جنرل نیوز

داعش سے مبینہ تعلق کی بنیاد پر گرفتار ضوان کی ضمانت عرضداشت پر ہائی کورٹ سماعت کرے گی

ممبئی1/ ستمبر
اترپردیش کے شہر کشی نگر سے ممنوع تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) کے لئے کام کرنے اور مسلم نوجوانوں کو آئی ایس آئی ایس کی جانب راغب کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار رضوان احمدکی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر آج ممبئی ہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے عدالت سے گذارش کی کہ بجائے ضمانت عرضداشت پر سماعت کرنے کے ہائی کورٹ نچلی عدالت کو جلداز جلد مقدمہ ختم کرنے کا حکم دے۔ این آئی اے کی اس درخواست کو ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ وہ نچلی عدالت کو ایسا کوئی بھی حکم جاری نہیں کریں گے کیونکہ عدالتیں پہلے سے ہی اضافی بوجھ کاشکار ہیں، ان کے پاس مقدمات کی ایک طویل فہرست ہے لہذا عدالتیں کوشش کرنے کے باوجود مقدمات جلد از جلد ختم نہیں کرسکتی ہیں۔جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس جمعدار نے این آئی اے کی وکیل ارونا پائی کو کہا کہ عدالت ملزم کی ضمانت عرضداشت پر فیصلہ اس کے خلاف موجود ثبوت وشواہد کی روشنی میں کریگی۔
اسی درمیان دفاعی وکیل ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم پانچ سال سے زائد عرصہ سے جیل میں قید ہے اور ابتک استغاثہ نے تین سو میں سے صرف 36 گواہوں کو عدالت میں گواہی کے لیئے پیش کیا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس رفتار سے مقدمہ کی سماعت ہوری ہے۔
ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ چارج شیٹ میں ملزم کے ملاڈ کے نواجوان کو جہاد کی ترغیب دینے اور داعش کو جوائن کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے نیز استغاثہ ملزم کے خلاف ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا ہیکہ ملزم ہندوستان میں داعش تنظیم کا نائب امام تھا بلکہ یہ ایک خیالی اور فرضی عہدہ ہے جس سے ملزم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔دو رکنی بینچ نے فریقین کو حکم دیا کہ وہ 15/ ستمبر کو صبح دس بجے بقیہ بحث کریں اور زبانی بحث کرنے کے ساتھ ساتھ تحریری بحث بھی عدالت میں داخل کریں۔
واضح رہے کہ استغاثہ کا الزام ہیکہ ملزم ممبئی کے ملاڈ مالونی علاقے کے چند مسلم نوجوانو ں کو انٹرنیٹ کی مدد سے داعش میں شمولیت کے لئے اکسا رہا تھا نیز اسی کی ایماء پر 2016 میں لاپتہ ہونے والے ایک نوجوان کو ملک سے فرار ہونے میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ذہن سازی کرنے کا بھی الزام ہے۔
دو ما ہ قبل خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزم رضوان احمد کی ضمانت عرضداشت مسترد کردی تھی جس کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی ہدایت پر نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر

متعلقہ خبریں

Back to top button