زرعی قوانین کی منسوخی جمہوریت اور کسانوں کی بڑی کامیابی : امیر جماعت اسلامی ہند

 

”وزیر اعظم کی جانب سے تین زرعی قوانین کی منسوخی کا اعلان جمہوریت اور کسانوں کی بڑی کامیابی ہے۔ ان زرعی قوانین کی منسوخی بہت ضروری تھی اوراب جبکہ اسے منسوخ کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے تو یقینا یہ جمہوریت اور ہمارے ملک کے کسانوں کی بڑی جیت ثابت ہوئی ہے“۔ یہ باتیں جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے پریس کو جاری اپنے بیان میں کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ نہ صرف کسانوں کی جیت ہے بلکہ ہندوستان کے باشندوں اور ان تمام لوگوں کی بھی جیت ہے جنہوں نے عوام مخالف، غریب مخالف اور کسان مخالف قوانین کے خلاف احتجاجی مہم میں کسانوں کا ساتھ دیا۔ لیکن ہمیں اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے افسوس ہے کہ کسانوں کو ان غیر منصفانہ قوانین کے خلاف لڑنے کی بھاری قیمت چکانی پڑی اور سینکڑوں کسانوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ہم ان کسانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی جانیں قربان کیں“۔

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ”کسانوں نے اپنے احتجاج سے یہ دکھا دیا کہ کس طرح پُر امن احتجاج جمہوری طریقے سے کیا جاسکتا ہے اور سول سوسائٹی کے اس مثبت کردار کو بھی دکھادیا جو ملک و معاشرے کے مفادات کے خلاف جانے والے قوانین اور پالیسیسوں کے خاتمے کو یقینی بنانے میں تعاون دیتی ہے۔ہم اپنے کسان بھائیوں اور بہنوں کی ہمت اور استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے مقصد کو برقرر رکھنے کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں۔ کسانوں کے احتجاج نے حکومت کی بے حسی کو بھی ظاہر کردیا کیونکہ اس نے تحریک کو بزور طاقت کچلنے کی کوشش کی“۔سید حسینی نے مزید کہا کہ”اب ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ دیگر عوام مخالف اور آئین مخالف قوانین جیسے سی اے اے، این آر سی وغیرہ پر بھی نظر ڈالے اور اسے جلد سے جلد واپس لینے کو یقینی بنائے۔ہمیں خوشی محسوس ہورہی ہے کہ بالآخر جناب وزیر اعظم نریندر مودی جی نے ہندوستانی کسانوں کے مطالبات کو تسلیم کرلیا۔اگر اس کو پہلے ہی کرلیا جاتا تو جو نقصانات ہوئے اس سے بچا جاسکتا تھا۔