نازی حکومت سے آسام کو بچائیں۔ ایس ڈی پی آئی نے کیا ملک گیراحتجاجی مظاہرہ

نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)نے آسام کے ضلع دارنگ، سیپاجھار، گوروکوٹھی گاؤں میں پولیس اور ریاست کے گٹھ جوڑ کے ذریعے مظاہرین پر وحشیانہ حملوں اور ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے دہلی سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ نئی دہلی میں ہوئے احتجاجی مظاہرے میں پارٹی قومی صدر ایم کے فیضی، قومی نائب صدوراڈوکیٹ شرف الدین احمد، شیخ دہلان باقوی، قومی جنرل سکریٹریان عبدالمجید کے ایچ، الیاس محمد تمبے، قومی سکریٹری ڈاکٹر تسلیم رحمانی، تمل ناڈو ریاستی صدر نیلائی مبارک، کرناٹک ریاستی صدر عبدالحنان، کیرلا ریاستی صدر عبدالمجید فیضی، راجستھان ریاستی صدر محمد رضوان خان، قومی ورکنگ کمیٹی اراکین ریاض فرنگی پیٹ، عبدالستار، ڈاکٹر عواد شریف، محترمہ یاسمین فاروقی اور دیگر لیڈران شریک رہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے آسام پولیس کے ایکشن کو غیر انسانی اور سفاکانہ بتایا۔آسام پولیس نے ایک ہجوم پر فائرنگ کی جو اس زمین سے زبردستی بے دخلی کے خلاف احتجاج کررہا تھا جہاں وہ کئی دہائیوں سے رہ رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت بنگلہ دیش سے ‘تجاوزات’اور ‘غیر قانونی تارکین وطن ‘کا الزام لگاتے ہوئے مسلمانوں کی شہریت ختم کرنے کے اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ بے دخلی مہم کی وجہ سے800سے زائدخاندانوں پر مشتمل 5000سے زائد افراد کو بے گھر کردیا ہے۔ موجودہ وبائی صورتحال میں متبادل سہولیات کا بندوبست کئے بغیر غریب شہریوں کو زمین سے بے دخل کرنا ظلم ہے۔ حکومت جس کو لوگوں کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنا چاہئے وہ مذہب کے نام پر ان کو پولرائز کرنے اور انہیں قتل کرنے میں مصروف ہے۔ بی جے پی حکومت کے2016میں اقتدار میں آنے کے بعد سے علاقے کے لوگوں کو بار بار ہراساں کیا جاتا رہا ہے، ا س علاقے میں رہنے والے زیادہ تر کاشتکار ہیں اور ان کے معاش کے ذرائع پر حملہ کیا جارہا ہے۔

بیشتر نے زمین پر قبضہ کرلیا تھا کیونکہ وہ بے زمین ہیں اور اپنی زمین خریدنے کے متحمل نہیں ہیں۔ وزیر اعلی ڈاکٹر ہیمنت بسواس شرما متاثرین کو تسلی دینے کے بجائے ٹوئیٹ کے ذریعے پولیس کی بربریت کی تعریف کرتے ہوئے اور لوگوں کو بے دخل کرنے اور ایک مسجد کو مسمار کرنے کی تصاویر پوسٹ کرکے ظلم کا جشن منارہے تھے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اس بات کی طر ف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی انتہا جو کہ انتہائی دائیں بازو کے ہندوتوا فاشسٹوں نے عام لوگوں میں داخل کی ہے، ایک فوٹوگرافر کی اس وائرل ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے، جو پولیس کے ہاتھوں مار کھانے کے بعد زمین پر بے حرکت زمین پر پڑے مظاہرین کو لات ماررہا ہے۔ کوئی بھی انسان سوائے سنگھیوں کے اتنے ظالم اور سفاک نہیں ہوسکتے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے آسام حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ہندوستانی شہریوں کو غیر قانونی تارکین وطن کے نام سے نکالنے سے باز رہے، صرف اس لیے کہ ا ن کا مذہب اسلام ہے اور ریاست میں مسلمانوں کے خلاف مظالم بند کرے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ بے دخل کئے گئے لوگوں کی فوری طور پر بحالی کی جائے اور فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو معقول معاوضہ دیا جائے۔