جنرل نیوز

تحریکِ آزادی میں اردو شعر و ادب کا کردار ناقابل فراموش ہے

بنگلور، 13/ اگست (پریس ریلیز): ہندوستان کی جنگ آزادی کی تحریک ایک ایسی داستان کا درجہ رکھتی ہے، جو شہیدان وفا کے خون سے گوناگوں رنگین نظر آتی ہے۔ جس میں ایک رنگ اردو کا بھی ہے۔ جب بھی تحریک آزادی کی بات چھڑیگی تو”اردو“ کا تذکرہ ضرور ہوگا کیونکہ اس کے تذکرے کے بغیر تحریک آزادی کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ ہماری مادری زبان اردو نے ہندوستان کی جنگ آزادی میں اہم رول ادا کیا ہے۔

 

جب ہمارا ملک غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا تو اس دوران سرزمین ہند نے اپنی کوکھ سے جہاں بے شمار مجاہدین آزادی کو جنمیں دیا وہیں بے شمار شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں کو بھی جنم دیا۔اردو شعراء نے وطن کی محبت میں نہ جانے کتنے ترانے گائے۔ انقلاب زندہ باد اور آزادی پائندہ باد جیسے نعرے لگائے۔ انکی شعر و شاعری اور شعلہ بار تقریروں سے تمام ہندوستانیوں بالخصوص مجاہدین آزادی کو عزم و حوصلہ اور طاقت و توانائی عطا کرنے، عوام کو بیدار کرنے، اس کے اندر سیاسی شعور پیدا کرنے، ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط کرنے، انگریزوں کے ظلم کی داستان بیان کرنے اور انسانوں کی پیدائش و فطری آزادی کا نعرہ بلند کرنے کا کام نہایت کامیابی سے کیا۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔انہوں نے فرمایا کہ تحریکِ آزادی میں اردو شعر و ادب کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ لہٰذا اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے 75ویں یوم آزادی کے جشن کے طور پر مرکز تحفظ اسلام ہند بتاریخ 14/اگست 2021ء بروز سنیچر ٹھیک رات 8:00بجے ایک”عظیم الشان آن لائن مشاعرہ جشن آزادی“ کے عنوان سے ایک آن لائن مشاعرہ منعقد کرنے جارہی ہے۔ جسکی صدارت مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک و مہتمم جامعہ اسلامیہ تعلیم القرآن بنگلور) فرمائیں گے اور نظامت کے فرائض حضرت مولانا غفران ندوی صاحب (صدر المدرسین مدرسہ تعلیم القرآن شاخ ندوۃ العلماء لکھنؤ) انجام دینگے۔ جبکہ ملک کے مشہور و معروف شعراء کرام مثلاً مولانا سجاد اعظم قاسمی لکھیم پوری، قاری اشفاق بہرائچی، قاری وجیہ الدین جلال کبیرنگری، مولانا فیصل میرٹھی، قاری فردوس کوثر جھارکھنڈ، قاری بدرعالم چمپارنی، وغیرہ اس عظیم الشان آن لائن مشاعرہ جشن آزادی میں شرکت فرمائیں گے اور اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ فرمائیں گے۔

 

مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ اس مشاعرے کے کنوینر مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی رہیں گے اور مشاعرہ کا آغاز مولانا قاری محمد ثاقب معروفی صاحب قاسمی (استاد تجوید و قرأت مدرسہ کنز العلوم ٹڈولی سہارنپور) کی تلاوت سے ہوگا۔ اختتام سے قبل صدر مشاعرے و سرپرست مرکز کا”جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار“کے عنوان پر کلیدی و جامع خطاب ہوگا۔ یہ مکمل پروگرام مرکز تحفظ اسلام ہند کے آفیشیل یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج تحفظ اسلام میڈیا سروس پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔ مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام اہل وطن سے کثیر تعداد میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button