دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری ملزمین نے گلزا راعظمی سے ملاقات کی

ممبئی _ دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ نو سال سے زائد عرصہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید دو ملزمین خصوصی این آئی اے عدالت سے باعزت بری کیئے جانے کے بعد انہیں قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی سے ملاقات کی اور انہیں قانونی امداد دینے کے لیئے شکریہ ادا کیا اور ان سے سزا یافتہ ملزمین کی جیل سے رہائی کے لیئے کوشش کرنے کی درخواست کی۔
محمد الیاس اور محمد عرفا ن تلوجہ جیل سے رہا ہونے کے بعد دفتر جمعیۃعلماء واقع اما م باڑہ روڈتشریف لائے جہاں انہوں نے وکلاء انصار تنبولی اور شاہد ندیم کی موجودگی میں گلزار اعظمی سے ملاقات کی۔دوران ملاقات دونوں نوجوانو ں نے گلزار اعظمی سے کہا کہ جمعیۃ علماء کی کوششوں سے آج وہ جیل سے رہا ہوچکے ہیں ورنہ یو اے پی اے قانون کے تحت مقدمات کا سامنا کررہے ملزمین کے مقدمات دس دس سال گذر جانے کے باوجود شروع نہیں ہوسکے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جمعیۃ علماء کے وکلاء کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے ایڈوکیٹ عبدالوہا ب خان اور ایڈوکیٹ شریف شیخ نے جس طریقے سے مقدمہ لڑا ان کی جتنی پذیرائی کی جائے کم ہے، انہوں نے کہا کہ حالانکہ پانچ میں تین ملزمین کو سزا ہوئی لیکن مقدمہ جس نہج پر لڑا گیا، ہائی کورٹ سے یقینا سزا یافتہ ملزمین کو راحت حاصل ہوگی کیونکہ پورا مقدمہ جھوٹے ثبوت و شواہد کی بنیاد پر بنایا گیا تھا جسے دفاعی وکلاء نے بڑے احسن طریقے سے عدالت کے سامنے پیش کیا۔
دوران ملاقات گلزار اعظمی نے کہا کہ یقینا نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور تینوں ملزمین کی فوری جیل سے رہائی کے لیئے ہائی کورٹ میں پیرول کی عرضداشت داخل کرنے کے لیئے وہ وکلاء سے صلاح و مشورہ کریں گے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جلداز جلد مقدمہ کا فیصلہ ہو اور مسلم نوجوانو ں کو راحت ملے لیکن ہندوستانی عدالتی نظام ہی اتنا فرسودہ ہوچکا ہے کہ ایک بے قصورکو اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں دسیوں سال لگ جاتے ہیں۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ وہ ہ عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں لیکن نچلی عدالت سے تین ملزمین کو ملنے والی سزا کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائیگا تاکہ انہیں بھی انصاف دلایا جاسکے۔
واضح رہے کہ گذشتہ کل ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت کے جج دنیش کوٹھلیکر دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار پانچ ملزمین کے مقدمہ کا فیصلہ سنایا جس کے مطابق عدالت نے ملزمین محمد عرفان غوث اور محمد الیا س محمد اکبر کو ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے باعزت بری کردیا جبکہ ملزمین محمد مزمل عبدالغفور، محمد صادق محمد فاروق اور محمد اکرم محمد اکبرکو قصور وار ٹہراتے ہوئے انہیں دس سال قید با مشقت اوردس ہزار جرمانہ کی سزا سنائی تھی اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید ایک سال قید کی سزا کا حکم دیا تھا، سزا یافتہ ملزمین کو یو اے پی اے قانون کی دفعات 18,20,38 اور آرمس ایکٹ کی دفعہ 3,5,25,27کے تحت سزا ہوئی۔