آخر علماء کی گرفتاری کا سلسلہ کب تک؟

تحریر: جاوید اختر بھارتی 

 

آخر دلآزاری کا سلسلہ کب بند ہوگا، الزام تراشی کا سلسلہ کب بند ہوگا اور مذہبی پیشواؤں کی گرفتاری کا سلسلہ کب بند ہوگا،، آخر کیوں گرفتار کیا جاتا ہے اور کیوں الزام لگایا جاتا ہے،، مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد دہشتگردی کا الزام لگادیا جاتا ہے بیس سال پچیس سال بعد عدالت سے باعزت بری ہوجاتے ہیں لیکن زندگی کا ایک وہ حصہ برباد ہوجاتاہے زندگی کے جس حصے میں وہ اپنی آنکھوں میں بے شمار خوابوں کو سجائے رہتے ہیں کسی شخص کو بیس پچیس سال کی عمر میں گرفتار کرلیا جائے پھر بیس پچیس سال بعد عدالت سے اس کی رہائی ہوجائے تو اب اس کی عمر کس کام کی اور اس کی زندگی کس کام کی،، مسلم نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اب علماء کی گرفتاری کا سلسلہ بھی شروع ہوگیاہے ان کے اوپر زبردستی تبدیلی مذہب کا الزام لگایا جاتا ہے جبکہ ہمیں اس بات کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ زبردستی تبدیلی مذہب سے کیا حاصل ہوسکتا ہے کیونکہ مذہب کا تعلق تو دل سے ہوتاہے دنیا کا کوئی سامان نہیں ہے کہ ذبردستی کسی کو سونپنے کے لئے، خریدنے کے لئے مجبور کیا جائے یا جھوٹا لالچ دے کر کسی کو پھنسایا جائے اور جہاں تک بات مذہب اسلام کی ہے تو خود قرآن کا اعلان ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی زور ذبردستی نہیں اب ایسی صورت میں کوئی ذبردستی کسی کو کلمہ پڑھائے گا تو وہ خود قرآن کا مخالف ہوگا اور جو قرآن کا مخالف ہوگا تو وہ مسلمان ہی نہیں ہو گا تو جب وہ خود مسلمان نہیں ہوگا تو دوسروں کو کیا مسلمان بنائے گا اور کوئی عالم دین کسی دوسرے کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کے لئے کسی کو لالچ دے گا یا مجبور کرے گا تو وہ خود نہیں کہے گا کہ مولانا آپ تو کہہ رہے ہیں کہ دین کے معاملے میں کوئی زور ذبردستی نہیں ہے، کوئی لالچ نہیں ہے پھر آپ مجھے کیوں لالچ دے رہے ہیں اور کیوں ذبردستی کررہے ہیں،، اس لئے مسلمانوں پر تبدیلی مذہب کا الزام لگانا سراسر غلط ہے اور کسی عالم دین پر یہ الزام لگایا جانا تو ایک دم ہی بے بنیاد ہے،، اس سے تو یہی ثابت ہوتاہے کہ مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے مسلمانوں کے علماء کو کرفتار کیا جارہاہے

 

