نبی ﷺ پوری دنیا کے لئے آئیڈیل اور نمونہ ہیں: مفتی نظرالہدیٰ ندوی تنظیم جمیعت علماء والحفاظ کے زیراہتمام منعقد جلسہ سے علماء کا خطاب

سعادت گنج بارہ بنکی (پریس رلیز): قصبہ سعادت گنج کے محلہ پچاسہ کی جامع مسجد میں تنظیم جمیعت علماء والحفاظ کی جانب سے منعقد ہوئے جلسہ سیرت النبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے مفتی نظرالہدیٰ ندوی نے فرمایا کہ نبی ﷺ پوری دنیا کے لئے آئیڈیل اور نمونہ ہیں۔ وہ اپنی پوری زندگی ملت کی رشد وہدایت کے لئے کوشاں رہے۔ ہمارے نبی کو اللہ تعالیٰ نے آخری نبی بنا کر اس دنیا میں بھیجا ہے۔ جب نبی اس دنیا میں مبعوث ہوئے تو اس وقت پوری دنیا میں جہالت اور کفر و شرک کا بول بالا تھا۔ ہر چہار جانب ظلم و جبر کا دور تھا۔ لیکن جب اسلام آیا تو نبی ﷺنے ان تمام برائیوں کو ختم کرنے کے لئے خوب کوششیں کیں۔ سبکو اللہ سے ڈرایا اور اللہ وحدانیت کی طرف بلایا۔ جن لوگوں کو اللہ کے نبی کی باتیں سمجھ میں آئیں وہ لوگ تو مسلمان ہوگئے۔ اور بہت سے لوگوں کو حضور ﷺ کی باتیں بری لگنے لگیں تو انہوں نے آپ ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو خوب ستایا، ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ ان کا شوشل بائیکاٹ کیا۔ نبی اور ان کے ساتھیوں کو ڈھائی سال تک شعب ابی طالب میں بند کرکے رکھا گیا۔ آپ ﷺکو برا بھلا کہا گیا۔ گالیاں دی گئیں۔ ان کی ایسی آزمائش کی گئی کہ چشم فلک سے بھی آنسو ٹپک پڑے۔ بالآخرکفار مکہ نے اسلام کے ماننے والوں کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔
مفتی نظرالہدیٰ ندوی نے محمد ﷺ کی مزید خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺنے اس دنیا میں امن و امان قائم کیا، برائیوں کو ختم کیا، کفر و شرک پر قدغن لگایا، شراب نوشی اور گانے بجانے کو منع کیا۔ آپ نے سبھی کو تمام برائیاں چھوڑ کر اللہ کے راستے پر چلنے کی دعوت اور ہرفرد بشر کو ہدایت والے راستے پر چلنے کی تلقین کی۔ ہر ایک کو ہدایت یافتہ بنانا ہی نبی کا مشن تھا۔ اللہ کے نبی نے لوگوں کو بتایا کہ شرک و بدعات کی دین اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جب بندہ اللہ کی جانب راغب اور مائل ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام مسائل حل کردیا کرتے ہیں۔ اللہ کے نبی جناب محمد الرسول اللہ ﷺ کی ولادت سے ہی پوری دنیا میں بڑا انقلاب آیا۔ آپ نے پوری دنیا کو عدل و انصاف کرنا سکھایا۔ تجارت کے طریقے بتلائے۔ لین دین کے اصول سکھائے۔ بات کرنے اور چلنے پھرنے کے طور و طریقے بتلائے۔
آپ ﷺ جس مقصد کے لئے کائنات میں نبی و رسول بنا کر بھیجے گئے آپ نے اس فرئضء نبوت کو کما حقہ ادا کیا۔ اور بالکلی عرب میں چراغ توحید کو روشن کیا۔ پھر تمام عرب کے دل میں توحید جب رچ بس گئی تو اللہ کے حکم سے رفیق اعلیٰ سے جا ملے۔ دن و رات گردش کرتے رہیں،آبادیاں بڑھتی رہیں اور تدریج با تدریج لوگوں کے دلوں میں ایک اللہ کا تصور توباقی رہا مگرعمل کے میدان میں لوگ شرک و بدعت اور ضلالت و گمراہی کے دلدل میں پھنستے چلے گئے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کی بعثت کا جو اصل مقصد تھا لوگوں نے اسے فراموش کرکے من چاہی زندگی گزارنا شروع کردیا۔ اور لوگوں نے ان شرک و بدعات کو ہی اصل دین سمجھ لیا۔
جلسہ کی صدارت مفتی محمد عارف کاشفی، نظامت مولانا ابوبکر ندوی، کلام اللہ کی تلاوت سے حافظ محمداعجاز نے جلسے کا آغاز کیا۔ جبکہ حافظ حبیب الرحمٰن فرقانی نے نعت پڑھ کر حضور ﷺکی شان میں نذرانہء عقیدت پیش کیا۔ جلسے کی سرپرستی الحاج حافظ خلیل الرحمٰن صاحب نے کی،
جلسے میں مولانا فرمان مظاہری، مولانا عمر عبداللہ قاسمی، مولانا اختر قاسمی، مولانا عبید ندوی، مولانا محمود ندوی، حافظ محمود احمد انصاری،ذکی طارق بارہ بنکوی، الحاج سیٹھ محمدعرفان، حذیفہ شکیل انصاری، نہال انصاری، حاجی محمد نفیس وغیرہ کی شرکت قابل ذکر ہے۔