جنرل نیوز

اسلام۔میں نظام معیشت کا تصور اور سود کی معاشی و معاشرتی تباہ کاریاں

از- مفتی محمد عبد الحمید قاسمی
استاد جامعہ صدیقہ فیض العلم کریم نگر (تلنگانہ) 
اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو "امت وسط” کا امتیازی تمغہ عنایت فرماکر اسے ایمان و عقائد، عبادات و اعمال، تمدن و معاشرت اور اقتصاد و معیشت غرض زندگی کے ہر شعبہ میں ایک خاص اعتدال و توازن کی شان بخشی ہے، جو اسے تمام امتوں سے ممتاز کرتی ہے اس کا نظام معیشت رائج الوقت اور موجودہ دور کے نظاموں سے الگ تھلگ فطری اصولوں پر مبنی ایک پاکیزہ نظام ہے اسلام کا معاشی نظام افراط و تفریط سے پاک ایک متوسط اور عادلانہ نظام یے-
تقسیم معیشت کا قدرتی نظام :- اسلام کا معاشی نظام متوسط اور عادلانہ نظام ہے جسکی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے "نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَیۡنَہُمۡ  مَّعِیۡشَتَہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ رَفَعۡنَا بَعۡضَہُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ” (الزخرف:32) یعنی دنیوی زندگی میں ان کی روزی کے ذرائع بھی ہم نے ہی ان کے درمیان تقسیم کر رکھے ہیں اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے،مفتی محمد شفیع صاحبؒ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "اس آیت نے کھول کر یہ بات بتلادی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تقسیم معیشت کا کام (اشتراکیت کی طرح) کسی با اختیار انسانی ادارے کے سپرد نہیں کیا، جو منصوبہ بندی کے ذریعہ یہ طئے کرے کہ معاشرہ کی ضرورت کیا ہے؟ انھیں کس طرح پورا کیا جائے، وسائل پیداوار کو کس تناسب کے ساتھ کن کاموں میں لگایا جائے اور ان کے درمیان آمدنی کی تقسیم کس بنیاد پر کی جائے، اس کے بجائے یہ تمام کام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں اور اپنے ہاتھ میں رکھنے کا مطلب یہی ہے کہ ہر شخص کو دوسرے کا محتاج بناکر دنیا کا نظام ہی ایسا بنادیا ہے جس میں اگر ( اجارہ داریوں وغیرہ) کے ذریعہ) غیر فطری رکاوٹیں پیدا نہ کی جائیں تو وہ نظام خود بخود یہ تمام مسائل حل کر دیتا ہے (معارف القرآن پ25 سورة  الزخرف 32) اسی آیت کی تفسیر میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مد ظلہ العالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود ایسا نظام بنایا جس کے ذریعہ ہر شخص کو اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے دوسرے کا محتاج بنادیا ہے اسی باہمی احتیاج کی بنیاد پر ایک شخص دوسرے کی حاجتیں پوری کرتا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں (آسان ترجمہء قرآن1494/3)
