محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

✒️ *شگفتہ عبد الخالق نوریہ*(ممبرا، تھانے مہاراشٹر )

 

اس کائنات ارض و سماں میں جو مقام اللہ رب العالمین نے
جناب عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا ۔ وہ کسی نبی ورسل کو نہیں عطا کیا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس اور سیرت ایک ایسا تابناک پہلو ہے کہ اس چرخ نیلی فام نے نہ ایسا انسان دیکھا ہے اور نہ قیامت تک دیکھیں گے۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا یہ ایمان بالرسل کا جزء ہے اور مؤمن کا ایمان اس وقت تک مکمل ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ایمان نہ لائے۔یعنی ایک مومن ہمیشہ تمام محبوب چیزوں پر اللہ اور اسکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی محبت کو غالب رکھے۔
لیکن !غور کریں انسان کسی سے محبت کیوں کرتا ہیں۔؟کچھ اسباب و وجوہ ہوتے ہیں جس کی بنا پر وہ محبت کرتا ہیں ۔خواہ وہ اسباب فطری ہو ۔جیسے والدین اور اولاد سے محبت قرابت داروں سے ،پڑوسیوں سے محبت یا وہ محبت شر عی و اعتقادی ہو۔جیسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت۔خواہ محبت کرنے والا اپنے احساسات وجذبات کو بیان کر سکے یا اس کا مافی الضمیر ادا کرنے پر قادر نہ ہو۔اور اس محبت کے اسباب جس قدر اہم اور احساسات کے زیادہ قریب ہوں گے ۔وہ محبت اسی قدر زیادہ لائق تعریف اور قابل رشک ہوگی۔

پہلا سبب:یہ ہیں کہ ہم نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں کیوں کہ اللہ رب العالمین نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے چوں کہ ایک مومن اپنے خالق ، مالک و رازق سے محبت کرتا ہے اس وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے۔اور اللہ رب العالمین فرماتا ہیں کہ:”کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ بھی تم سے محبت کرے گا”. (سورۃ آل عمران:٣١)۔
دوسرا سبب: اللہ رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان میں نبی ورسل کی حیثیت سے منتخب کر لیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے فضائل و مناقب سے نوازا۔ جو کسی دوسرے نبی و رسل کو نہیں حاصل ہیں۔ چوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قائد و رہنما ہے۔آپ ہی کے ذریعہ ہمیں صحیح و غلط کی شناخت ہوئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی وجہ سے ہم ہدایت کی راہ پر گامزن ہے۔
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کا نزول ہوا ۔ جسے پڑھ کر ہمارے قلوب کو راحت و تسکین ملتی ہیں۔

تیسرا سبب:امت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال مہربانی و رحمت کا مظہر یہ تھاکہ امت کی ہدایت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمہ وقت پریشان رہتے تھے۔اور یہ مسلمہ حقیقت ہیں کہ جو جتنا لوگوں پر مہربان ہو تا ہے۔ لوگوں کی نظر میں وہ اتنا ہی محبوب ہوتا ہے ۔اپنی امت کے لئے راتوں کو بیدار ہو کرکے خوب گریہ وزاری کرتے۔ اور اپنی امت کی نجات کے لئے خوب دعائیں کرتے تھے۔

چوتھا سبب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور اتنا پر کشش تھا۔کہ جو کوئی دیکھتا وہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق نہایت اعلیٰ وارفع تھے۔باتوں میں شرینی،نہایت سخاوت و فیاضی ،صبر وشکر ،حلم و برد باری ،امانت داری، نیکی کے کام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ثانی نہ تھا۔جس کا اعتراف نہ صرف ایک مسلمان بلکہ کافر و دشمن بھی کرتے تھے۔یہی وجہ ہیں کہ امریکہ کا مشہور مصنف” مائیکل ہارٹ”اپنی مشہور کتاب (The 100)”سو عظیم آدمی "میں پہلا مقام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دینے کے بجائے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتا ہے۔
یہ وہ چند اسباب تھے جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم بے انتہا محبت کرتے ہیں۔
اب آئیے! جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت میں اضافہ کیسے ہو ؟
دعا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہیں کہ” تم لوگ دعا کا اہتمام کرو” یعنی ہمیں اللہ سے ہمیشہ دعا کرنا چاھئے کہ "اے اللہ تو ہمیں سچا اور پکا محب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنا”۔
سیرتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مطالعہ:جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے قلوب میں بے پناہ محبتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جاگزیں ہو جاتی ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دین کی اشاعت کے لئے کتنی تکلیفیں ،ظلم،طعن و تشنیع،برداشت کی۔کیسی کیسی قربانیاں پیش کی تب جا کر اسلام کا پر چم پورے دنیا میں لہلہانے لگا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درودبھیجنا۔
نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کثرت سے یاد کرنا اجر و ثواب کا تصور رکھتے ہوئے:اس لئے کہ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ وہ ایسے عمل کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہیں جس میں اجر وثواب کا وعدہ ہوتا ہے۔
ہمارے اسلاف نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ۔ظلم و ذیادتی میں صبر کا دامن تھامے رکھا۔اسلام کی خاطر تن من دھن کی بازی لگا دی۔اورآج کا مسلمان!
محب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن ان کے وضع و قطع ، ظاہر و باطن کسی صورت سے نہیں لگتا کہ وہ محب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔عبادات،خوشی، غمی میں نئی نئی بدعتوں و خرافات ایجاد ہو گئ ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دور دور تک کا تعلق نہیں ہے۔زندگی گذارنے کے معاملات ،رہن سہن ،تعلیم و تربیت وغیرہ میں مغربی کلچر کو اپنا لئے ہیں۔اس لئے دور حاضر کی نئی نسلیں اسلام سے بہت دور ہوتی جارہی ہیں۔
اس لئے ہمارے اوپر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہیں کی بچوں کو اسلام کے سچے واقعات سنائے ہمارے اسلاف کی قربانیوں سے مطلع کریں ۔ سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،تاریخ کی کتابوں کی تعلیم دیں ،مطالعہ کی طرف راغب کریں،تا کہ صغر سنی ہی سےان کے قلوب اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے راسخ و پیوست ہو جائیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
اللہ سے دعا ہیکہ وہ ہمیشہ ہم کو اپنے اور اپنے محبوب سے بے پناہ محبت کرنے والا بنائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ (آمین یارب العالمین )