تلنگانہ

سرکاری وخانگی مدارس واسپتالوں کے اطراف گندگی پھیلانے والوں پر جرمانے عائد کرنے کی تجویز

حیدرآباد _ تلنگانہ حکومت نے اگر چہ کہ دعوی کیاہے کہ یکم ستمبر سے ریاست بھر میں کےجی تا پی جی تعلیم کا دوبارہ آغاز ہو نے جارہا ھے اور اس سلسلہ میں صفائی کے اقدامات بھی مکمل ہو چکے ہیں لیکن حقائق کچھ اور ہی ہیں جس میں حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں ایک سروے میں اس بات کا پتہ چلا ھے کہ جن مدارس اور کالجس میں سینیٹا ئزیشن ہوا ہے بہت سارے مدارس اور کالجس ایسے ہیں جہاں بلدی عملہ نےسینی ٹا ئزر کے ڈرم میں براۓ نام ہی سینی ٹائزر محلول ملایاہے جس سے جراثیم کا خاتمہ ممکن ہی نہیں ہے اس کے علاوہ نئے اور بالخصوص پرانا شہر حیدرآبا د میں کئی مقامات پر سرکاری اور خانگی مدارس سے متصل یاپھر بالکل قریب میں اب بھی کچرہ کے انبارہیں کوڑے دان اگر چہ کہ ہٹا دئیے گۓ ہیں لیکن متبادل انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے کچرہ وہیں ڈالا جارہا ہے محلہ واری طور پر کچرہ کی نکا سی کے لئیے سیکل رکشاؤں کا انتظام ہونے کے باوجود عوام اسکولس اور اسپتالوں کے بازو ہی کچرہ پھینکتے ہیں سماجی کارکن میر فضل علی خاں نے بتایا کہ اسکولوں اور اسپتالوں و کا لجس کے قریب کچرہ پھینکنے والوں کے خلاف جب تک کوئی سخت ایکشن نہیں لیا جائے گا صورتحال جوں کی توں برقرار رہے گی

انہوں نے تجویز رکھی کہ جس طرح ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر چالانات عائد  کئیے جاتے ہیں ٹھیک اسی طرز پر عام مقامات ، اسکولس ،اسپتالوں اور کالجس کے علاوہ عبادت گاہوں کے اطراف کچرہ پھینکنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی ضروری ہے انہوں نے اس سلسلہ میں یہ تک کہا کہ کچرہ کی جگہوں کو ان کے موجودہ مقامات سے ہٹانے کے لئیے کارپوریٹرس اور ارکان اسمبلی, سماجی کارکنان کا حقیقی تعاون ضروری ہے سڑکوں کی توسیع کے مواقع پر عوام بالخصوص دکانداروً ں کو کافی سمجھا یا جاتا ہے لیکن کچرہ کنڈی کی منتقلی کے وقت بعض سماجی کارکنان اور کارپوریٹرس وبعض ارکان اسمبلی آڑے آجاتے ہیں سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ نئے اور پرانا شہر کے تمام سرکاری وخانگی اسکولس کے علاوہ اسپتالوں اور عبادت گاہوں کا ریاستی حکومت کی جانب سے جنگ پیمانہ پر سروے اوراقدامات ضروری ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button