بہرحال اسلام کا معاشی نظام کہ جسمیں فرد کی ملکیت اور اس کے اختیارات تصور کو پوری طرح تسلیم کیا گیا ہےمگر ساتھ ہی ساتھ اس پر مناسب پابندیاں بھی عائد کی گئیں ہیں، تاکہ دولت کے تمام وسائل کا ایک جگہ ارتکاز اور ذخیرہ اندوزی نہ ہو اس پاکیزہ نظام میں فرد و جماعت کے بجائے دونوں کے مفاد کو ایک دوسرے سے وابستہ کردیا گیا ہے، پہر اس نظام معیشت کی عادت کو ہمہ وقت استوار رکھنے کے لئے اسلام نے سخت قوانین وضع کے ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر کڑی سزائیں رکھیں ذخیرہ اندوزی اور ارتکاز دولت کی روک تھام کے لئے اس نے ہر صاحب مال کو موقع بروقت مال خر8 کرنے کی ترغیب دی-
چنانچہ قرآن اور حدیث کے اوراق انفاق فی سبیل اللہ کے فضائل  ومناقب اور بخل کی مذمت سے بھرے پڑے ہیں ہر صاحب نصاب زکوۃ و صدقات واجبہ نکالنے کا پابند کیا کہ اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں یا حقوق العباد میں خرچ کرنے کے بجائے خوب سمیٹ سمیٹ کر جمع کرتا ہے تو زکوۃ اور دوسرے حقوق واجبہ کی ادائیگی میں رفتہ رفتہ گھٹتے گھٹتے ایک دن یہ دولت از خود ختم ہوجائے گی۔۔۔ دوسری طرف مال کمانے میں بھی اسلام نے کسی فرد کو بے مہار نہیں چھوڑا کہ جن ذرائع سے چاہے دولت سمیٹ سمیٹ کر جمع کرے بلکہ اس کے لئے سخت ضوابط رکھے ہیں اور مال کمانے کا کوئی ایسا طریقہ روا اور جائز نہیں رکھا کہ جس میں دوسرے فرد یا جماعت کو نقصان ہو لھذا سود، قمر، رشوت، غصب، خیانت، چوری، ڈکیتی ناپ تول میں کمی، ناجائز منافع خوری وغیرہ تمام ناجائز آمدنی وغیرہ پر سختی سے قدغن لگائی، اکتساب زر اور مال کمانے کے تمام ناجائز ذرائع میں سود چونکہ سب سے بدتر اور انسانی معیشت بلکہ اخلاق و کردار کے لئے مہلک ترین ذریعہ اور معاشرتی زندگی کے لئے تباہ کن تھا اس لئے اسلام نے سب سے بڑھ کر قدغن لگائی اور اسکی تمام صورتوں کو یکسر حرام قرار دیکر سود خور کو خوفناک وریدیں سنائیں کہ فَاۡذَنُوۡا بِحَرۡبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ۚ  یعنی اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو۔ (البقرۃ : 279) یہ بات ہر ذی شعور شخص جانتا ہے کہ کسی کے خلاف اعلان جنگ کا کیا مطلب ہوتا ہے، ظاہر ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ جس شخص کے خلاف اعلان جنگ کرے اس کی محرومی اور بد بختی اور دنیا و آخرت کی مکمل تباہی و بربادی کا کیا اندازہ کیا جاسکتا ہے سود کے متعلق سات آیات اور چالیس احادیث سے زیادہ میں وریدیں بیان کی گئیں ہیں، اختصار کے پیش نظر راقم چند آیتیں جو نصوص قطعیہ ہیں رقم کرتا ہے ورنہ ان کے علاوہ اور بھی کئی آیات حرمت ربا و سود پر صراحتاً یا اشارةً دلالت کرنے والی ہیں مثلاً (1)وَ لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ  (البقرۃ(البقرۃ:188) (2) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ ترجمہ: اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ  (النسآء :29)
(3)وَّ اَخۡذِہِمُ الرِّبٰوا وَ قَدۡ نُہُوۡا عَنۡہُ وَ اَکۡلِہِمۡ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ ؕ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ مِنۡہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۶۱﴾