یاکہ پھر اسلام کو دبانے کے لئے علماء کو گرفتار کیا جارہاہے اور مختلف قسم کے الزام عائد کرکے علماء و مسلمانوں کی حب الوطنی پر انگشت نمائی کی جاتی ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مذہب کی ترویج و اشاعت کا حق ملک کے آئین نے دیا ہے اور ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے جہاں تک بات حب الوطنی کی ہے تو وطن سے محبت مسلمانوں کے خون میں شامل ہے ، وطن سے محبت اسلام کی تعلیمات میں شامل ہے خود اللہ کے رسول کا فرمان ہے کہ جس ملک میں رہو اس ملک سے محبت کرو، اس ملک کی حفاظت کرو اور مسلمان اپنے نبی کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے جب جب بھی وطن عزیز کو لہو کی ضرورت پڑی ہے تو سر پر کفن باندھ کر میدان میں کودا ہے بھارت کو انگریزوں سے آزاد کرانے کے لئے بھی مسلمانوں نے قربانی دی ہے اور آزادی کے بعد کسی نے آنکھ دکھائی ہے تو اس کا مقابلہ بھی مسلمانوں نے کیا ہے اور آج بھی مسلمان یہ کہتاہے کہ ہمیں اپنے ملک کے آئین پر مکمل اعتماد ہے ماضی، حال اور مستقبل ملک کو سجانے و سنوارنے میں ہم نے ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا ہے اور کریں گے سیاسی پارٹیوں اور حکومت کے فیصلوں کی تو حمایت اور مخالفت کی جاسکتی ہے ہاں وطن کی مخالفت نہیں کی جاسکتی،، لیکن حکمرانوں کو اتنا ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم جس ملک کے حکمراں ہیں اس ملک میں رہنے والے ہر شخص کے ساتھ انصاف ہوناچاہیے ، سب کے حقوق کا تحفظ ہوناچاہیے، سب کے جذبات کا احترام ہوناچاہیے مگر افسوس آئے دن ایسی ایسی خبریں موصول ہوتی ہیں کہ جس سے جذبات مجروح ہوتے ہیں جیسے مولانا کلیم صدیقی صاحب کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ وہ ایک قابل احترام شخصیت ہیں اس کے باوجود بھی مسلمانوں نے انتہائی امن و سکون کے ساتھ مولانا کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے

 

حالانکہ دوسرے لوگ احتجاج و مظاہرہ کرتے ہیں تو ساری حدیں پار کر جاتے ہیں لیکن مسلمانوں نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا کیونکہ مسلمانوں نے ملک کے آئین میں یقین کیا ہے ملک کی جمہوریت میں یقین کیا ہے،، مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری پر سیکولر سیاسی پارٹیاں آخر کیوں خاموش ہیں تمہیں صرف علماء کے ذریعے حمایت کا اعلان چاہیے اور مسلمانوں کا ووٹ چاہیے,, تمام علماء کرام اور سارے مسلمانوں کو چاہیے کہ گھروں میں بیٹھ کر صرف مذمت نہ کریں بلکہ ملک کے آئین کی روشنی میں حل تلاش کریں،، اور وہ لوگ بھی جن کے ناموں کے ساتھ خطیب شعلہ بیان لکھا جاتاہے، ساحر البیان لکھا جاتا ہے اور بڑے القاب سے نوازا جاتاہے آخر ان کی زبانیں کیوں بند ہیں یاد رکھیں گھروں میں بیٹھ کر صرف مذمتی پریس ریلیز جاری کرنے سے کچھ نہیں ہو نے والا ہے باری باری سب کا نمبر آسکتا ہے اس لئے مکتب فکر کی بنیاد پر بھی خاموش نہ رہیں،، تعصب اور تنگ نظر ی کی بنیاد پر کوئی شخص بے تکی اور بے صفحے کی بات کرے تو یہ الگ بات ہے ورنہ یہ حقیقت ہے کہ اسلام اعلیٰ اخلاق و کردار سے پھیلا ہے عمر نے کہا تھا کہ انتالیس مسلمان ہوگئے اب چالیسواں نہیں ہوگا لیکن اللہ نے عمر کو ہی چالیسواں مسلمان بنایا ، طفیل طوسی کانوں میں انگلیاں ڈالے رہتے تھے روئی بھی ڈالے رہتے تھے کہ نبی کی بات کانوں میں نہ پہنچے مگر اللہ نے انہیں بھی اسلام کی دولت سے مالا مال کیا کہنے کا مطلب اور مقصد یہ ہے کہ اللہ نے جس کے مقدر میں ہدایت لکھی ہے وہ ہدایت یافتہ ہوکر رہے گا –
          جاوید اختر بھارتی ( سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی