تلنگانہ

نظام شوگر فیکٹری مقدمہ میں تلنگانہ حکومت کی کامیاب پیروی پر تلنگانہ مزدوسنگھ کاریاستی حکومت سے اظہار تشکر

 

حیدرآباد _ تلنگانہ مزدوسنگھ کے جنرل سکریٹری مختار احمد خان نے اپنے صحافتی بیان میں نظام شوگر فیکٹری مقدمہ میں تلنگانہ حکومت کی کامیاب پیروی پر تلنگانہ مزدوسنگھ کی جانب سے ریاستی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کی بھی حکومت سے درخواست کی وہ کمپنی کو اپنے تحویل میں لیتے ہوئے ملازمین کے ساتھ مکمل انصاف کرے اور ان کے حقوق دلائے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نظام شوگرفیکٹری جس کو سال2002ء میں اس وقت کے چیف منسٹرمسٹر چندرابابونائیڈو کی حکومت نے خانگی انتظامیہ کے حوالہ کیا تھا۔

 

خانگی انتظامیہ نے2015؁ء میں اچانک فیکٹری کوبند کردیا جس کی وجہ سے تمام ملازمین روزگار سے محروم ہوگئے۔ اور آج بھی در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں جبکہ خانگی انتظامیہ کی جانب سے نیشنل ٹریبونل حیدرآباد بنچ میں مقدمہ دائر کیاگیاتھا کہ فیکٹری کی فاضل اراضیات کو فروخت کرتے ہوئے بینکوں کے بقایاجات کی ادائیگی کی اجازت دی جائے۔ 2019ء میں ٹریبونل بنچ حیدرآباد نے اپنے فیصلے میں فیکٹری کو تحلیل کرتے ہوئے ٹریبونل کی جانب سے لکویڈئٹرکا تقررکیاتھا۔ لیکن حکومت تلنگانہ کی جانب سے اس فیصلہ کے خلاف نیشنل ٹریبونل دہلی میں اس فیصلہ کو کالعدم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیاگیا۔نیشنل ٹریبونل دہلی نے اکٹوبر2021 ء کو کئی سنوائیوں کے بعد حیدرآباد بنچ کے فیصلے کو کالعدم قراردیا اور فیکٹری کے 2015ء کے موقف کوبرقراررکھا۔جس میں تلنگانہ حکومت کے 49فیصد شیئرز اورخانگی انتظامیہ کے 51 فیصدشیئربرقراررہیں گے۔ لیکن اس فیصلہ کے خلاف خانگی انتظامیہ سپریم کورٹ میں دائر کرتے ہوئے مقدمہ کو مزید طول دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

 

۔جنرل سکریٹری تلنگانہ مزدورسنگھ مختار احمد خان نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ جلد کوئی فیصلہ کرتے ہوئے فیکٹری کے ملازمین کے ساتھ انصاف کیا جائے۔کیونکہ فیکٹر ی کے تین یونیٹوں کے ہزاروں ملازمین اس وقت پریشان حال ہیں اور ایسی صورت حال میں ریاستی حکومت اور وزیر اعلی کے سی آر سے وہ امید کرتے ہیں جہا ں وہ کسانوں کے لئے جدوجہد کر رہے وہیں ان پریشان حال ملازمین کے حقوق انہیں دلائیں اور ان کاروزگار بحال کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button