کھمم کے کانگریس قائد محمدمصطفی پر پی ڈی ایکٹ کے تحت کاروائی

کھمم _ کھمم شہر کے کانگریس قائد محمد مصطفی پر پی ڈی ایکٹ کے تحت کاروائی کی گئی ہے۔ محمد مصطفی کانگریس کارپوریٹر رفیدہ بیگم کے شوہر ہیں شوہر کے خلاف پی ڈی ایکٹ کے تحت کاروائی کو رفیدہ بیگم نے سیاسی سازش قرار دیا اور کہا کہ کھمم رکن اسمبلی وریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پی اجے کمار اپنے آپ کو اقلیتوں کے ہمدرد کے طور پر پیش کرتے ہیں  کھمم کارپوریشن کے انتخابات ماہ  اپریل 2021 میں منعقد ہوئے تھے انتخابات میں محمد مصطفی کے اہلیہ محترمہ رفیدہ بیگم کو کھمم بلدیہ کارپوریشن کے 57ویں ڈویژن سے کانگریس پارٹی کی جانب سے ٹکٹ دیا گیا محترمہ رفیدہ بیگم نے ٹی آر ایس امیدوار کے خلاف شاندار کامیابی درج کروائی واضح رہے کہ محمد مصطفی ٹی آر ایس پارٹی میں تھے اور وہ کھمم کے سابق رکن پارلیمان پی سرینواس ریڈی کے قریبی رفیق تھے محمد مصطفی نے کھمم بلدیہ انتخابات کے وقت ٹی آر ایس کو  خیرآباد کہتے ہوئے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی  مدھیرا کے رکن اسمبلی و سی ایل پی قائد بھٹی نے محمد مصطفی کا کانگریس پارٹی میں شاندار استقبال کیا تھاانتخابات کے دوران محمد مصطفی پر کھمم سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پی اجے کمار نے پولیس کے ذریعے 5مقدمات درج کروائی صرف مصطفی کا جرم اتنا تھا کہ وہ ٹی آر ایس چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی اس وقت سے حکمران جماعت کے وزیر محمد مصطفی کے افراد خاندان پر پولیس کے ذریعے بے جا  مقدمات درج کرواتے ہوئے ایک منتخب عوامی نمائندے کے افراد خاندان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں گزشتہ ماہ کھمم شہر کے 57ڈویزن میں سڈا چیرمین بی وجے کمار کے ہمراہ ٹی آر ایس قائدین سکشت خردہ ٹی آر ایس کارپوریٹر کو لیکر کلیان لکشمی چکس تقسیم کرنے پہنچیں جس پر مقامی افراد اور کانگریس کارکنان نے سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ عوام کی جانب سے منتخبہ کارپوریٹر کو اطلاع دیے بغیر چکس تقسیم کرنا کہا انصاف ہے بس  اتنا کہنا تھا کے ٹی آر ایس کارکنان نے پھتروں کی بارش کردی جس میں کانگریس کے دو کارکنان کے سر پھٹ گئے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مماثل ٹی آر ایس قائدین پر کھمم 2ٹون پولیس نے معمولی مقدمات درج کرتے ہوئے رہا کردیا گیا اور کانگریس کارکنان پر سنگین دفعات کے تحت غیر ضمانتی مقدمات درج کیے گئے بشمول 307کے بھر حال آج محمد مصطفی کے علاوہ دیگر 10افراد کو ضمانت منظور ھوی مگر محمد مصطفی کی آج رہائی  سے قبل ہی پی ڈی ایکٹ مقدمہ بھی درج کر دیا گیا واضح رہے کہ پی ڈی مقدمہ ان لوگوں پر لگا یا جاتا ہے کہ جس کے متعلق سنگین جرم کرنے کا گمان رہے مثلاً امن و ضبط کو خطرہ لاحق ہو ایسے افراد پر پی ڈی ایکٹ مقدمہ درج کیا جاتا ہے واضح رہے کہ مشترکہ ریاست آندھرا پردیش میں 1986میں پی ڈی ایکٹ کو عمل میں لایا گیا اسی قانون میں ترمیم کے ساتھ 2018سے تلنگانہ حکومت ترمیم شدہ پی ڈی ایکٹ نافذ کر رہے ہیں تب سے ریاست تلنگانہ کی حکومت وقتاً فوقتاً پی ڈی ایکٹ کے غلط استعمال کرنے کے الزامات کا سامنا کررہی ہے سیاسی جماعتیں اور وکلاء اور دانشوران حضرات پی ڈی ایکٹ کی پرزور مخالف کر رہے ہیں اس لیے کہ پی ڈی ایکٹ دستور کے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں ریاستی ہائی کورٹ 3.9.2020کو محمد جعفر اور ریاستی حکومت کے درمیان میں چلے مقدمہ کی سماعت میں پی ڈی ایکٹ کو غلط استعمال کرنے پر ریاستی حکومت کی تنبیہ کرتے ہوئے خصوصی ہدایات بھی جاری کی باوجود اس کے پی ڈی ایکٹ اقلیتوں یس سی یس ٹی بی سی طبقات پر ہی جبرا لگا یا جا رہا ہے بھر حال ریاستی حکومت کی اس طعنے شاہی رویہ پر کھمم کے اقلیتی یس سی یس ٹی طبقات کے درمیان زبردست برہمی دیکھیں جارہی ہے اور کھمم کے عوام پی اجے کمار سے سوال کر رہے ہیں کہ اپنے نام کے آگے خان لگا کر اقلیتوں کے اوپر ظلم کررہے ہیں ریاست یو پی کے وزیر اعلی کی طرح پی اجے کمار پیش آرہے ہیں کھمم کے مسلمان اور تمام طبقات کے لوگ مصطفی کے اوپر ہورہے ظلم کے خلاف اقلیتی کمیشن اور ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے کھمم شہر میں جمہوری انداز میں ریاستی حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کرنے والے ہیں۔اسی دوران تلنگانہ پی سی سی کے صدر اتم کمار ریڈی اور سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرا مارک نے محمد مصطفی کے خلاف عائد پی ڈی ایکٹ کے خلاف پیر کے روز ڈی جی پی مہندر ریڈی سے نمائندگی کرنے کا اعلان کیا۔