صدقۂ فطر ۔ اس کا وقت اور اس کی حکمت

شمشیر عالم مظاہری ۔ دربھنگوی
امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار ۔
صدقۂ فطر واجب ہے فرض نہیں اور صدقۂ فطر کے واجب ہونے کے لئے صرف تین چیزیں شرط ہیں۔ (1) آزاد ہونا (2) مسلمان ہونا (3) کسی ایسے مال کے نصاب کا مالک ہونا جو اصلی ضرورتوں سے فارغ ہو،  اور قرض سے بالکل یا بقدر ایک نصاب کے محفوظ ہو اس مال پر سال کا گزر جانا شرط نہیں نہ مال کا تجارتی ہونا شرط ہے نہ صاحب مال بالغ ہونا اور عاقل ہونا شرط ہے یہاں تک کہ نابالغ بچوں اور مجنوؤں پر صدقۂ فطر واجب ہے ان کے اولیاء کو ان کی طرف سے ادا کرنا چاہیے اور اگر ولی نہ ادا کرے اور وہ اس وقت خود مالدار ہوں تو بالغ ہو جانے کے بعد یا جنون زائل ہوجانے کے بعد خود ان کو عدم بلوغ یا جنون کے زمانے کا صدقۂ فطر ادا کرنا چاہیے ۔
صدقۂ فطر کا حکم نبی کریم صلی اللہ وسلم نے اسی سال دیا تھا جس سال رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تھے۔ صدقۂ فطر کی مصلحت یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ دن خوشی کا ہے اور اس دن اسلام کی شان و شوکت کثرتِ جمعیت کے ساتھ دکھائی جاتی ہے اور صدقۂ فطر دینے سے یہ مقصود خوب کامل ہو جاتا ہے علاوہ اس کے اس میں  روزہ کی تکمیل ہے صدقۂ فطر کے دینے سے روزہ مقبول ہو جاتا ہے اور اس صدقہ میں حق تعالیٰ کا عظیم الشان احسان کہ اس نے ماہ مبارک سے مشرف کیا اور اس میں روزہ رکھنے کی ہم کو توفیق دی اور کچھ اداۓ شکر بھی ہے (علم الفقہ)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے مسلمانوں میں سے ہر غلام اور آزاد پر اور ہر مرد و عورت پر اور ہر چھوٹے بڑے پر صدقۂ فطر لازم کیا ہے،ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو۔  اور حکم دیا ہے کہ یہ صدقۂ فطر نمازِ عید کے لئے جانے سے پہلے ادا کر دیا جائے (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
زکوۃ کی طرح صدقۂ فطر بھی دولتمندوں ہی پر واجب ہے چونکہ یہ بات مخاطبین خود سمجھ سکتے تھے اس لئے اس حدیث میں اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ اس حدیث میں ہر فرد کی طرف سے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یہی دوچیزیں اس زمانہ میں مدینہ منورہ اور اس کے گرد ونواح میں عام طور سے بطور غذا کے استعمال ہوتی تھیں اس لئے اس حدیث میں انہی دو کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس زمانہ میں ایک چھوٹے گھرانے کی غذا کے لئے ایک صاع کھجوریں یا ایک صاع جو کافی ہوتے تھے، اس حساب سے ہر دولت مند گھرانے کے ہر چھوٹے بڑے فرد کی جانب سے عید الفطر کے دن اتنا صدقہ ادا کرنا ضروری قرار دیا گیا جس سے ایک معمولی گھرانے کے ایک دن کے کھانے کا خرچ چل سکے۔ ہندوستان کے اکثر علماء کی تحقیق کے مطابق رائج الوقت سیر کے حساب سے ایک صاع قریباً ساڑھے تین سیر کا ہوتا تھا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے روزوں کو فضول و لا یعنی اور فحش باتوں کے اثرات سے پاک صاف کرنے کے لئے اور مسکینوں محتاجوں کے کھانے کا بندوبست کرنے کے لیے صدقۂ فطر واجب قرار دیا (سنن ابی داؤد)
اس حدیث میں صدقۂ فطر کی دو حکمتوں اور اس کے دو خاص فائدوں کی طرف اشارہ فرمایا گیاہے ایک یہ کہ مسلمانوں کے جشن و مسرت کے اس دن میں صدقۂ فطر کے ذریعہ محتاجوں مسکینوں کی بھی شکم سیری اور آسودگی کا انتظام ہو جائے گا۔ اور دوسرے یہ کہ زبان کی بے احتیاطیوں اور بے باکیوں سے روزے پر جو برے اثرات پڑے ہوں گے یہ صدقۂ فطر ان کا بھی کفارہ اور فدیہ ہو جائے گا ۔
صدقۂ فطر کے مسائل حسب ذیل ہیں ۔
(1) صدقۂ فطر ہر مسلمان پر جب کہ وہ بقدرِ نصاب مال کا مالک ہو واجب ہے ۔
(2) جس شخص کے پاس اپنی استعمال اور ضروریات سے زائد اتنی چیزیں ہوں کہ اگر ان کی قیمت لگائی جائے تو ساڑھے باون تولے چاندی کی مقدار ہوجائے تو یہ شخص صاحب نصاب کہلائے گا اور اس کے ذمہ صدقۂ فطر واجب ہوگا (چاندی کی قیمت بازار سے دریافت کرلی جائے)
