لاک ڈاؤن کے اوقات میں توسیع کے بعد اکثر مساجد میں نمازِ جمعہ کا اہتمام بحال

 

از :- سیف الاسلام فاروقی، حیدرآباد

 

اللہ کے نیک بندے لاک ڈاون کے دوران اپنے خالق، مالک اور آقا کے گھر سے دوری کو ختم کرنے کی مسلسل دعائیں کر رہے تھے جو لاک ڈاؤن کے اوقات میں توسیع کی شکل میں اللہ رب العزت نے کسی حد تک قبول کرلیں۔۔ چنانچہ آج تمام مسلمانوں نے مکمل احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھتے ہوئے مساجد میں نمازِ جمعہ ادا کی، الحمدللہ

لیکن ساتھ میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض مساجد کے منتظمین نے حکیمانہ تدابیر اختیار کرتے ہوئے نمازِ جمعہ کی ادائیگی کو ممکن بنانے کے بجائے ڈر خوف کو خود پر مسلط کرتے ہوئے مصلیوں کو مسجد میں داخلے ہی سے محروم کردیا، اس کے علاوہ بعض مساجد کے منتظمین نے تو انتہاء پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محلے اور پڑوس کے مصلیوں کو بھی نمازِ جمعہ ادا کرنے سے محروم کردیا، ایسے افراد کو افراتفری کے عالم میں دوسری مساجد کی تلاش میں دوڑ دھوپ کرتے ہوئے دیکھا گیا –

جب مساجد کے منتظمین اپنے آپ کو مسجد اور مصلیوں کے خادم سمجھنے کے بجائے فلاں فلاں عہدیدار سمجھنے کے مرض میں مبتلا ہوجائیں تب وہ شطرِ بے مہار ہوکر اپنی من مانی کرنے لگتے ہیں –
میری دانست میں اس کمزوری کو دور کرنے کے لئے ذیل کی دو تدابیر اختیار کی جائیں تو نہ صرف فائدہ مند ثابت ہوں گی بلکہ ملت میں اتحاد کی بنیادیں بھی مضبوط ہوں گی، ان شاء اللہ

ا) مساجد کا انتظامیہ ہمیشہ اللہ رب العزت کی رضا اور خوشنودی کو مدنظر رکھے اور نصوص و اصول پر عمل کرتے ہوئے مسجد کے اہم معاملات میں ملت کے اہلِ حل و عقد سے مشورے کا دائرہ وسیع کرے، اس کے لئے تنگی دل کے مرض سے دوری اشد ضروری ہے –

ب) مساجد کے انتظامیہ کے احباب ہمیشہ عہدوں کی درجہ بندی سے آزاد رہیں اور اگر ممکن ہو تو مسجد میں داخل ہونے سے قبل ہی دروازے پر اپنے جوتے چپل کے ساتھ عہدوں کو چھوڑ کر اللہ عزوجل کے گھر میں ایک حقیر خادم کی حیثیت سے داخل ہوں –

مساجد کے معاملات میں چاہے مصلی ہوں یا خادمین سب پر ہی روزِ قیامت ظالم قرار پانے کے امکانات سے لرزہ طاری ہونا چاہیئے جو اللہ کے گھروں میں مصلیوں کو اس کے نام کی یاد سے روکیں اور اپنی من مانی کرنے کے درپے ہوں؟ ایسے لوگ یقیناً دنیا میں رسوائی کا سامنا کریں گے اور آخرت میں عذاب عظیم ان کا مقدر ہوگی –