جنرل نیوز

نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی ایک نیشنل یونیورسٹی بنے گی – ڈاکٹر طیب خرادی

پاکیزہ ماحول پاکیزہ زندگی سے بنتی ہے، ماحول کے بنانے میں بڑا وقت لگتا ہے، چاہے وہ تعلیم کا ماحول ہو یا دینی ماحول، مضبوط اور صحت مند ذہن والے ماحول کو بنائے رکھتے ہیں ماحول کے ہو نہیں جاتے، نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی گلبرگہ کی بنیاد ہمارے اسلاف نے مسلم قوم و ملت میں تعلیم بیداری پیدا کرنے کے لیے رکھا ہے الحمد للہ آج یہ ادارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور مختلف تعلیمی نظام کے بارہ شعبہ بڑی کامیابی کے ساتھ چلا رہا ہے. ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر طیب خرادی کہتے آگے فرمایا کہ وہ دن دور نہیں مادرِ علم نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی ایک دن یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرے گی.
گلبرگہ کا مشہور و معروف تعلیمی ادارہ نیشنل ہائی اسکول کے دو عظیم اساتذہ سید گیسو دراز قادری اور ڈاکٹر کوثر پروین کے بحسن خوبی سبکدوشی خدمات کے اعتراف اور ڈاکٹر طیب خرادی کی شہرِ گلبرگہ آمد پر بضمن انتخاب رکن گورننگ کونسل،تامل ناڈو اسٹیٹ اردو اکادمی و رکن انتظامیہ جمعیۃ العلماء چینئی کے موقع پر ایک شاندار استقبالیہ و تہنیتی اجلاس کا انعقاد عمل میں لایا گیا. اس اجلاس کے مہمان خصوصی پروفیسر وہاب عندلیب صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی گلبرگہ تعلیمی اداروں میں نمایاں خدمات انجام دی رہی ہے، یہاں سے وظیفہ یاب ہونے والے دونوں اساتذہ سید گیسو دراز قادری قابل استاد اور بہترین تنظیمی صلاحیت کے مالک ہیں. ڈاکٹر کوثر پروین اردو کی ماہر استاد کے ساتھ ساتھ پوری ریاست میں اپنا ایک ادبی مقام و شناخت رکھتی ہیں. اور نوجوان نسل کے نمائندہ ادیب اور اس اسکول کے سابق طالب علم ڈاکٹر طیب خرادی نے ریاست تمل ناڈو کے مایہ ناز کالج میں اردو کی بہترین آبیاری کررہے ہیں. ان کے خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے. تمام احباب قابلِ مبارک باد ہیں.
مزید ڈاکٹر وہاب عندلیب صاحب اپنے خطاب میں فرمایا کہ ڈاکٹر طیب خرادی کی خدمات کو سرہاتے ہوئے فرمایا چینئی میں طیب صاحب کرناٹک کے تہذیب وتمدن کے سفیر حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر کوثر پروین معلمی کے ساتھ ساتھ ادب میں اپنا ایک مقام بنائی ہیں، آپ کی خدمات قابلِ تحسین ہیں. سید گیسو دراز قادری صاحب انگریزی کے استاد ہونے کے باوجود بہترین اردو بولتے ہیں اور ہمارے ساتھ کئی ایک اردو پروگرام میں شامل رہے ہیں.
نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی گلبرگہ کے جنرل سیکرٹری جناب پاشاہ میاں صاحب بولے گاؤنکر ڈاکٹر طیب خرادی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ طیب خرادی چونکہ اسی ادارے کے طالب علم ہیں اور آج اس مقام پر دیکھ کر خوشی بھی ہوتی ہے اور فخر بھی. ڈاکٹر کوثر پروین صاحبہ و جناب سید گیسو دراز قادری صاحب کے وظیفہ خدمات  سبکدوشی پر دلی مبارکباد پیش کی. ان کے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ قادری صاحب سابق صدر مدرس ڈسپلن کے بڑے پابند تھے. ڈاکٹر کوثر پروین کے بارے میں کہا کہ وہ بڑی خاموش مزاج ہیں ان کی موجودگی کا پتہ نہیں چلتا، ہمیشہ ہم نے انہیں بچوں کے ساتھ پڑھنے پڑھانے میں مصروف دیکھا.
نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی گلبرگہ کے صدر محترم جناب جمیل الرحمن صاحب حاجی حیدر نے اپنے مختصر و پرمغز خطاب میں  طیب خرادی کو مبارک باد دیتے ہوئے فرمایا کہ ڈاکٹر طیب خرادی بڑا ملی و قومی درد رکھتے ہیں اکثر فون پر نیشنل کے حالات پوچھتے اور اپنے تعلیمی حالات سے واقفیت دیتے ہیں. خدمات سے سبکدوش ہونے والے ہر دو معلم کو مبارک باد دیتے ہوئے فرمایا آپ دونوں کی خدمات نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی یاد رکھے گی. جس دور سے آپ لوگ سبکدوش ہورہے ہیں وہ تعلیم کا پھر بھی بہتر دور ہے. امید ظاہر کی کہ وظیفہ یابی کے بعد بھی سوسائٹی کے ساتھ روابط مضبوط رہیں گے.

ڈاکٹر عتیق اجمل اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے دونوں اساتذہ سید گیسو دراز قادری صاحب اور ڈاکٹر کوثر پروین کی خدمات کو سراہا اور ڈاکٹر طیب خرادی کی خدمت میں ایک تہنیتی نظم پیش کی.
نایاب گوہر ہے طیب خرادی محبت کا پیکر ہے طیب خرادی
آتی ہے لہجہ سے خوشبو وفا کی اک ایسا سخنور ہے طیب خرادی
ہے استادِ اردو کے عہدہ پہ فائز طلبہ کا رہبر ہے طیب خرادی
دلچسپ ہیں انکے افسانچے ادب میں منور ہے طیب خرادی
یقیناً بصیرت ہے باتوں میں انکے بہت علم پرور ہے طیب خرادی
حقیقٹ میں یوں تو سکندر ہے لیکن بظاہر قلندر ہے طیب خرادی
یہ اعزاز حاصل ہے اجمل جسے شاگردِ انور ہے طیب خرادی
معلمہ صبیحہ سلطانہ صاحبہ اظہارِ خیال فرماتے ہوئے سید گیسو دراز قادری صاحب کی نظر یہ شعر
نہ تھک کر بیٹھ اے راہی کہ اڑان ابھی باقی ہے
زمین ختم ہوئی تو کیا ہوا آسمان ابھی باقی ہے
پیش کرتے ہوئے انہیں مستقل مزاج اور باوقار شخصیت کے مالک کہا، قادری صاحب نہ صرف طلباء و طالبات کو تعلیم دی ساتھ ہی ساتھ طلباء کی شخصیت سازی اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کامیابی کی راہ دکھائی.
محترمہ صبیحہ سلطانہ نے ڈاکٹر کوثر پروین کو تہنیت و دواعی کلمات سے نوازتے ہوئے کہا کہ آپ بہترین معلہ کے ساتھ ساتھ  سنجیدگی، بردباری، راست گوئی وغیرہ اوصاف نمایاں ہیں. گلبرگہ کی پہلی خاتون افسانہ نگار کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں.
انہوں نے اس مسرت موقع پر ڈاکٹر طیب خرادی صاحب کو بھی مبارک باد پیش کی.
معلمہ سمینہ بیگم صاحبہ نے سید گیسو دراز قادری صاحب کو ایک متحرک شخصیت مالک کہا اور No” یا نہیں ” جیسے لفظ آپ کی ڈکشنری میں شامل نہیں. تقریباً اساتذہ کے گورنمنٹ اپرول کی ذمہ داری و خدمات سوسائٹی آپ ہی کے دیتے، نیشنل ہائی اسکول کے ساتھ ساتھ اقراء انگریزی اسکول کو بھی پروان چڑھا یا،
ڈاکٹر کوثر پروین کو خوش گفتار، ہمدرد، ملنسار اور پرہیز گار خاتون جیسے صفات سے یا کیا اور کہا کہ وہ طلباء کے ساتھ ساتھ ہم جونیئر اساتذہ کی بھی رہنمائی و رہبری فرماتیں اور خصوصاً محفلِ نساء کے پروگراموں میں ہم پر اعتماد کرتے ہوئے  ذمہ داری اور ہمت افزائی و پذیرائی کرتیں. ڈاکٹر کوثر پروین بہت کم وقت میں اپنی شناخت ثبت کی ہیں جس کا کوئی ثانی نہیں. ڈاکٹر طیب خرادی صاحب کو دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ آپ کو ترقی کے اونچے زینے پر پہنچائے.
ان خیالات کے اظہار کے ساتھ یہ شعر نظر کیا
تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر جو ہوسکے تو خود ہی انقلاب پیدا کر
معلمہ امۃ البصیر صاحبہ اپنے طویل اظہارِ خیال میں دونوں اساتذہ کے نیشنل سے رخصت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سید گیسو دراز قادری بہترین ڈسپلن اور ایڈمنسٹریشن کے مالک ہیں آپ کی نگرانی میں ہم اساتذہ سائنس اور آرٹس کی اگزیبیش منعقد کی، آپ NCC کے آفیسر بھی رہے، ہیڈماسٹر کے عہدے پر فائز رہے، آپ کو بیسٹ ٹیچر کے اعزاز سے بھی نوازا گیا. آپ ناندیڑ کے متوطن ہیں. آپ اپنی قابلیت، محنت، لگن اور جستجو کی بنیاد پر فی الحال خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی میں بحیثیت ایڈمنسٹریٹر کے خدمات انجام دے رہے ہیں.
ڈاکٹر کوثر پروین کے بارے میں آپ نے کہا کہ طالبِ علموں کے دلوں میں گھر کر جانے والی مثالی استاد، علم دوست، زبان داں، ادب نواز، مفکر و اصول پسند، نرم گو، گفتگو میں ملائمت، الفاظ میں معنی آفرینی، طبیعت میں متانت، تواضع، ملنساری، محنتی، شکوہ شکایت سے دور، تحریر میں حسن پیشکش میں رعنائی اپنی ذات میں ایک ایک انجمن کا نام ڈاکٹر کوثر پروین ہے.
ملنا اور بچھڑنا تو زندگی کا ایک حصہ ہے فاصلہ کسی رشتہ کو جدا نہیں کرسکتا، پھر بھی بہت تکلیف دیتا ہے کسی الوداع کہنا.
ڈاکٹر طیب خرادی صاحب کے بارے میں کیا کہوں آپ کی شخصیت آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال ہے کہ زندگی میں آنے والے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنا اور ایک مقام و مرتبہ پر پہنچنا یہ غیر معمولی کارنامہ ہے.
امۃ البصیر نے یہ اشعار نظر کئے.
خواہشوں سے نہیں گرتے پھل جھولی میں وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہوگا
کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہوگا
جناب سید گیسو دراز قادری صاحب نے اپنے خطاب میں اساتذہ و منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے تعاون کو سراہتے ہوئے دلی کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا،اس موقع پر اپنے محسن ڈاکٹر نجم الدین صاحب کو یاد کیا، منتظمین کے تعاون اور اخلاص نے ہی ان کے دور صدر مدرسی کو بخوبی انجام دینے کا مجاز رہا، یہی وجہ رہی کہ وہ بحیثیت صدر مدرس اپنے فرائض بحسن خوبی انجام دے پائے.
ڈاکٹر کوثر پروین صاحبہ ساتھی اساتذہ و منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ منتظمین نے ان کے ذوق کے مطابق ان کو ذمہ داریاں سونپی، لائبریری کا قیام ہوکہ ہفت روزہ اخبار کا اجراء، منتظمین نے ایک وسیع کینوس انہیں دیا جس میں اپنی ذوق کے مطابق کام کا موقع ملا. اساتذہ کے لیے یہ موقع ان کی تربیت کا رہا. جن میں ایسے کء موضوعات تھے جو ذہن سازی کا کام کرتے رہے، آگے انہوں نے فرمایا فی زمانہ طالب علم کی ذہن سازی ضروری ہے اور اداروں و اساتذہ دونوں کو اس پر توجہ دینی چاہیے. ڈاکٹر کوثر پروین نے مزید فرمایا کافی عرصہ گرہستی میں گذارنے کے بعد اللہ تعالی نے مجھے نیشنل کیمپس شاید اس لئے بھیجا کہ میں اپنے قوم کی حالت کا بخوبی جائزہ لے سکوں یقین جانیئے اگر قوم کی صورت حال دیکھنا جائزہ لینا تو نیشنل کیمپس کاجائزہ لیجئے سرپرستوں کی بیحسی،بیبسی،بیکسی،طالب علموں کی لاپرواہی،مجبوری بہت کچھ ملے گا۔ فی زمانہ ذہن سازی بڑی اہم ہے خصوصا لڑکوں کی تعلیم پر توجہ اشد ضروری ہے کیو نکہ لڑکے قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں یہی کمزور ہوتو قوم بستر پر ہوگی۔
ڈاکٹر طیب خرادی نے اس موقع پر اپنے نیشنل ہائی اسکول،نیشنل پی یو کالج و نیشنل ڈگری کالج کے تمام اساتذہ کو نام بنام یاد کیا اور ان کے خدمات کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے محسنین کو نہیں بھولنا ہے، چاہے وہ نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی کے ذمہ داران کی خدمات ہوں یا اساتذہ کرام کی خدمات ہوں. جب تک ہم ان بے لوث تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کی قدر کرنا چاہیے. مجھے اس ادارہ نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی کے ذرہ ذرہ سے تعلق و محبت ہے، میں نے اٹینڈر کاتب راج احمد اور عبدالرزاق کو بھی نہیں بھولا. مادرِ علمی ہمیں رہ رہ کر یاد آتا ہے، اس ادارہ کی ترقی ہماری ترقی ہے.
