ایجوکیشن

مولانا ابوالکلام آزاد کو زبردست خراج۔ اُردو یونیورسٹی میں وائس چانسلر کا خطاب

حیدرآباد، 15اگست (پریس نوٹ) ہمیں آزادی مل چکی ہے اور ہم اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔ ہم خاندان میں، سماج اور ملک کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے انجام دیں۔ ہم آزادی کی اس 75 ویں سالگرہ ، آزادی کے امرت مہوتسو کے موقع پر مجاہدین آزادی کو فراموش نہیں کرسکتے۔ ان میں ایک اہم نام مولانا ابوالکلام آزاد کا بھی ہے۔ اگر وہ اور دیگر محبانِ وطن جیل میں ہونے کے باوجود جدو جہد آزادی میں مسلسل حصہ نہ لیتے تو ہم ایک آزاد ملک میں آج سانس نہ لے رہے ہوتے۔ مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے آج یونیورسٹی کیمپس میں ترنگا لہرانے کے بعد یومِ آزادی پیام دیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود و وزارت داخلہ کی کووِڈ 19 کے پیش نظر دی گئی ہدایات کو ملحوظ رکھتے ہوئے سماجی فاصلہ، ماسک کا استعمال اور دیگر احتیاطی اقدامات کے ساتھ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔آزادی کا امرت مہوتسو کا جوش و خروش کے ساتھ اہتمام کیا گیا۔
پروفیسر عین الحسن نے کہا کہ 1947 کے بعد پیدا ہونے والی نسل کو شاید مجاہدین کی قربانیوں کا احساس کم ہو۔ آزادی کے امرت مہوتسو پر مجاہدین آزادی کے نام ہمارے دلوں پر مہر کرلینا چاہیے۔ ہمیں ان کے کارنامے اگلی نسل تک پہنچانے ہیں۔
انہوں نے کووِڈ 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماسک ضرور لگائیں، سماجی فاصلہ کا خیال رکھیں اور جو بھی اہل ہوں وہ ضرور کووِڈ ٹیکہ لگائیں۔
اس موقع پر پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج اور پروفیسر ابوالکلام، پراکٹر، ایم جی گناسیکھرن، فینانس آفیسر طلبہ موجودتھے۔ بڑی تعداد میں اساتذہ و غیر تدریسی عملہ کے اراکین نے سماجی فاصلہ کا خیال رکھتے ہوئے پروگرام میں شرکت کی۔ڈاکٹر کرن سنگھ اتوال، صدر شعبہ ¿ ہندی اور ڈاکٹر مظفر حسین خان، سینئر اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تعلیم و تربیت اور اسکول برائے تعلیم و تربیت کی طالبات نے قومی ترانہ پیش کیا۔ ڈاکٹر محمد یوسف خان کی زیر قیادت انتظامی کمیٹی نے انتظامات کی نگرانی کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button