(3) ہر شخص جو صاحب نصاب ہو اس کو اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے اور اگر نابالغوں کا اپنا مال ہو تو اس میں سے ادا کیا جائے
(4) جن لوگوں نے سفر یا بیماری کی وجہ سے یا ویسے ہی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے روزے نہیں رکھے صدقۂ فطر ان پر بھی واجب ہے جب کہ وہ کھاتے پیتے صاحب نصاب ہوں
(5) جو بچہ عید کی رات صبحِ صادق طلوع سے پہلے پیدا ہوا اس کا صدقۂ فطر لازم ہے اور اگر صبحِ صادق کے بعد پیدا ہوا تو لازم نہیں
(6) جو شخص عید کی رات صبحِ صادق سے پہلے مر گیا اس کا صدقۂ فطر نہیں اور اگر صبحِ صادق کے بعد مرا تو اس کا صدقۂ فطر واجب ہے
(7) عید کے دن عید کی نماز کو جانے سے پہلے صدقۂ فطر ادا کر دینا بہتر ہے لیکن اگر پہلے نہیں کیا تو بعد میں بھی ادا کرنا جائز ہے اور جب تک ادا نہیں کرے گا اس کے ذمے واجب الادا رہے گا
(8) صدقۂ فطر ہر شخص کی طرف سے پونے دو سیر گندم یا اس کی قیمت ہے اور اتنی قیمت کی اور چیز بھی دے سکتا ہے
(9) ایک آدمی کا صدقۂ فطر ایک سے زیادہ فقیروں محتاجوں کو دینا بھی جائز ہے اور کئی آدمیوں کا صدقہ ایک فقیر محتاج کو بھی دینا درست ہے
(10) جو لوگ صاحب نصاب نہیں ان کو صدقۂ فطر دینا درست ہے
(11) اپنے حقیقی بھائی، بہن، چچا، پھوپھی، کو صدقۂ فطر دینا جائز ہے میاں بیوی ایک دوسرے کو صدقۂ فطر نہیں دے سکتے اسی طرح ماں باپ اولاد کو اور اولاد ماں باپ دادا دادی کو صدقۂ فطر نہیں دے سکتی
(12) صدقۂ فطر کا کسی محتاج فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے اس لیے صدقۂ فطر کی رقم مسجد میں لگانا یا کسی اور اچھائی کے کام میں لگانا درست نہیں
(14) شادی شدہ لڑکی کا فطرہ کس پر واجب ہے؟ اگر وہ لڑکی مالدار ہے تو خود اس کے مال میں صدقۂ فطر واجب ہے خواہ بالغ ہو یا نابالغ اور اگر مالدار نہیں تو بالغ ہے تو کسی کے ذمہ نہیں اور اگر مالدار نہیں اور نا بالغ ہے اور رخصت نہیں ہوئی تو باپ کے ذمہ اور اگر رخصت ہوگئی تو باپ کے ذمہ نہیں (امداد الفتاویٰ)
(15) اگر کسی شخص کے پاس اتنا ہی غلہ موجود ہو کہ کچھ لوگوں کا صدقہ ادا کرسکتا ہے اور کچھ لوگوں کا ادا نہیں کرسکتا تو ان لوگوں کا صدقہ پہلے ادا کرے جن کے نفقہ کی تاکید زیادہ ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نفقہ ( خرچہ) کو بیوی کے نفقہ پر اور بیوی کے نفقہ کو خادم کے نفقہ پر مقدم فرمایا ہے۔ مسلمان مرد پر اس کا، اس کی بیوی، بچوں، غلاموں اور ان رشتہ داروں کا صدقۂ فطرادا کرنا واجب ہے جن کا خرچہ اس پر ہے جیسے باپ،دادا،ماں،نانی، وغیرہ (احیاء العلوم)
(17) اگر کسی نے عید کے دن صدقۂ فطر نہ دیا ہو تو معاف نہیں ہوا اب کسی دن بھی دے دینا چاہیے (بہشتی زیور بحوالہ ہدایہ)
(18) جو سحری کے لیے اٹھاتا ہے اس کو فطرہ دینا۔ صدقۂ فطر کا مال اس شخص کو دینا جو سحری کے لئے لوگوں کو اٹھاتا ہو جائز ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ اس کو اس کی اجرت میں قرار نہ دے بلکہ پہلے کچھ اور اس کو دے دے اس کے بعد صدقۂ فطر کا مال دے (علم الفقہ)
(19) جو جوان لڑکے اپنی کمائی باپ کو دیتے ہیں ان کے فطرے کا حکم۔ ایک شخص کے دو لڑکے ہیں جو کچھ کماتے ہیں باپ کو دیتے ہیں لڑکوں کے پاس کچھ نہیں ہے تو ایسی حالت میں ان بھائیوں پر صدقۂ فطر، زکوٰۃ، یا قربانی واجب ہے یا نہیں؟ ان پر زکوٰۃ اور صدقۂ فطر اور قربانی واجب ہے (فتاویٰ دارالعلوم بحوالہ رد المحتار)
(20) صدقۂ فطر میں شہر یا ضلع کی قیمت کا اعتبار۔ اپنی بستی کے حساب سے صدقۂ فطر ادا کرنا چاہیے اگر وہاں گندم نہ ملیں تو آٹا کی قیمت کا حساب کرنا چاہیے یا جوار اور چھوہارے کے صاع کی قیمت کا حساب کرنا چاہیے غرض جو جنس ( منصوص یعنی جن کا حدیث میں ذکر ہے مثلاً گیہوں، چھوہارے،  منقى ، جو کا ایک صاع) وہاں ملتی ہو اس کی قیمت کا حساب کیا جائے (فتاویٰ دارالعلوم بحوالہ ردالمحتار)
اللہ تعالیٰ غریبوں یتیموں مسکینوں اور لاچار بے بس لوگوں پر اپنی رضا کے لئے زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین