ہم تو مسلمان ہیں مسلمان گرجا گھروں میں نہیں بلکہ مسجدوں میں جایا کرتے ہیں

 

✍🏻 -: قلم کا اثر نسل در نسل :- ✍🏻

” از قلم :- نورالاسلام رحمانی “
8899105447
7498691400

بات ان دنوں کی ہے جب سن 1963ء میں مسلمانوں نے کینیا سے آزادی حاصل کرکے اپنے آپکو مسلم ملک صومالیہ سے جوڑنے کے لیۓ جدوجہد کی تو اس خانہ جنگی میں بے شمار مسلمان مرد مارے گئے۔
آبادیوں کی آبادیاں یتیموں اور بیواؤں کی وجہ سے کسمپرسی کا شکار ہوگئیں۔

” ایسے میں عیسائی مشنریوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کا موقع مل گیا عیساٸی مبلیغین اپنی پالیسی کے تحت ہسپتالوں، اسکولوں، یتیم خانوں اور دیگر تعمیرات کے نام پر مسلم پسماندہ بستیوں میں گھس گیۓ “

لہٰذا :-
انکی بے شمار مشنری اسی کام پر لگ گئیں جنھوں نے مسلمانوں کو گمراہ کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں نے بڑی تعداد میں عیساٸی مبلیغین کے ہاتھوں پر عیسائیت قبول کرلی۔
اسی ملک میں ایک قصبہ ہے جسکا نام قربت اللّٰه ہے جہاں عیسائیوں کی مشنریوں کے ذریعہ بچیوں کا ایک پرائمری اور ہائر سیکنڈری اسکول قاٸم کیا گیا۔
بچیوں کو آفس سیکرٹری، اسٹینو اور ٹائپسٹ کی تعلیم دینے کے لیۓ ٹائپنگ اور شارٹ ہینڈ کا ادارہ بھی مع قیام طعام کی سہولت کے ساتھ قائم کیا گیا۔

” کئی برس تک بچیوں کو تعلیم دینے کے بعد عیساٸی مبلغین سمجھے کہ یہ بچیاں اب مکمل طور پر انھی کے رنگ میں رنگ چکی ہیں اور ان کا اپنے دین اورخاندانی پس منظر سے رابطہ پوری طرح سے ٹوٹ چکا ہے “

اس لیۓ ان سبھی مسلم لڑکیوں کے نام تک تبدیل کر دیے گئے اسی دوران ایک عجیب واقعہ رونما ہوا جس سے تمام ہی عیساٸی مبلغین و پادری وغیرہ سکتہ میں آگیۓ۔
ہوا کچھ اسطرح جب ان بچیوں کی پاسنگ آؤٹ تقریب کا اہتمام اتوار کے دن گرجا گھر میں منعقد کیا گیا تو مسلم لڑکیاں انتظامیہ کے بناۓ پروگرام کے خلاف جاکر گرجا گھر میں حاضر نہ ہوئیں بلکہ اپنے ہاسٹل میں بستروں ہی میں دبکی رہیں۔
مشنری عملے نے یہ منظر دیکھ کر ہاسٹل میں ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا
اور کہا کہ فادر گرجا میں سرمن دے رہے ہیں اور تم ابھی تک تیار ہی نہیں ہوئیں۔

” ایک لڑکی نے ہمت کرکے مشنری کے عملہ سے کہا کہ ہم تو مسلمان ہیں اور مسلمان گرجا گھروں میں نہیں مسجدوں میں جایا کرتے ہیں ‘‘

لڑکی کی اس جرأتِ ایمانی سے ایک طوفان تو آنا ہی تھا،
اس ماحول اور ادارے میں ایک بے بس لڑکی کی یہ بات ایک دھماکے سے کم نہ تھی۔

اس پورے معاملہ کو لیکر چرچ میں تحقیق شروع ہوگئی ہماری رات دن کی محنت کے باوجود ہمارے اس ادرے میں مسجد اور مسلمان نام کی گونج
اتنا عرصہ مشنریوں کے زیر اثر رہنے کے باوجود ان لڑکيوں کو آخر کیاہوگیا ہے کہ انھوں نے اپنے آپ کو عیسائی کے بجائے مسلمان قرار دے دیا۔

” تحقیق پر پتا چلا کہ مولانا سیّد ابولاعلٰی مودودیؒ کی کتاب دینیات کا سواحلی زبان میں ترجمہ اس انقلاب کا محرک بنا “

دراصل اس ادارے میں ایک لڑکی کے پاس کسی ذریعہ سے یہ کتاب پہنچی تو اس نے اس کا مطالعہ کیا۔
وہ لڑکی کتاب سے بہت متأثر ہوئی اور آہستہ آہستہ سب لڑکیوں نے یہ کتاب پڑھ لی اور آپس میں طے کیا کہ :-

’’ ہم مسلمان ہیں اور ہمیں مسلمان ہی رہنا چاہیے‘‘ پہلی لڑکی جسکو یہ کتاب حاصل ہوٸی تھی اسکا نام فاطمہ تھا مگر اسے مارگریٹ بنا دیا گیا تھا۔ پھر حلیمہ ( نینسی) خدیجہ ( این) عائشہ (جیری) اور مریم (میری) کے علاوہ دیگر بچیاں یہ کتاب پڑھتی چلی گئیں اور اپنی اپنی شناخت پاکر صلیبی چنگل سے نکل آئیں “

مولانا مرحوم کی یہ انقلابی کتاب ”دینیات“ میرے مطالعہ میں پہلی مرتبہ سن 2012 ء میں آٸی جبکہ میں نے باقاعدہ اس کتاب کو اترپردیش کے ضلع شاہجہانپور قصبہ میرانپور کٹرہ کے ایک دینی ادارے میں ساتویں جماعت کے طلبہ و طالبات کو پڑھانے کا بھی شرف حاصل کیا ہے اس کے علاوہ تربیتی پروگراموں میں اجتماعی مطالعہ کے طور پر نوجوانوں کے بیچ پیش کرنے کا موقع بھی الحَمْدُ ِللّٰه میّسر آیا اس کتاب میں حسب ذیل سات (7) باب ہیں
باب اول :- اسلام
باب دوم :- ایمان اور اطاعت
باب سوم :- نبوت
باب چہارم :- ایمان مفصل
باب پنجم :- عبادات
باب ششم :- دین اور شریعت
باب ہفتم :- شریعت کے احکام

جب آپ اس کتاب کا مطالعہ کریں گے تو
آپکو اسطرح کے تمام سوالوں کے جواب مل جائیں گے جیسے ۔

اسلام کیا چاہتا ہے ?
اسلام کے عقائد کا زندگی سے کیا تعلق ہے ?
ان عقائد پر عمل کرنے کا کیا فائدہ ہے ?
اور نہ پہچاننے میں کیا حرج ہے ?
کیا اسلام صرف احکامات دے کر عقائد کو منوانا چاہتا ہے؟
کیا ان عقائد کی صداقت کا کوئی ثبوت ہے؟
ان تمام سوالات کے جوابات اس کتاب میں موجود ہیں۔
مطالعہ کے دوران آپ دیکھیں گے کہ آپ کا دماغ گھوم رہا ہے۔

-: الحَمْدُ ِللّٰه اس کتاب کا ترجمہ دنیا بھر کی کٸ زبانوں میں ہو چکا ہے :-

-: ڈاکٹر علامہ اقبالؒ مولانا مرحومؒ جیسے مفکرین کیلیۓ کہتے ہیں کہ :-

” اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں مگر تیرے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارا تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی کہ تو گفتار وہ کردار، تو ثابت وہ سیارا گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا “