اس نعمت کا ادراک کریں

 

 

عبدالغفار سلفی، بنارس 

 

رشتے ناطے، محبت، تعلق یہ سب چیزیں اللہ کے یہاں ثانوی ہیں.. سب سے بڑا تعلق توحید  کا ہے اور سب سے زیادہ قابل نفرت چیز شرک ہے. اللہ نے اپنے برگزیدہ ترین بندوں کو بھی اپنے محبوبین کے لیے مغفرت کی دعا سے منع کر دیا، انہیں اس بات کا پابند کر دیا کہ وہ اپنے ان چیہتوں کے حق میں دعاء مغفرت نہیں کر سکتے جو ایمان اور توحید کے بغیر دنیا سے چلے گئے.

 

آپ کی اولاد میں ہزار خامیاں سہی لیکن اگر وہ دولت ایمان سے  سرفراز ہے تو رب کا شکر بجا لائیں کہ آپ اس کے حق میں آخرت کی بہتری کی  دعا تو کر سکتے ہیں،  نوح علیہ السلام جیسا اولوا العزم پیغمبر  بھی اپنے کافر بیٹے کے لیے یہ دعا کرنے کا مجاز نہیں ہے.

 

آپ کو اپنے والدین سے بہتیری شکایتیں ہیں لیکن وہ دولت ایمان سے مالا مال ہیں تو رب کریم کی بارگاہ میں سجدۂ شکر بجا لائیں کہ آپ کو وہ نعمت ملی ہے جو خلیل اللہ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کو بھی نہیں ملی، اپنے والد سے شدید محبت رکھنے کے باوجود وہ ان کے لیے بارگاہِ الہی میں مغفرت کی دعا نہیں کر سکے.

 

بیوی شریک حیات ہوتی ہے، نکاح کے بعد ہمارے سکھ دکھ سب اس سے وابستہ ہوتے ہیں، اگر ہماری زندگی کا یہ حصہ کفر سے آلودہ ہو جائے، ہماری شریک حیات اپنے رب کی باغی ہو جائے تو سوچیں یہ کتنی بڑی اذیت کی بات ہوگی. بیوی سے لاکھ شکایتیں سہی اگر وہ دین وایمان پر قائم ہے تو اللہ کا شکر ادا کریں، یہاں تو نوح اور لوط علیہما السلام جیسی برگزیدہ ہستیوں کو یہ اذیت سہنی پڑی کہ ان کی بیویاں ان کی آنکھوں کے سامنے نہ صرف یہ کہ عذاب الہی کی مستحق بنیں بلکہ آخرت میں بھی اپنے پیغمبر شوہر کی صحبت و رفاقت کے شرف سے محروم رہیں گی.

 

ابو طالب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مربی ہی نہیں محبوب بھی تھے، انہوں نے اپنی محبتوں کی چھاؤں میں آپ کو حوادث زمانہ کی تمازت کبھی محسوس نہیں ہونے دی. مگر نبی کے یہ محبوب چچا بھی جب دولت ایمان سے تہی دست ہو کر راہی عدم ہوئے تو رب تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کو منع کر دیا کہ آپ اس مشفق ومہربان چچا کی مغفرت کے لیے دست دعا دراز نہیں کر سکتے.

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیمی کا درد سہا، پیدا ہوئے تو سایۂ پدری سے محروم رہے، چھ سال کی عمر میں والدہ بھی داغ مفارقت دے گئیں، ماں باپ زندگی کے گلشن کی بہار ہوتے ہیں، ان سے محرومی کی تکلیف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے یتیمی کا دکھ اٹھایا ہو. اس کے باوجود ہمارے رسول کریم اپنے ماں باپ کی جدائی اور ان کے پیار کی محرومی پر کبھی اتنے آزردہ نہیں ہوئے جتنی تکلیف آپ کو اس وقت ہوئی جب آپ کے رب کریم نے آپ کو اپنی والدہ کے لیے دعائے مغفرت سے منع کر دیا. اس دن ماں کی قبر پر کھڑے ہو کر آپ پھوٹ پھوٹ کر روئے.

 

ہائے یہ احساس بھی کتنا جان لیوا ہے کہ ہم اپنے چیہتوں کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا نہیں کر سکتے، جنت میں ان کے ساتھ رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے . اگر آپ کے اپنے ایمان پر زندہ ہیں اور ایمان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے ہیں تو اس نعمت کا ادراک کریں، اس کی لذت کو محسوس کریں. یہ وہ نعمت ہے جو  اللہ کے بہت سے خاص بندوں کو بھی نہ مل سکی.