ترجمہ:اور سود لیا کرتے تھے، حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو لوگ کافر ہیں، ان کے لیے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔(4) سَمّٰعُوۡنَ لِلۡکَذِبِ اَکّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ(المآئدۃ: 42) ترجمہ: یہ کان لگا لگا کر جھوٹی باتیں سننے والے، جی بھر بھر کر حرام کھانے والے ہیں۔ (5) وَ مَاۤ  اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّیَرۡبُوَا۠ فِیۡۤ  اَمۡوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرۡبُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ  (الروم : 39) ترجمہ: اور یہ جو تم سود دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں شامل ہو کر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک بڑھتا نہیں ہے-
سود خور کے لئے وعیدیں احادیث کی روشنی میں:-
احادیث میں نبی کریم ﷺ نے سود خور کو اللہ اور اس کے رسول کی لعنت ہے تو کہیں ایک سودی درہم کے استعمال پر چھتیس زنا سے بدتر ہے تو کہیں سلب ایمان تو کہیں جھنم کا ایندھن تو کہیں مہلک ترین گناہوں میں سے تو کہیں اپنی ماں سے زنا کرنے کے برابر تو کہیں مال میں بے برکتی تو کہیں خون کی نہر میں فرشتہ کا اس کے منہ پر پتھر مارنا تو کہیں قیامت میں  مجنون اور مخطوط الحواس ہوکر اٹھایا جانا جیسی سختی وعیدیں ذکر فرمائی ہیں-
سود کے اخلاقی و معاشرتی نقصانات:-سود کے حرام ہونے کی ایک حکمت تو یہ ہے کہ وہ تمام اخلاقی قدروں کو پامال کرکے خود غرضی، بے رحمی،سنگ دلی، سرپرستی، کنجوسی، مفاد پرستی، زر طلبی،دنیا طلبی، آخرت سے بیزاری، طمع و لالچ، گالی گلوچ،ظلم، نا انصافی، قیامت قلبی،زر اندوزی کا جزبہ، حرص ناجائز کمانے کی، ہوس گیری، بغض و عداوت اور حسد جیسی مہلک صفات کو پیدا کرتا ہے، اس کے بر عکس اسلام ایک ایسے صحت مند معاشرہ کی تعمیر کرنا چاہتا ہے جو رحم و کرم، محبت و مودت ایثار تعاون اور بھائی چارے کی بنیاد پر قائم ہو، جس میں تمام انسان مل جل کر زندگی گزارے ایک دوسرے کے کام آسکے۔ غریبوں کی امداد کریں، دوسرے کے نفع کو اپنا نفع اور دوسرے کے نقصان کو اپنا نقصان سمجھے اور اس کے بر خلاف سود جس ذہنیت اور سوچ کو جنم لیتا ہے اس میں ان اخلاقی اوصاف کی کوئی جگہ نہیں ہے، نیز ایک دنیا دار انسان مال و دولت کے انبار اور جائداد اس لئے جمع کرتا ہے کہ اسے دنیا کا اطمینان اور سکون حاصل ہو اور سماج اور معاشرہ میں عزت اور با وقار زندگی بسر کر سکے،لیکن سود خور ظاہری مال و دولت کی فراوانی کے باوجود سماج و معاشرہ میں کوئی بھی اسے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا -نیز سود خور کی ظاہری خوشحالی سے دھوکا نہ کھائیں اس لئے کہ سامان راحت اور راحت میں بڑا فرق ہے کیونکہ سود خور کے پاس سامان راحت تو موجود ہے مگر حقیقی راحت جو ایک ایسے روحانی اطمینان اور قلب و دماغ کے ایک ایسے سکون کا نام ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی صورت میں براہِ راست انسان کو عطا ہوتا ہے، جس سے سود خور محروم رہتا ہے-ملت پر سود خور کا ایک بہت بڑا ظلم یہ ہے کہ بسااوقات اپنے دولت کے بل پر پسماندہ اور غریب طبقہ کے جسم و جان اور سے کھیل لیتے ہیں جس کی وجہہ سے بسااوقات غریب دل بر داشتہ ہوکر خود کشی کرلیتا ہے تو کبھی اپنی عزت کو داؤ پر  لگا کر چور اور ڈاکو بننے پر مجبور ہو جاتا ہے-
بہرحال الله تعالٰی نے سود کو حرام قرار دیا اس لئے کہ اس سے انسان کے اندر رذائل پیدا ہوتے ہیں تجارت کو حلال قرار دیا، کیونکہ اس سے محنت و مشقت، اکل حلال ودیانت جیسی صفات عالیہ کو فروغ ملتا ہے، اسی لئے قرآن کریم میں سود کو تباہ کن اور تجارت کو ترقی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، سود خوری کے یہ طریقے دنیا میں نئے نہیں ہے، بلکہ اسلام کے ظہور سے پہلے بھی یہ سلسلہ جاری تھالیکن آج کے دور میں اس بدترین فعل کو اس قدر عام کردیا گیا کہ ہر گلی محلہ میں فائنانس کے نام پر باقاعدہ سودی کاروبار کا نظام چل رہا ہے اور سود خور سود پر پیسہ دینے کے لئے بڑے بڑے دفتر کھولے بیٹھے ہیں بلکہ بیمہ (انشورنس) کمپنیاں تو خصوصی فون کال کرکے انعامات کا لالچ دیکر بلاتے ہیں ، پہر انشورنس کرانے کی ترغیب دی جاتی ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس میں  ملوث ہے اور کم عقلی کی وجہہ سے سود کو معاشیات و اقتصادیات اور تجارت کے لئے ریڈھ کی ہڈی سمجھنے لگے ہیں جبکہ یہ مسلم معاشرہ کے لئے دیمک کی حیثیت رکھتا ہے، جو انسان کو اور معیشت کو بالکل کھوکھلا کرکے رکھ دیتا ہے۔
سود کی مثال:-  حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ معارف القرآن میں سودی مال کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سود خور کا مال اگرچہ بڑھتا ہوا نظر آتا ہے مگر وہ بڑھنا ایسا ہے جیسے کسی انسان کا بدن ورم وغیرہ سے بڑھ جائے ورم کی زیادتی بھی تو بدن کی زیادتی ہے مگر کوئی سمجھ دار انسان اس زیادتی کو پسند نہیں کرسکتا، کیونکہ یہ زیادتی مور کا پیغام ہے اسی طرح سود خور کا مال کتنا ہی بڑھ جائے مگر مال کے فوائد و ثمرات یعنی راحت و عزت سے محروم رہتا ہے-
سود اور تجارت میں فرق:-  سود اور تجارت میں فرق یہی ہے کہ ایک فریق سراسر فائدہ میں ہے اور دوسرا فریق خسارہ میں یا ایک فریق یقینی فائدہ اٹھا رہا ہے اور وہ فائدہ متعین بھی ہے جبکہ دوسرے فریق کا نفع غیر یقینی اور غیر متعین ہے غرض سود ایک لعنت ہے جو افراد اور اقوام کی معیشت کے لئے غارتگر اور انسان اقدار کے لئے سم قاتل ہے-
سود کا معاشی نقصان:-   عام خلق خدا اور پوری ملت فقر و فاقہ اور معاشی بحران کا شکار ہوگی اور وہ غریب سے غریب تر ہوتے چلے جائیں گے اور چند سرمایہ دار اور مالدار ہی ملت کے مال سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے، جبکہ اسلام ہرگز ایسے عمل کو مفید اور درست قرار نہیں دیتا –