محترمہ فہمیدہ پروین صاحبہ معملہ ریاضی، اس اجلاس کی نظامت، خطبہ استقبالیہ، تقریباً تمام کاروائی کو بہترین نظم نسق اور خوبصورتی کے ساتھ اور احسن طریقے سے تمام مہمانوں اور سوسائٹی کے ذمہ داروں کی گل پوشی سے پہلے بھر پور تعارف پیش کیا نام بہ نام ہر ایک موقع پر برمحل اشعار کا انتخاب اجلاس میں چار چاند لگادئے. حالانکہ وہ ریاضی کی معلمہ ہیں لیکن اردو کا لب و لہجہ منفرد اور متاثر کن ہے. وہ ایک معلمہ کے ساتھ ساتھ بہترین منتظمہ اور بہت ساری خوبیوں کی مالک ہیں.
سابق معلمہ نیشنل اسکول محترمہ خیرالنساء خیر صاحبہ نے ہر دو معلمین کے لیے بہت عمدہ تہنیتی نظم لکھی ہے جس کو معلمہ محترمہ فہمیدہ پروین نے منفرد و پرسوز لب و لہجہ میں پڑھ کر سنایا.
باران رحمت میں رہیں آپ تا دم ہمیشہ ڈاکٹر کوثر پروین سی مثالیں ہوں اور بھی
گونجتی رہینگی صدائیں چمن میں یہ ہر پل سید قادری نام ہے جن کا وہ شخصیت ہو آپ
اس تہنیتی اجلاس کی ابتداء نیشنل ہائی اسکول کے ہونہار طالبِ علم انس رضا (دہم الف) کی قرآت کلام پاک سے ہوئی. نیشنل ہائی اسکول کے ساتھ ساتھ نیشنل ہائی اسکول گرلز ہائی اسکول سے محترمہ جلیس بانو صدر معلمہ،اقراء نیشنل ہائی اسکول سے محمد سعید الدین صدر مدرس، اور نیشنل پرائمری اسکول سیمحترمہ شاہدہ بیگم صدر معلمہ کی جانب سے بھی تہنیت پیش کی گئی، اجلاس میں انتظامیہ کے ذمہ داران باالخصوص سید حامد نثار صاحب چیرمین نیشنل ہائی اسکول،جناب محمد اسحاق سوداگر انجینئر، چیرمین نیشنل پویو کالج،جناب محمد شرف الدین صاحب، سابق ایڈمنسٹریٹر، سابق جنرل سیکرٹری نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی جناب اطہر بابا صاحب سکریٹری ہیومن ایج سوسائٹی، جناب آفتاب احمد صدر مدرس و دیگر اساتذہ، شہر کے دیگر معززین میں ہارون خرادی، امجد خرادی و انعام الحسن خرادی کے علاوہ سابق طالب علم سراج الدین معین، ایاز احمد و دیگر سامعین کی ایک کثیر تعداد موجود تھی. محترمہ شوکت فاطمہ معلمہ نیشنل ہائی اسکول کے اظہارِ تشکر پر اجلاس کا اختتام ہوا.

متعلقہ خبریں

Back to top button