جنرل نیوز

پروفیسر فاطمہ بیگم پروین‘ ایک مثبت سوچ و فکر اور غیر نزاعی شخصیت کی مالک تھیں

پروفیسر سید فضل اللہ مکرم‘
صدر شعبہ اردو‘ یونیورسٹی آف حیدرآباد کا تعزیتی بیان

پروفیسر فاطمہ بیگم پروین (1953-2021) شہر حیدرآباد کی ایک نامور محقق و نقاد‘ شفیق استاد اور ایک بہترین شخصیت کی مالک تھیں۔آپ کے اچانک سانحہ ارتحال (۲۷ اگست ۲۰۲۱) سے اردو عوام گہرے صدمہ سے دوچار ہے۔وہ کئی تعلیمی اداروں سے وابستہ رہیں اور شعبہ اردو‘جامعہ عثمانیہ سے وظیفہ حسن خدمت سے سبکدوش ہوئیں۔اس سے قبل وہ آرٹس کالج جامعہ عثمانیہ کی وائس پرنسپل بھی مقرر کی گئی تھیں۔ملازت سے سبک دوشی کے بعد بھی وہ شعبہ اردو سے وابستہ رہیں پھر شعبہ اردو امبیڈکر اوپن یونیورسٹی حیدرآباد میں سینئر کنسلٹنٹ مقرر ہوئیں اور انڈرگرائجویٹ کے نصابی کتب کی تیاری میں مکمل تعاون کیا اورنصاب کی ایک دو کتابوں کی ایڈیٹر بھی بنائی گئیں۔

وہ ایک مثبت سوچ و فکر اور غیر نزاعی شخصیت کی مالک تھیں۔گروہ بندیوں سے ہمیشہ خود کو دور رکھا بلکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے تعاون سے اردو زبان و ادب کی خدمت پر زور دیتی رہیں۔ان کا کسی سے اختلاف بھی ہوتا تو وہ سر عام اس کی شکایت نہیں کرتیں بل کہ دھیمے انداز میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتیں اگر وہ نہ مانے تو چپ ہوجاتیں اور اس بات کو بھلا دیتیں۔عجز وانکساری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔وہ حیدرآباد کی تہذیب و ثقافت کا عملی نمونہ تھیں۔
پروفیسر فاطمہ بیگم‘ اپنی ذات میں خود ایک انجمن تھیں۔کسی بھی اد بی پروگرام اور سمینار یا ویبینار میں جب کبھی انہیں مدعو کیاجاتا تو وہ کبھی کسی کو مایوس نہیں کرتیں۔کسی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوے اس کی خوبیوں کو اجاگر کرتیں اور مصنف کی حوصلہ افزائی کرتیں۔وہ ایک بہترین مقررہ تھیں۔وہ جب بات کرتیں تو ایسا لگتا کہ ان کے منہ سے پھول جھڑ رہے ہوں۔انہیں کسی ادبی تنظیم نے ”بلبلِ دکن“ کا خطاب دیا تھا۔وہ اپنے استاذہ کا بے حد ادب و احترام کرتیں اور شاگردوں سے بے پناہ شفقت و محبت سے پیش آتیں۔ان کی صحیح رہنمائی فرماتیں اور ان کا حوصلہ بڑھایاکرتی تھیں۔جب میری دونوں لڑکیوں کو ایم بی بی ایس میں میرٹ پر داخلہ ملا تو بے حدخوش ہوئیں۔فون کیا مبارک باد دی اور پھر میرے گھر تشریف لاکر میری بیگم اور بیٹیوں کو مبارکبادی کے ساتھ ڈھیروں دعاوں سے نوازتی رہیں۔
پروفیسر فاطمہ بیگم ایک پروین نہ صرف بہترین مقررہ تھیں بلکہ انہوں نے کٹی ایک مضامین بھی لکھے۔ان کی کتابوں میں اختر انصاری کی شاعری کاتنقیدی مطالعہ‘ کربِ کربلا‘ زاویہ نگاہ‘ ننھی نظمیں (تیلگو سے ترجمہ)‘کلاسیکی شجعری کا مطالعہ‘ اشکِ غم‘ پروفیسر مغنی تبسم (ایک روشن چراغ تھا نہ رہا) اور دکنی ادب کا مطالعہ قابل ذکر ہیں۔گزشتہ سال ان کی دو کتابیں پروفیسر مغنی تبسم اور دکنی ادب کا مطالعہ شائع ہوئیں اور مجھے ان کتابوں کو عنایت کرتے ہوے کہا تھا کہ میاں! تقریریں تو بہت ہوچکیں‘ بس یہ دو کتابیں شائع کروائی ہیں تاکہ میں کتابی دنیا میں زندہ رہوں۔
پروفیسر فاطمہ بیگم پروین گزشتہ ایک ماہ سے علیل تھیں لیکن اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس قدرعجلت میں اپنی جان کو جان آفریں کے حوالے کردیں گی۔ویسے موت کا قت متعین ہے لیکن ان کے انتقال پُر ملال سے اردو دنیا سوگوار ہے۔اب یہ دنیا ایسی مخلص اور بے غرض شخصیتوں سے محروم ہوتی جارہی ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرماے اور متعلقین کو صبر جمیل عطا کرے۔آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button