۡنَ يُطِيۡقُوۡنَهٗ فِدۡيَةٌ طَعَامُ مِسۡكِيۡنٍؕ (البقرۃ :184)
” جو لوگ بہ مشکل روزہ رکھ سکتے ہوں وہ فدیہ دیں _ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے _”
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” اس آیت کا حکم اس بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے لیے ہے جو روزہ رکھنے کی بہ آسانی طاقت نہ رکھتے ہوں _”
( بخاری : 4505)

* اس آیت میں ایک روزہ کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا بتایا گیا ہے _ کتنے وقت کا کھانا مراد ہے؟ اس کی صراحت نہیں ہے _ بعض حضرات نے ایک وقت کا کھانا مراد لیا ہے ، لیکن روزہ میں چوں کہ سحری اور افطار دونوں آتے ہیں ، اس لیے جمہور فقہاء اس سے دو وقت کا کھانا مراد لیتے ہیں _

* کوئی شخص ایک روزہ کے فدیہ کے طور پر ایک غریب شخص کو اپنے گھر بلا کر کھانا کھلاسکتا ہے _ پورے رمضان کے روزوں کا فدیہ ادا کرنا ہو تو 30 غریبوں کو دو وقت یا 60 غریبوں کو ایک وقت کا کھانا کھلایا جاسکتا ہے _ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ، جب وہ بہت بوڑھے ہوگئے تھے ، ایسا ہی کرتے تھے _

* فدیہ میں دو وقت کے کھانے کے بہ قدر راشن بھی دیا جاسکتا ہے _

* فدیہ میں کھانے کی رقم بھی دی جاسکتی ہے _ اس کا تعین ہر شخص اپنی حیثیت کے اعتبار سے کرے کہ دو وقت کے اس کے کھانے کی مالیت کیا ہوگی؟

* ایک مہینہ کے روزوں کے فدیہ کی رقم کسی ایک شخص کو دی جاسکتی ہے ، یا ایک سے زیادہ لوگوں کو بھی _

* فدیہ کی پوری رقم رمضان کی ابتدا میں بھی ادا کی جاسکتی ہے ، اس کے وسط میں بھی اور اس کے آخر میں بھی _

* بعض فقہاء نے روزہ کے فدیہ کو صدقۂ فطر پر قیاس کیا ہے _ ان کی رو سے ایک روزہ کا فدیہ نصف صاع گیہوں کے بہ قدر ہے _ جدید وزن کے مطابق نصف صاع تقریباً پونے دو کلو کے برابر ہوتا ہے _ اس حساب سے قیمت کا اندازہ لگا کر فدیہ ادا کیا جاسکتا ہے _

* فدیہ کے احکام مال دار اور اوسط معاشی حیثیت کے مسلمانوں کے لیے ہیں _ جو شخص غریب ہو اور دائمی مرض یا بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتا ہو ، اس کے لیے توبہ و استغفار کافی ہے _ اسے فدیہ کی رقم جمع کرنے اور صدقہ کرنے کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں _ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے _

***