معاشیات کے نقطۂ نظر سے سودی قرض دو قسم کا ہوتا ہے ، ایک وہ قرض جو اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ کرنے کے لئے لیا جاتا ہے اس کو "مہاجنی ” سود بھی کہتے ہیں-دوسرا وہ قرض جو تجارت صنعت و حرفت اور زراعت وغیرہ کاموں پر لگانے کے لئے جاتا ہے اس کو ” تجارتی سود” بھی کہتے ہیں, موجودہ دور میں سود کے لئے بجائے شخصی دکانوں کے مشترک کمپنیاں بناو گئی ہیں جن کو بینک کہا جاتا ہے جو عوام اس جدید طریقہء تجارت کرنا نہیں جانتے یا قلت سرمایہ اور مال کے کم ہونے کی وجہ سے نہیں کر سکتے ان سب کا، روپیہ بینکوں میں جمع ہوکر ہر ایک کو کچھ نہ کچھ سود کے نام سے ملتا ہے اور بڑے تاجروں سے یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ بینکوں سے سود قرض لیکر تجارت میں فائدہ حاصل کرے اور چھوٹے سرمایہ والے کا اس میں داخل ہونا بہت مشکل ہے کیوں کہ بڑا قرض اسی کو دیتی ہے جسکی شہرت اور بڑا کاروبار ہو اگر بالفرض چھوٹے سرمایہ والا سودی قرض پر فائدہ اٹھائے بھی تو وہ اپنی ضروری اخراجات کے لئے کافی نہ ہوگا ادھر کاروباری منڈی اور مارکیٹ میں بڑے سرمایہ والے کو جس نرخ اور رعایت کے ساتھ ملتا ہے وہ چھوٹے سرمایہ والے کے ساتھ معاملہ نہیں ہوتا بالآخر چھوٹے سرمایہ والا مفلوج اور محتاج ہوکر رہ جاتا ہے اگر کوئی چھوٹے سرمایہ والا کسی طرح فائدہ حاصل کر لے تو پہر اب اس کی خیر نہیں رہتی، بڑے سرمایہ والے اپنا نقصان اٹھاکر بھی بزار کو ایسا ڈاؤن کر دیتا ہے کہ چھوٹے سرمایہ والا اصل اور نفع دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہی کہ تجارت بڑے سرمایہ اور مالدار اور چند افراد میں محدود ہوکر رہ جاتی ہے – سب سے بڑا نقصان جس کی زد میں پورا ملک آجاتا ہے یہ ہے کہ ایسی صورت میں اشیاء کی نرخ پر ان بڑے سرمایہ داروں کا قبضہ ہو جاتا ہے تو گراں سے گراں فروخت کرتے ہیں اور جب چاہیں قیمت بڑھانے کے لئے سامان کی فروخت بند کردیتے ہیں جس کا نتیجہ ہزاروں حاجتمندوں کی روزی پر پڑتا ہے – اگر کوئی شخص بینک سے سودی قرض لیکر تجارت میں نقصان اٹھاتا ہے تو نقصان اس پر صرف دس فیصد پڑتا ہے نتیجہ یہ ہوا کہ سرمایہ دار کو جب تک نفع ہوتا رہا تو وہ نفع کا تنہا مالک تھا اس ملت کے لئے کچھ نہ تھا اور جب نقصان آگیا نوے فیصد پوری ملت پر پڑ گیا – بینکوں کا سود اور اس کی تجارت پوری انسانیت کے لئے فقر و فاقہ معاشی و تنگدستی کا موجب ہے لاکھوں افراد کے افلاس، بے روزگاری، ملکی صنعت، تجارت، زراعت ودیگر کاروبار زندگی کو کس حد تک مفلوج کردے گی یہ حقیقت محتاج بیان نہیں-  قرآن و حدیث کی روشنی کے تحت سود کے مال میں آفتیں آنا لازم ہے تو ان آفتوں سے بچنے کے لئے بیمہ (انشورنس) دوسرے سٹہ کا بازار کیونکہ کے تجارت میں نقصان آنے کی دو وجہہ ہوسکتی ہیں، آسمانی آفت کہ جہاز ڈوب گیا دوسرے یہ کہ سامان کا نرخ اس کی قیمت خریدی سے کم ہوگئی ان دونوں صورتوں میں لگا ہوا سرمایہ چونکہ اپنا نہیں ہے