نیشنل

عتیق رحمان کا حراست میں قتل کا خدشہ, ان کی جان بچانے کے لئے عدالت کو مداخلت کرنی چاہیئے : اشوان صادق

نئی دہلی 29 اگسٹ ( پریس ریلیز)کیمپس فرنٹ آف انڈیا کے سابق خازن عتیق رحمان کو اترپردیش حکومت نے یو پی اے پی قانون کے تحت گرفتار کرتے ہوئے جیل میں محروس رکھا ہے کی رہائی کے لیئے ان کے اہل خانہ نے پریس کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں پریس میٹ  میں اپنی پریشانی ظاہر کی ۔ انہوں نے کہا کہ ‘ اگر ان کو بہتر علاج نہیں دیا گیا تو وہ جیل میں مر سکتے ہیں  ‘ ۔عتق الرحمٰن کی فیملی نے کہا کہ انہیں چار دنوں پہلے سے جیل کے ہسپتال میں زیر علاج رکھا گیا ہے جیل محکمہ ان کے بیماری کو موسمی بخار بتاکر ان کے دل کےمرض کر نظر انداز کر رہے ہیںجبکہ انکی گرفتاری جب  ہوئی تھی اس کے ایک ماہ بعد کا وقت ان کے دل کے آپریشن کیلیے ملا ہوا تھا اور اس وقت سے اب تک کوئی طبی سہولت انہیں مہیاء نہیں کرائی گئی
ہم نے پچھلے دو سالوں میں ۰۲  لاکھ روپے ان کے علاج کیلئے جمع کیے تھےانہوں نے کہا کہ یہ نظر انداز کیا جانا انکی زندگی کیلیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے
کیمپس فرنٹ آف انڈیا کے نیشنل جنرل سیکرٹری اشوان صادق نے پریس کانفرس میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاری سیاسی انتقام کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ سے اے اے مخالف مومینٹس میں سب سے آگے تھے۔ اپنے علاقے میں پولیس کے ظلم کے خلاف اس کے سخت مداخلت نے اسے حکمرانوں کا شدید نشانہ بنا دیا تھا۔ ‘ ہاتھرس سازش ‘  کیس ایک فرضی کہانی تھی جو اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ اب اس کو اسی انجام کی طرف بڑھایا جا رہا ہے جو انجام فادر اسٹین سوامی کا  سیاسی انتقام کے طور پر کیا گیا جس کو خاموشی سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اشوان صادق نے مانگ کیا کہ عدالت کو انکی بہتر میڈیکل ٹریٹمنٹ کی مانگ والی درخواست پر غور کرنا چاہیے اور علاج کے لیئے اُنہیں ڈیفالٹ ضمانت دینی چاہئے۔
عتیق الرحمن کی وکیل مدھوون دت چترویدی نے کہا کہ
زندگی اور ازادی کی ضمانت ہمارے آئین کے مقدس دفعات میں سے ہیںکسی شخص کو یہ اختیار نہیں ہیکہ وہ کسی شخص کا یہ حق چھینے چاہے اس نے اقبال جرم ہی کیوں نہ کیا ہو
عتیق الرحمن ایک زیر سماعت قیدی ہے اور ہم نے چارمرتبہ انکے طبی حالت کو لیکر رابطہ کیاہے عتیق کی اہلیہ سنجیدہ، انکے چچا شاخوت علی، اُن کے وکیل مدهون دت چترویدی نے میڈیا سے خطاب کیا

متعلقہ خبریں

Back to top button