نیشنل

عمر گوتم تبدیلی مذہب معاملہ _ مہاراشٹر کے پوسد شہر سے ڈاکٹر فراز شاہ کی گرفتاری

ممبئی 9/ اگست _ تبدیلی مذہب معاملے میں گذشتہ اتوار کی شب اتر پردیش اے ٹی ایس نے مہاراشٹر کے ضلع ایوت محل کے مقام پوسد سے ڈاکٹر فراز شاہ کو اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ حسب معمول اپنے دواخانے میں مریضوں کا علاج کررہے تھے، دو گاڑیوں میں اے ٹی ایس کے افسران پوسد پہنچے اور ڈاکٹر فراز شاہ کو گرفتار کرکے لکھنو لیکر چلے گئے، ڈاکٹر فراز کو گرفتار کرنے سے قبل اے ٹی ایس کے افسران نے ڈاکٹر فراز کے گھر والوں کو مطلع نہیں کیا، ڈاکٹر فراز کے اہل خانہ نے جب مقامی پولس اسٹیشن میں اس کی شکایت درج کرائی تو انہیں تحریری جواب ملاکہ لکھنؤ کی خصوصی عدالت نے ملزم کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا ہے اس لیئے لکھنؤ اے ٹی ایس ٹیم اسے اپنے ساتھ لیکر گئی ہے اور لکھنؤ پہنچتے ہی ڈاکٹر فراز کو عدالت میں حاضر کردیا جائے گا نیز ڈاکٹر فراز کو عمر گوتم تبدیل مذہب معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ دوان تفتیش ڈاکٹر فراز کے بھی اس معاملے میں ملوث ہونے کا سراغ ملا ہے۔
ڈاکٹر فراز شاہ کی گرفتاری کے بعد اس کی والدہ نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کے نام قانونی امداد کی درخواست ارسال کی ہے جسے منظور کرلیا گیا ہے۔
اس ضمن میں گلزا ر اعظمی نے کہا کہ یو پی اے ٹی ایس مسلمانوں کو بے جا گرفتار کررہی ہے تاکہ آنے والے انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فراز پوسد میں رہتے ہیں جبکہ تبدیل مذہب کا معاملہ نوئیڈا میں ہوا اس کے باوجود یو پی اے ٹی ایس نے انہیں گرفتار کرلیا۔
امید ہیکہ آج ڈاکٹر فراز شاہ کو لکئنؤ کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا جس کے دوران ملزم کے دفاع میں جمعیۃ کی جانب سے ایڈوکیٹ فرقان خان حاضر رہیں گے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے میں پہلے سے گرفتار عرفان خواجہ خان کو جمعیۃ علماء قانونی امداد فراہم کررہی ہے اورجمعیۃ علماء ڈاکٹر فراز کو بھی قانونی امداد فراہم کریگی کیونکہ ملزمین کو جبراً اس مقدمہ میں پھنسایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک ہفتہ سے لکھنؤ میں وکلاء کی ہڑتال ہونے کی وجہ سے عدالتی کام کاج ٹھپ ہے جس کی وجہ سے ملزم عرفان خان کی ضمانت عرضداشت بھی داخل نہیں کی جاسکی ہے، جیسے ہی عدالتی کام کاج شروع ہوگا، ملزم عرفان کی ضمانت عرضداشت داخل کی جائے گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ اتر پردیش انسداد دہشت گرد دستہ ATSنے عمر گوتم اور مفتی قاضی جہانگیر قاسمی کو جبراً تبدیل مذہب کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا ہیکہ دونوں ملزمین پیسوں کا لالچ دے کر ہندوؤں کا مذہب تبدیل کراکے انہیں مسلمان بنا تے ہیں اور پھر ان کی شادیاں بھی کراتے ہیں۔ پولس نے ممنو ع تنظیم داعش سے تعلق اور غیر ملکی فنڈنگ کا بھی شک ظاہر کیا ہے۔
پولس نے ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 420,120(B),153(A),153(B),295,511اور اتر پردیش پروہبیشن آف ین لاء فل کنورژن آف ریلیجن ایکٹ کی دفعات 3,5 کے تحت مقدمہ قائم کرکے ان پر سنگین الزامات عائد کیئے ہیں، یو پی اے ٹی ایس کی تفتیش ابھی جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button