بلکہ ملت کا مشترکہ سرمایہ ہے اس لئے ان کا نقصان کم اور ملت کا زیادہ ہے مگر انھوں نے اس تھوڑے سے نقصان کو بھی ملت کے سر پر ڈالنے کے لئے ایک طرف بیمہ کمپنیاں کھولیں جس میں بینکوں کی طرح ملت کا پورا سرمایہ جمع رہتا ہےاور جب کسی سماوی آفت سے ان سود خوروں پر کوئی نقصان آتا ہے تو بیمہ کے ذریعہ وہ پورا نقصان بھی ملت کے مشترکہ سرمایہ پر ڈال دیتے ہیں نتیجہ یہ کہ بیمہ (انشورنس) اور اس جیسی کمپنیاں معیشت کی تباہی کا اور زیادہ سبب بن رہی ہیں ، حکومتوں نے اس متحدہ اور خرابی کو محسوس کیا اور اس کا علاج یہ تجویز کیا کہ بڑے سرمایہ داروں کے لئے انکم ٹیکس کی شرح حد سے زیادہ بڑھادی کئی تاکہ سرمایہ ان سے منتقل ہوکر پہر قومی خزانے میں پہنچ جائے، لیکن سب کو معلوم ہے کہ اس قانون کے نتیجہ میں عام طور پر کار خانوں کے حساب فرضی اور جعلی بننے لگے اور بہت سا سرمایہ حکومت سے چھپانے کے لئے دفینوں کی شکل میں اور سارا کالا دھن اور بلاک منی ورلڈ بینک میں منتقل ہونے لگی جس کی وجہ سے قومی خزانے اور معیشت ہی کو دھکا نہیں لگا بلکہ پورا ملک اور سارا عالم پوری انسانیت اس سے متاثر ہو رہی ہے – معیشت کی زبوحالی کے لئے کیا یہی کم تھا مزید اس پر یہ کہ اب چند بڑے نامور سرمایہ داروں کا قبضہ صرف تجارتی اور کاروباری منڈیوں تک ہی قبضہ محدود نہ رہا ہے بلکہ حکومت اور سیاست میں بھی ان کی دخل اندازی ہوچکی ہے اب حکومتیں اور سیاسی راہنما بھی کٹ پتلیوں کی طرح اشارہ پر ناچ رہے ہوں تو پہر ظاہر سی بات ہے کہ اب معیشت کی تباہی و خرابی اور نقصان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا -بس اب اللہ تعالیٰ ہی نگہبان ہے-
خلاصہ ء کلام:- اللہ تعالیٰ خالق ہے وہ مخلوق کی بہتری کو سب سے بہتر جانتا ہے لہذا مسلمان کی شان یہی ہے کہ وہ ظاہری، باطنی، معقول اور غیر معقول ہر حکم کو صدق دل سے مانتے ہوئے شکوہ، شکایت چوں چرا کے بغیر اللہ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و ھدایات کے سر تسلیم خم کردے، لہذا جب شریعت نے سود کو حرام قرار دیا ہے تو بحیثیت مسلمان وہ فانی دنیا کی دولت و منافع کو معمولی، حقیر اور کمتر سمجھے اور اس کے مقابلہ میں آخرت کی دیرپا اور ہمیشہ والی زندگی کو سب کچھ جانے اور یہی مقصود الٰہی بھی ہے الغرض سود اور سود پر مبنی تمام صورتیں، شکلیں، اسکیمات اور سود سے ملنے والے تمام منافع اور آمدنی نہ صرف اپنی ذات اور ملت کا بلکہ پوری انسانیت کا اخلاقی، روحانی اقتصادی ہر اعتبار سے عظیم نقصان اور خسارہ ہے اس لئے سود اور پر مبنی صورتوں سے خود بچیں اور دوسروں کو بچائیں، جس کی برکت سے ان شاء اللہ معاشرہ مین انقلاب پیدا ہوگا اور ایک صالح اور پاکیزہ معاشرہ تیار ہوگا-
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری امت کو سود سے  ناجائز امور اور حرام آمدنی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے-
آمین یارب العالمین

متعلقہ خبریں

Back to top button