تلنگانہ

رابعہ سیفی کو انصاف دلانے کے لیے نرمل میں کینڈل مارچ

 

عادل آباد _ قومی دارالحکومت دہلی میں سول ڈیفنس میں تعینات رابعہ سیفی کی عصمت دری کے بعد بیہمانہ قتل کا معاملہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ ہر طرف غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے اور پولیس کی تساہلی کے خلاف عوامی سطح پر شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔

 

چنانچہ نوجوانانِ نرمل کی جانب سے مظلومہ رابعہ سیفی اور اس کے افرادِ خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے کے لیے عمران اللہ خان کونسلر کی قیادت میں آج بتاریخ 4 اگست بروزِ ہفتہ بعد نمازِ مغرب منی ٹینک بنڈ نرمل پر ایک کینڈل مارچ نکالا گیا، مارچ کے دوران شرکاء نے رابعہ کے مجرموں، دہلی پولیس، مرکزی حکومت اور دلال میڈیا کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی، اس موقع پر مفتی احسان شاہ قاسمی صدر صراطِ مستقیم سوسائٹی نرمل نے اپنے صحافتی بیان میں رابعہ کے ساتھ پیش آمدہ اس وحشیانہ، ظالمانہ اور بیہمانہ واقعے کو

 

"بیٹی بچاؤ” کا کھوکھلا نعرہ دینی والی مرکز کی بی جے پی حکومت کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ قراردیتے کہا کہ جب قومی دارالحکومت دہلی میں پولیس ڈیفنس کی نوکری کرتے ہوئے رابعہ کے ساتھ یہ واردات ہوئی تو پھر عام لڑکیاں کہاں محفوظ ہوں گی۔اس لیے حکومت، پولیس اور انتظامیہ سے ہمارا مطالبہ ہے کہ سی بی آئی جانچ کے ذریعے اس واقعہ میں ملوث دیگر مجرمین کو بھی سامنے لایا جائے اورنربھیا ایکٹ کا استعمال کرتے ہوئے گھناؤنے جرم کے مرتکبین کے خلاف سخت سے سخت عاجلانہ کاروائی کی جائے نیز رابعہ کے افراد خاندان میں سے ایک فرد کو سرکاری نوکری بھی فراہم کی جائے۔کانگریس پارٹی کے لیڈر سید متین نے رابعہ کے ساتھ ہوئے ظلم پر اپنی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نرمل تلنگانہ کے نوجوانوں کی یہ مانگ ہے کہ مرکزی حکومت رابعہ کے مجرمین کے چہروں سے نقاب ہٹاتے ہوئے اُنھیں برسرِ عام پھانسی پر لٹکائیں، تاکہ آئندہ دیش کی کوئی اور بیٹی ایسی درندگی کا شکار نہ بنے ۔اس موقع پر صدر ضلعی کانگریس کمیٹی جنید میمن الطاف خضر، عبدالشائز، عمر، سجاد حسین، حافظ عبدالعزیز، مفتی توصیف مظاہری ، شیخ عقیل، عثمان یافعی کے علاوہ نوجوانانِ نرمل کی کثیر تعداد موجود تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button