نیشنل

پٹنہ بم دھماکہ معاملہ _ فریقین کی بحث مکمل، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا، 27 اکتوبر کو فیصلہ متوقع

ممبئی _ بہارکی راجدھانی پٹنہ میں رونما ہونے والے بم دھماکہ معاملے میں آج فریقین کی بقیہ بحث بھی مکمل ہوگئی جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے 27/ اکتوبر فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی ہے، آج عدالت میں دفاعی وکلاء اور استغاثہ نے زبانی بحث کے ساتھ ساتھ عدالت میں تحریری بحث بھی داخل کی ہے جو سیکڑوں صفحات پر مشتمل ہے۔کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے حتمی بحث بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ ہوئی، ملزمین کو بھی جیل سے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ دوران بحث عدالت میں پیش کیا گیا جنہوں نے بحث کی سماعت کی۔
اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمد نی) قانونی امداد کمیٹی قانون امداد فراہم کررہی ہے۔
خیال رہے کہ 23/ اکتوبر2013ء کو پٹنہ کے مشہور تاریخی گاندھی میدان میں بم دھماکہ ہوا تھا جب وزیر اعظم نریندر مودی ایک عوامی ریلی سے خطاب کرنے والے تھے،اس بم دھماکہ میں 6/لوگ ہلاک اور 90/ افراد زخمی ہوئے تھے۔ بم دھماکوں کی تفتیش قومی تفتیشی ایجنسی NIA کے سپرد کی گئی جس نے بہار، جھاکھنڈ اور آس پاس کی دیگر ریاستوں سے10/ اعلی تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 307,326,212,121(A), 120(B), 34، دھماکہ خیز مادہ کے قانون کی دفعات 3, 5 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کی دفعات 16,18,20 کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا جس کے بعد ملزمین کی پیروی کے لئے جمعیۃ علماء کی جانب سے، ایڈوکیٹ سید عمران غنی،ایڈوکیٹ واصف الرحمن خان ودیگر کو مقرر کیا گیا جنہوں نے ملزمین کا دفاع کیا۔
لاک ڈاؤن سے قبل اس مقدمہ میں فریقین کی بحث شروع ہوچکی تھی لیکن اسی درمیان خصوصی جج کا تبادلہ بھی ہوگیا اور کرونا وبا ء کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا نفاذ ہوا جس کے بعد خصوصی عدالت میں اس مقدمہ کی سماعت نہیں ہوسکی لیکن نئے جج گرویندر سنگھ ملہوتراکی تقرری ہونے کے بعد فریقین نے بحث مکمل کرلی جس کے بعد آج عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
اس معاملے میں ملزمین امتیاز انصاری کمال الدین، حیدر علی عالم انصاری،نعمان سلطان انصاری،مجیب اللہ جابر انصاری،عمیر شفیع صدیقی، اظہر الدین شکیل الدین قریشی، احمد حسین سید قریشی، فخرالدین غلام مرتضی، محمد فیروز اسلم اور محمد افتخار محمد مصطفی کو اس معاملے میں ملزم بنایا گیاہے۔ دوران بحث دفاعی وکلاء نے عدالت میں تفتیشی ایجنسی کی جانب سے تفتیش میں کی جانے والی غیر قانونی تفتیش پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے جس میں ملزمین سے جبراً لیا گیا اقبالیہ بیان، گواہوں کو دھمکا کر ان سے ملزمین کے خلاف بیان لینا، فارینسک سائنس رپورٹ میں موجود خامیاں، گواہوں کے بیانات میں تضاد، پولس افسران کے بیانات میں تضاد، غیر قانونی طریقے سے ملزمین کے قبضوں سے ضبط کی گئی اشیاء،شناختی پریڈ کا نہ ہونا وغیرہ شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button