موجودہ حالات میں احتیاط جہاد ہے۔معصوم زندگیوں کی بقاء کیلئے احتیاط ضروری

از: ڈاکٹر تبریز حسین تاج
صحافی و اسکالر، حیدرآباد

 

دنیا بھر میں کویڈ19یعنی کرونا کی دوسری لہربے حد عروج پر ہے۔سارا عالم کانپ رہا ہے۔بچے بڑے بوڈھے مر د وخواتین سب کے سب پریشان ہیں۔کئی ملکوں میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔حالات اب سے ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ہندوستان میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے رواں برس صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ہرگزرتے دن کے ساتھ کرونا کیسوں میں لگاتا راضافہ ہورہا ہے۔گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران15لاکھ سے زائد کیسس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ابھی بھی کیسوں کے بڑھنے کا سلسلہ تھم نہیں رہا ہے۔کروناسے انسداد کا ٹیکہ بھی لگایا جارہا ہے۔ ملک میں ٹیکہ کاری کی مہم بھی تیازی سے شب وروزجاری ہے۔
مسلم طبقے میں سوشیل میڈیا اور دیگر زرائع سے یہ افواہیں گزشت کررہی ہیں کہ یہ مسلمانوں کو ختم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے۔کرونا کے نام پر دیا جانے والا ٹیکہ آبادی پر کنڑول کا ہے اس سے مرد بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کھودیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اِن افواہوں پر زور بھی دیا جارہا ہے۔بے بنیاد باتیں اس طرح کہی جارہی ہیں کہ کرونا ورنا کچھ نہیں ہے یہ محض یہود اور نصارکی سازش ہے۔ چندعلمائے دین فرض انسانیت اداکرتے ہوئے اس طرح کی افواہوں کو بدگمانی اور بدخیال سے تعبیر کرتے ہوئے اس کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔یہ دشمنان اسلام یا حکومت ہند کی سازش نہیں ہے اگر سازش سمجھ کر احتیاط نہیں برتو گے تو اپنی اور اپنون کی جان کو خطرے میں ڈالوگے۔کرناٹک کے مشہور عالم دین سید محمد تنویر ہاشمی، صدر جماعت اہلسنت کرناٹک نے خود ویکسن لی ہے اور تمام اہل افراد سے ٹیکہ لینے کی اپیل کی ہے۔مولانا سید تنوہر ہاشمی نے اسلامی اسکالرس، مساجد کے اماموں سے اپیل کی ہے کہ کرونا کے انسداد کے ٹیکے اور ٹیکہ کاری مہم کے تئیں عوام میں شعور بیدار کرائیں۔اس طرح علمائے دین کی جانب سے ٹیکہ کاری مہم کی حمایت کے بعد اب افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہئے بلکہ ہم کو بھی مہم کا حصہ بننا چاہئے۔
آگے بڑھنے سے قبل ایک بارنظر تازہ صورتحال پر ڈالتے ہیں۔ممبئی کی ایک لیڈی ڈاکٹر کا دردمندانہ ویڈیو سوشیل میڈیا پر گزشت کررہا ہے۔ ممبئی شہرمیں کس طرح کی صورتحال ہے۔تمام دواخانے مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔آکسیجن سلینڈرس، بسترس، ایمولینس کی شدید قلت پیش آرہی ہے۔ایسی صورتحال صرف ممبئی شہر تک محدود نہیں ہے بلکہ دیگر شہروں کی بھی ایسی ہی سنگین صورتحال ہے۔آج ملک میں ایسی بدترین صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟میں تو صرف اِس کے لئے گزشتہ ستربرسوں سے ووٹ ڈالنے والی جنتا کو ہی ذمہ دار مانتا ہوں۔کیونکہ ہم نے اپنی آنکھوں پرعقیدے اور آستھا کا چشمہ لگا کر ووٹ دیا ہے۔ہم نے ووٹ دیتے ہوئے بنیادی چیزوں کے بارے میں ایک لمحے کیلئے بھی نہیں سوچا ہے۔کیونکہ ہمارے اندر آستھا کا جنون منشیات سے زیادہ مضر اثرات پیداکرہا ہے۔ہمیں آستھا انسانیت کی بقاء کیلئے ہونی تھی ہم نسانوں کو بانٹ کیلئے آستھا کا استعمال کررہے ہیں۔درد مند اور ضرورت مند کو آستھا کے چشمے سے نہیں بلکہ انسانیت کے چشمے سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ درد مند اور ضرورت کا کوئی دھرم نہیں ہوتا ہے وہ لاچار اور بے بس ہوتا ہے۔آج بھی اِس پُر آشوب دور میں ذات پات اور مذہب سے اُٹھ کرلو گ انسانیت کے خاطر درد مندوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لئے آگے آرہے ہیں۔کاش یہ سوچ و فکر ہمیں رائے دہی کے موقع پر آتی تو شائد ملک میں ایسی بدترین نوبت نہیں آتی۔ملک بنیادی ضرورتوں کی کمی سے دوچار نہیں ہوتا۔آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں ایک جانب کرونا کا قہر ہے چند ریاستوں میں کرفیو اور لاک ڈاؤن جیسی صورتحال ہے۔ لیکن انتخابی والی ریاستوں میں کویڈاُصولوں کی دھجیاں خود قانون سازوں کے ہاتھوں اُڑائی جارہی ہیں۔جنتا کو آخر کب سمجھ آئیگی یہ بات کہ اس دیش کا مالک وہ ہے۔
