نیشنل

پربھنی داعش معاملہ _ ممبئی ہائی کورٹ نے اقبال احمد کی ضمانت آرڈر پر اسٹے دینے سے انکار کیا

ممبئی 17/ اگست  _ قومی تفتیشی ایجنسی NIAکو آج اس وقت ممبئی ہائی کورٹ میں منہ کی کھانی پڑی جب جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس جمعدار نے ملزم اقبال احمد کی ضمانت پر رہائی کے حکم پر اسٹے دینے سے انکار کردیا، این آئی اے کی وکیل ارونا پائی نے عدالت سے گذارش کی کہ13 اگست کو پاس کیئے گئے آرڈر پر اسٹے دیا جائے تاکہ این آئی اے سپریم کورٹ میں ممبئی ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرسکے۔
عدالت نے کھلے لفظوں میں کہا کہ وہ ملزم کی ضمانت پر رہائی کے فیصلہ پر اسٹے نہیں دیں گے، این آئی اے اگر فیصلہ کو چیلنج کرنا چاہتی ہے تو وہ کرے انہیں قانونی حق ہے لیکن اسٹے مانگنا مناسب نہیں ہے۔ ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ سے ملزم اقبال احمد کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی جو ملزم کی رہائی کے لیئے کوشاں ہیں۔
اس ضمن میں ملزم اقبال احمد کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیۃعلماء نے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال کے ذریعہ سپریم کورٹ میں کیویٹ داخل کردیا ہے تاکہ اگر این آئی اے سپریم کورٹ میں ضمانت کی منسوخی کی عرضداشت داخل کرتی ہے تو ہمیں اس کی خبر مل جائے اور ہم بروقت اس کی مخالفت کرسکیں۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم اقبال احمد کبیر احمد کی جیل سے رہائی کی کوشش شروع کی جاچکی ہے، آج سیشن عدالت میں ضمانت پر رہائی کا پروسیجر ایڈوکیٹ ارشد شیخ اور ایڈوکیٹ قربان حسین نے شروع کیا، سیشن عدالت کے رجسٹرار نے وقت کی تنگی اور کرونا گائڈلائنس کی وجہ سے اگلے دو دنوں میں پروسیس مکمل ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ جمعہ کو پانچ سالوں سے جیل سلاخوں کے پیچھے مہاراشٹر کے پربھنی شہر سے تعلق رکھنے والے اقبال احمد کبیر احمد کو ممبئی ہائی کورٹ نے مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا تھا، عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا تھاکہ پانچ سال کا طویل عرصہ گذر چکا ہے اور ابھی تک مقدمہ کی سماعت شروع نہیں ہوسکی اور مقدمہ کی سماعت کب شروع ہوگی اور کب اس کا اختتام ہوگا کسی کو نہیں معلوم لہذاملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے کیونکہ ملزم ایک طویل عرصہ جیل میں گذارچکا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ مقدمہ جلدا ز جلد سماعت ملزم کا حق لیکن مقدمہ کی سماعت تیزی سے نہ ہونے سے اس کی حق تلفی ہورہی ہے لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔
عیاں رہے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ملزمین اقبال احمد، ناصر یافعی، رئیس الدین اور شاہد خان سمیت پر تعزیرات ہند کی دفعات 120(b),471,، یو اے پی اے کی دفعات 13,16,18,18(b), 20, 38, 39 اور دھماکہ خیز مادہ کی قانون کی دفعات 4,5,6 کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے اور ان پر یہ الزام عائد کیا ہیکہ وہ آئی ایس آئی ایس کے رکن ہیں اور ہندوستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں نیز انہوں داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا ہے اور اس تعلق سے عربی میں تحریر ا یک حلف نامہ (بیعت) بھی ضبط کرنے کا پولس نے دعوی کیا ہے حالانکہ ملزمین کے اہل خانہ کا یہ کہنا ہیکہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے جھوٹے مقدمہ میں ان کے لڑکوں کو گرفتار کیا ہے کیو نکہ پولس نے ملزمین کے قبضہ سے ایسا کوئی بھی مواد ضبط نہیں کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وہ ممنوع تنظیم داعش کے رابطہ میں تھے اور وہ ہندوستان میں کچھ گڑ بڑ کرنا چاہتے تھے بلکہ شوشل میڈیا اور یوٹیوب کی مبینہ سرگرمیوں کو گرفتاری کی وجہ بتایا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button