صدر مجلس محبوب نگر نے محبوب نگر ٹاٶن میں  سڑک کے تعمیری کام میں ڈاٸورشن سے متعلق ساٸن بورڈ آویزاں کرنے کا نیشنل ہاٸی وے اتھاریٹی سے کیا مطالبہ

 

 

محبوب نگر:(اردو لیکس) محمد عبد الہادی صاحب ایڈوکیٹ صدر مجلس اتحادالمسلمین ضلع محبوبنگر نے محبوبنگر ٹاون میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے سڑکوں کی توسیع کے جاری کام کے دوران سڑک کے ایک حصہ کو بند کرکے دوسرے جانب تعمیراتی کاموں کے دوران سڑک کے ایک ہی حصہ سے گاڑیوں کی آمد و رفت کی وجہ اور سڑک کی توسیع کے لئے اسٹریٹ لائٹس کو نکال دے جانے پر سڑک پر گھپ اندھیرے کی وجہ سے کل رات کے درمیانی حصہ میں گاڑیوں کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے کار اور کاروں میں سوار مسافرین کو ھوے مالی نقصان کی نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور اسکے گتہ داروں کے جانب کے جانے کامطالبہ کیا اور کہا سڑکوں پر کسی بھی تعمیراتی کاموں کے درمیان روڈ ڈائورشن کے بورڈ کو آویزاں کرنا ضروری ہے

 

لیکن محبوبنگر کے نیو ٹاون کے علاقے میں روڈ پر کوئی ڈائورشن بورڈ نہ ہونے اور پوری سڑک پر اندھیرے کا راج ہونے کی وجہ کرناٹک کی ایک ڈی. سی. ایم گاڑی کی ٹکر سے یکے بعد دیگرے تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور کاروں کو شدید نقصان کی وجہ سے ناقابل برداشت اذیت اور مالی بوجھ و پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جو صرف اور صرف نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور اسکے گتہ دار کی لاپرواہی کا نتیجہ ہےاسلیے زخمیوں کو علاج و معالجہ کے علاوہ کاروں کو ہوے نقصان کی پا بجائی کی ذمہ داری نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہی پر ہی عائد ہوتی ہے

 

ٹریفک پولیس جو ہلمٹ اور ماسک نہ پہننے والوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے اور اسکے وصولی میں تیزی دکھاتی ہے کو بھی اس حادثے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے کیونکہ وہ گنتہ دار اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذمہ داروں کو روڈ ڈایورشن سے متعلق سائین بورڈ آویزاں کرنے کی اہم ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہو گئے اور عوام کو اسکا خمیازہ بھگتنا پڑا جو افسوس ناک ہے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام ٹریفک پولیس کو عوام الناس پر انکی لاپرواہی پر جر مانے عائد کرنے کا کوئی اخلاقی جواز بھی نہیں ہے۔