خیر اِس مضمون میں اس موضوع پر زیادہ گفتگونہیں کریں گے سیدھے سیدھے مقصد کی بات کریں گے۔اب ہمیں کیا کرنا ہے۔
سب سے پہلے کرونا سے بچنے کیلئے احتیاطی اصولوں پر سختی سے عمل کرنا ہے۔ یہ عمل کسی اور کیلئے نہیں بلکہ اپنے آپ کی حفاظت اور اپنوں کی حفاظت کیلئے ہے۔رمضان کا مہینہ ہے۔ عبادتوں کا مہینہ، رحمت کے نزول کا مہینہ ہے۔ہمیں عبادتوں کے نا م پر لوگوں کوجمع نہیں کرنا ہے۔مساجد میں بھی سماجی فاصلے کا احترام کرنا چاہئے۔ماسک کے استعمال کو یقینی بنانا ہے۔صفائی کا خیال کرنا ہے۔کیونکہ احتیاط ہی اس وباء کا بہترین علاج ہے۔ہمارے چند نوجوانوں کو یہ بدگمانی ہے کہ ہم نے گزشتہ سال بھی ماسک نہیں پہنا ہمیں کچھ نہیں ہوا اس بار بھی کچھ نہیں ہوگا۔اللہ کرے کچھ نہ ہی ہو۔پر آپ اپنے اور اپنے خاندان پر ظلم کررہے ہیں۔آپکے اندر قوت مدافعت اچھی ہوگی آپ برداشت کرسکتے ہونگے آپ کو کرونا ہوگیا بھی ہوگا شائد اپ کی طاقتور قوت مدافعت کی وجہ پتہ نہیں چلا لیکن آپ کے ماسک نہ پہننے سے سینکڑوں کمزور متاثر ہوگئے ہونگے اور ہوبھی رہے ہونگے۔اپنی قوت مدافعت پرناز مت کرو خدا کے واسطے ماسک کا استعمال کرکے دوسروں پر رحم کرو کیونکہ یہ وقت کا تقاضہ ہے۔یہاں ہمیں تکرار کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اُصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔بے موت مرنے قبرستانوں کی زینت بننے سے پہلے ذرا سوچو آپ کیا کررہے ہیں۔ کیونکہ لوگوں کی موت کی وجہ بن رہے ہیں۔
میرا بھی یہی عقیدہ ہے کہ موت کا وقت اور جگہ معین ہے۔اور ہر نفس کو موت کا مزہ چکنا ہے۔کیونکہ زندگانی پانی کا بلبلہ ہے۔موت حق ہے۔سوائے رب کے ہر چیز فانی ہے۔لیکن غفلت برت کرجان بوجھ کرقواعد کی خلاف ورزی کرکے موت کی آغوش میں جانا خودکشی ہے۔جو اسلام میں حرام ہے۔اور اپنی لاپرواہی سے دوسروں کو موت کے منہ میں ڈھکیلناقتل کے مترادف ہے۔بے وجہ کسی ایک معصوم انسان کا قتل ساری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔کرونا کی اِس مشکل گھڑی میں مذہب اور ذات پات سے اُٹھ کر ساری انسانیت کو بچانے کی کوشش کرنا جہاد ہے۔اس نیک کام کیلئے ہمیں صرف ضرورت پڑھنے پر ہی گھروں سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔غیرضروری محلے کے چبوتروں پر بیٹھ کر شپ بسری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہمیں ہرحال میں ماسک کا استعمال کرنا چاہئے۔ سماجی فاصلے پر عمل کرنا چاہئے اور صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔کیونکہ اب ہواؤں میں بھی ذہر گھل گیا ہے۔فضاء بھی ذہر آلود ہے۔آپ بس صرف اتنا کرو اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرو۔خودکشی بھی نہیں ہوگی کسی کا قتل بھی نہیں ہوگا۔۔اسلامی تعلیمات ہمیں یہی درس دیتے ہیں کہ جب بھی وباء آتی ہے تو ہمیں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔احتیاط کریں سجدے شکر بجالائیں اپنے رب کا راضی کریں۔
یہ بندوں کا بنایا ہوا ہے انسانوں کی کارستانی ہے وغیرہ وغیرہ اُس پر بحث نہیں کرونگا۔کیونکہ میرا تویہ یقین کامل ہے قہر تو اللہ کی جانب سے ہی برپا ہوتا ہے کیونکہ اللہ کی ایک صفت قہار بھی ہے۔لیکن اُس رب سے دعا ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کیلئے رحم کرے کرم کرے اس دنیا سے اس مہلک وباء کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ کرے۔کیونکہ وہ رحم اور کرم کا معاملہ کرتا ہے توپل بھر میں کایا پلٹ سکتی ہے۔ حالات بدل سکتے ہیں۔ہم نے گزشتہ سال یہ دیکھ چکے کہ کسی کے اپنے چھوٹ گئے کسی کے سپنے ٹوٹ گئے۔ یہی دعا ہے کہ اس سال نہ کسی کے اپنے چھوٹ جائے اور نہ کسی کے سپنے ٹوٹ جائے۔