جنرل نیوز

دارالعلوم دیوبند کے استاذِ حدیث ونائب مہتمم مولانا عبدالخالق سنبھلیؒ کے انتقال پر تعزیتی جلسہ

دارالعلوم دیوبند کے استاذِ حدیث ونائب مہتمم حضرت مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلیؒ کے انتقال پر علمی حلقوں میں کافی رنج وغم کا ماحول ہے۔ تاریخی شہر سنبھل میں مولانا سنبھلیؒ کے سانحہ ارتحال پر النور پبلک اسکول، سنبھل میں ایک تعزیتی جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر سنبھل کی سرکردہ شخصیات کے علاوہ دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء لکھنؤ اور دیگر مدارس کے فضلاء نے شرکت فرمائی۔ مفتی عبدالغفور سنبھلی نے مولانا سنبھلیؒ کی تواضع وانکساری پر گفتگو فرمائی اور فرمایا کہ استاذ محترم کے محاسن وخوبیاں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ان اوصاف کو پیدا کریں۔ ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی نے مولانا سنبھلی کی شخصیت اور خدمات پر گفتگو کے دوران کہا کہ مولانا سنبھلی نے خادم الاسلام ہاپوڑ میں 6 سال، جامع الہدی مرادآباد میں 3 سال اور دارالعلوم دیوبند میں 40 سال یعنی مجموعی طور پر 49 سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ مولانا عبدالخالق کا تعلق سنبھل (محلہ سرائے ترین) سے ہونے کی وجہ سے ان کی وفات پر سنبھل کے علماء بہت رنجیدہ ہیں کیونکہ مولانا سنبھلی کا آخری وقت تک اپنے وطن سنبھل سے خاص تعلق رہا۔ النور پبلک اسکول کا قیام بھی آپ کے دست مبارک سے عمل میں آیا۔

صدر جلسہ مولانا عبد المعید قاسمی، مولانا مملوک الرحمن برق، مولانا عمران ذاکر قاسمی، مولانا سہیل قاسمی، مولانا شاکر قاسمی، مولانا محب الرحمن قاسمی، مفتی مجیب الرحمن ندوی، مولانا نور الاسلام قاسمی، مفتی جنید قاسمی، مولانا حامد قاسمی، مولانا شمشاد ندوی، مولانا عمران قاسمی، مفتی احسان قاسمی اور ابوذر سلمان نے استاذ محترم کی زندگی کے مختلف پہلووں کو اجاگر کیا اور بتایا کہ مولانا خوش مزاج، متواضع اور سادگی پسند انسان تھے۔ مولانا کامیاب استاذ، بہترین قلم کار ہونے کے ساتھ اچھے مقرر بھی تھے۔ آپ عربی واردو زبان وادب کے ماہر تھے۔ آپ کی رحلت علمی دنیا کا بڑا نقصان ہے۔ آپ کی موت کی وجہ سے اہل علم میں ایک خلاء پیدا ہو گیا ہے جس کی تلافی تا دیر ممکن نہیں ہے۔

مفتی محمد جنید قاسمی اور مولانا تنظیم قاسمی نے بھی اپنے پیغام میں استاذ محترم کی وفات کو امت مسلمہ خاص کر دارالعلوم دیوبند کے لئے عظیم سانحہ قرار دیا۔ پروگرام کی صدارت مولانا عبدالمعید قاسمی نے جبکہ نظامت کے فرائض مولانا محمد نجیب قاسمی نے انجام دئے۔ مشیر خان ترین، مولانا عیسیٰ ذاکر قاسمی، مولانا وسیم اصغر ندوی، سعد نعمانی، مولانا طیب قاسمی، مفتی مجیب الرحمن قاسمی، مولانا محبوب عالم قاسمی، سید اسلم، حافظ فخر عالم، محمد سرفراز، محمد سہیم، صفوان راغب، قاری رفیع اور دیگر حضرات نے پروگرام میں شرکت کی اور آخر میں مولانا عبدالمعید قاسمی کی رقت آمیز دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا۔ جلسہ کا آغاز قاری حسیب الرحمن کی تلاوت قرآن مجید اور حافظ انتخاب کی نعت پاک سے ہوا۔ بعدہ قاری نعمان نے مولانا سنبھلی کی شخصیت سے متعلق منظوم کلام پیش کیا۔ آپ کے ہزاروں طلبہ دنیا کے چپہ چپہ پر موجود قرآن وحدیث کی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو موصوف کے لئے بہترین صدقہ جاریہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button