اوٹکور میں حیدرآباد واقعہ پر کینڈل مارچ احتجاجی ریالی

 

اوٹکور۔(اردو لیکس۔محمد وسیم) اوٹکور مستقر میں کل جماعتی نوجوانوں کی جانب سے کمسن لڑکی چاٸترا کی عصمت دری اور قتل کی سخت مذمت کرتے ہوٸے پنچ میدان تا بس اسٹینڈ امبیڈکر چوراہا تک بڑے پیمانے پر ایک احتجاجی کینڈل مارچ ریالی نکالی گٸی۔اس موقع پر مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے حضرات نے خطاب کرتے ہوٸے کہا کہ گذشتہ چند دن پہلے حیدرآباد کے سنگارینی کالونی میں راجو نامی درندہ صفت شخص نے معصوم لڑکی چاٸترا کو عصمت دری کرتے ہوٸے بے دردی و بے رحمی کے ساتھ قتل کردیا تھا۔معاشرہ میں انسانی گھناٶنی حرکت ہے جس سے انسانیت کا سر شرمسار ہوگیا ہے۔ایسا ارتکاب کرنے والوں کو حکومت سخت سے سخت سزادیں اور معاشرہ کے اندر جو پھیلی ہوٸی انسانی ناسوز کا ازالہ کرنے کیلٸے حکومت کو پہل کرنا چاہٸے اگر اس واقعہ کے خلاف حکومت سنی ان سنی کریں تو آنے والی نسل بھی معاشرہ کو خراب کردے گی ہر ایک بیٹی کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر مستقر کے تمام سیاسی سماجی و مذہبی دانشوروں نے شرکت کی اور مذمت کا اظہار کیا۔اور اوٹکور کے مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوٸے اس ریالی کا احتجاج بس اسٹینڈ پر اختتام پذیر ہوا۔اس موقع پر عبدالرشید نگری،محمد اسماعیل،عبدالخالق،محمد مجاہد،جمال الرحمن کے علاوہ نوجوانوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