کوئی لمحہ، کوئی ساعت، کوئی یوم اور کوئی ماہ منحوس نہیں انھیں منحوس سمجھنا بد عقیدہ ہے: سید احمد حسینی اشرفی

ماہانہ محفلِ ذکر الہی بندوں کو رب سے قریب کرنے کا ذریعہ

ڈاکٹر تبریز تاج

ہندوستان صوفیوں کی سرزمین ہے۔یہاں ہرقدم قدم پر صوفیوں کے آستانے موجود ہیں۔اِن آستانوں پر آج بھی بلالحاظ مذہب عقیدت مندوں کی بڑی تعداد حاضر ہوکر اپنے اپنے انداز میں نذازنہ عقیدت پیش کرتی ہے۔ملک کے طول وعرض میں پھیلے یہ خانقاہیں امن و الفت بھائی چارہ اور یکجہتی کے عملی نمونہ ہیں۔تلنگانہ کے نارائین پیٹ ضلع کے کولم پلی گاؤں میں لگ بھگ چھ سو برس سے سید احمد قتال حسینی ؒ کا آستانہ ہے۔اس آستانے سے بلالحاظ مذہب لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ہرمہینے کی قمری چار تاریخ کی شب آستانے میں محفل ذکر الہی کا خصوصی طورپر انعقاد کیا جاتا ہے۔اس محفل میں مریدین و متقدین کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔ رواں ماہ کی چار تاریخ کو منعقد ہ خصوصی محفل میں شرکت کرنے کی سعادت مجھکو بھی (راقم الحروف)نصیب ہوئی۔ پیش ہے اس نورانی محفل کی کچھ تفصیل

 

،یہ محفل درگاہ سید شاہ احمد قتال حسینی اشرفی ؒ کے سجادہ نشین سید جلال حسینی اشرفی کی زیرنگرانی منعقد ہوتی ہے۔لنگر اور نماز عشاء کے بعد محفل منعقد کی جاتی ہے۔ سجادہ نشین سید جلال حسینی اشرفی نے کہا کہ مریدین و متقدین کو روحانی تازگی فراہم کرنے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کادرس دینے کیلئے اس محفل کو سجایا جاتاہے۔محفل کی شروعات قرات کلام سے ہوئی نعت و منقبت کے بعد جانشین سجادہ سید احمد حسینی کامل جامعہ نظامیہ و اسکالر جامعہ عثمانیہ کا ایمان افروز خطاب ہوا۔انتہائی سادہ لب ولہجے میں سید احمد حسینی نے ایمان، اوروسیلے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔اُنہوں نے اپنے مریدین اور شرکائے محفل کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر گھڑی ہرلمحہ، ہر دن اور ہر مہینہ اللہ سبحان و تعالی کا بنایا ہوا ہے۔اسی لئے کوئی لمحہ، کوئی ساعت، کوئی یوم اور کوئی ماہ منحوس نہیں ہوتے اگر کسی لمحے، کسی ساعت، کسی دن،کسی مہینے کو منحوس سمجھیں گے تو یہ ایمان کی کمزوری ہے۔کیونکہ ہر وچیز اللہ کی مرضی کے مطابق ہوتی ہے۔صفر کے مہینے کو کڑوا یا منحوس سمجھنا دراصل اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ سید احمد حسینی نے اپنے ایمان افروز بیان میں واضح کردیا کہ صفر یا تیرہ تیجی، یاپھر چہارشنبے کو منحوس ماننے کا تعلق دور جہالت سے ہے۔نبی کریم ﷺ نے دورجہالت کی اِن بیحودہ رسومات کو ختم کردیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ انڈوں کو سرانے رکھ کر صدقہ کرنا اور سال بھر تک انڈوں کو اپنی موت کی ضمانت سمجھنا گمراہی اور بدعقیدے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ موت و حیات کا ذمہ دار صرف اور صرف اللہ سبحان وتعالیٰ ہے۔کیونکہ ہر چیز اُسکے حکم کے مطابق انجام پاتی ہے۔قرانی تعلیمات کی روشنی میں انسان کا کھلا دشمن شیطان ہے اسی لئے ہر پل شیطان سے بچنا چاہئے۔وہ ہمیشہ انسانوں کو اپنی سازش میں پھانستے ہوئے راہ حق سے دور کرنے کی کوشش میں جٹا ہوا ہے۔

 

سید احمد حسینی نے اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہر چیز اللہ تعالی ہی عطاکرتا ہے۔ کیونکہ اللہ ہی قدرت والا ہے۔بزرگوں کے آستانوں پر اللہ کا درس ملتا ہے۔برزگان دین بندے کو رب سے جوڑنے کا کام کرتے ہیں یہی وسیلہ ہے۔اللہ کو سمجھ نے کیلئے اُس کا قرب پائے ہوئے بزرگوں کی قربت ضروری ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ذکر الہی کی محفلیں بندوں کے دلوں کو اللہ کے ذکر کے نور سے منور کردیتی ہیں۔اُنہوں نے ہر لمحہ اللہ ُ کا ورد دل و زبان پر جاری رکھنے کا مریدوں کو مشورہ دیا۔اس ایمان افروز خطاب کے بعد محفل کا انعقاد عمل میں آیا۔آستانے قتالہ میں ہر سمت سے اللہ ھو، اللہ ھوکی صدائیں بلند ہورہی تھیں چاروں سمت نورانی منظر دکھائی دے رہا تھا۔محفل ذکر کے بعد حسب روایت محفل سماع منعقد کی گئی جس میں مقامی قوالوں نے نعت ومنقبت پر مبنی کلام ساز پر پیش کیا۔اگلی محفل گیارہ اکٹوبر 2021کو منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔ دیر رات دعا اور فاتحہ پر ان تقاریب کا اختتام عمل میں آیا۔