آندھراپردیش میں مسلم خاندان کے چار افراد نے اجتماعی خودکشی کی کوشش کی _ انصاف کے لئے 10 دن قبل جاری کیا تھا ویڈیو

کڑپہ _ آندھراپردیش کے کڑپہ ضلع  سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم خاندان کے چار افراد نے اجتماعی خودکشی کی کوشش کی ۔ جنھیں مقامی افراد نے چاگالا مری کے کیرالا ہاسپٹل منتقل کردیا گیا ہے جس میں شوہر اکبر باشا اور ان کی بیوی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جبکہ ان کے لڑکیوں کی حالت خطرہ سے باہر ہے

 

اکبر باشا کی ڈیڑھ ایکڑ زمین جو کڑپہ ضلع کے دووور منڈل میں ہے اس زمین پر مقامی وائی ایس آر کانگریس کے ایک لیڈر نے قبضہ کرلیا ہے جس کے خلاف اکبر باشا نے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی اس کے باوجود ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔اس سلسلہ میں اکبر باشا نے 10 ستمبر کو الزام لگایا تھا کہ پولیس انہیں ہراساں کررہی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی  جس میں کہا گیا کہ اگر ان کے ساتھ انصاف نہ کیا گیا تو وہ ارکان خاندان کے ساتھ اجتماعی خودکشی کر لیں گے ۔ اکبر باشا  نے اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ ایک ویڈیو تیار کرتے ہوئے اسے سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کیا۔اکبر باشا نے روتے ہوئے رورل سرکل انسپکٹر مایداکور کی طرف سے  ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا  ۔ اس نے کہا کہ ڈوور منڈل میں 1.5 ایکڑ زمین  پر وائی ایس آر کانگریس کے لیڈر نے قبضہ کیا ہے۔اور پولیس انسپکٹر اس کیس میں انھیں ہراساں کررہے ہیں ۔ اہل خانہ نے سوشل میڈیا پر التجا کی کہ چیف منسٹر جگن ان کے ساتھ انصاف کرے۔

 

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اکبر باشا کو زمین حوالے کریں۔چیف منسٹر کی ہدایت پر عہدیداروں نے اکبر باشا کو زمین حوالے کردیا تھا لیکن بتایا گیا ہے کہ دوبارہ وائی ایس آر کانگریس کے لیڈر نے اس زمین پر قبضہ کرلیا۔جس سے دلبراشتہ ہوکر آج اکبر باشا نے خاندان کے ارکان کے ساتھ اجتماعی خودکشی کی کوشش کی۔