تلنگانہ

نظام شوگرفیکٹری سے متعلق لیبر کورٹ کا فیصلہ _ صدمہ سے فیکٹری کے ملازم کی موت

 

مختاراحمدخان جنرل سکریٹری تلنگانہ مزدور سنگھ نے اپنے صحافتی بیا ن میں کہا کے نظام شوگر فیکٹری جس کو 2015 ء کو خانگی انتظامیہ کی جانب سے Layoffکردیاگیا تھا تب سے تین یونٹوں بودھن،میدک اور مٹ پلی کے کئی ملازمین بے روزگار ہوچکے تھے۔تلنگانہ حکومت کی جانب سے لیبرکورٹ نامپلی میں انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیاگیاتھا۔جس کا فیصلہ کی کاپی 13-08-2021 کوحاصل ہوئی۔جس کوملازمین کی یونین کے جنرل سکریٹری مختاراحمدخان نے کورٹ سے کاپی حاصل کرتے ہوئے واٹس اپ پر اَپ لوڈ کیا جس کو کئی ملازمین پڑھنے کے بعدصدمے سے دوچار ہوگئے۔ کیونکہ فیصلہ انتظامیہ کے حق میں ہوا اور Layoffکو لیگل قراردیاگیا جبکہ یہ سراسر ناانصافی پر مبنی ہے۔ نظام شوگرفیکٹری میدک کی کالونی میں رہنے والے ملازم اے.کرشنا Fitterکا 14 اگست کی شب فیصلہ کی کاپی پڑھتے ہوئے سینہ میں شدید درد کی شکایت کی جس کو میدک ایریا ہاسپٹل لے جایاگیا جانبر نہ ہوسکا۔جہاں ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعددل کا دورہ پڑنے کی تصدیق کی اورمردہ قراردیا۔ان پانچ سالوں کے عرصہ میں بودھن،میدک اور مٹ پلی کے کئی ملازمین بقایاجات کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے ذرائع آمدنی کے موقوف ہوجانے کی وجہ سے فوت ہوچکے ہیں لیکن تلنگانہ حکومت اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ جنرل سکریٹری تلنگانہ مزدور سنگھ مختاراحمدخان نے کہا کہ ملازمین کی بے وقت موت کے ذمہ دار حکومت اور موجودہ خانگی انتظامیہ ہے۔اسلیے حکومت سے مطالبہ ہے کہ فوری فوت شدہ اور تمام ملازمین کے بقایاجات کی فوری اجرائی کاانتظام کرے تاکہ ملازمین کے اہل خانہ کا گذر بسر ہوسکے اور موجودہ خانگی انتظامیہ کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے فوت ہوئے ملازمین کوایکس گریشیا جاری کرنے کے احکام جاری کرے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button