ضرورت ہے چوتھے ستون کو گرنے سے بچانے کی!

تحریر: جاوید اختر بھارتی

 ہمارے ملک کا آئین دنیا میں بڑا اونچا مقام رکھتا ہے جمہوریت ہی ہمارے وطن عزیز کی خوبصورتی ہے، جمہوریت ہمارے ملک کی شان ہے اور میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ جمہوریت کو فروغ دے، بے سہاروں کے لئے سہارا بنے، ظلم و ناانصافی کی مخالفت کرے، مظلوم کی آواز بنے اور عوام کے خلاف حکومت کوئی قانون بنائے تو حکومت کے خلاف قلم چلائے اور ہر دبے کچلے سماج کو اوپر اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرے،،
 لیکن اب جس طرح کا کردار میڈیا چینل ادا کرہاہے وہ بہت ہی افسوسناک بھی ہے اور شرمناک بھی ہے شہریت تر میمی قانون کے سلسلے میں ہونے والے احتجاج کو ایک مخصوص رنگ دینے کی کوشش کی جارہی تھی مظاہرین کو مجرم قرار دیا جارہا تھا اور پولیس کی بربریت کو جائز قرار دیا جارہا تھا کسان تحریک کا آغاز ہوا تو اس میں بھی میڈیا کا کردار بہت ہی گھٹیا رہا یہاں تک ہوا کہ کسانوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی مجبور ہوکر دھکے مار مار کر میڈیا کے بہت سے لوگوں کو بھگایا اور اب تو وزیراعظم نے کسانوں سے متعلق زرعی قانون کو واپس لینے کا اعلان بھی کردیا تو میڈیا کے وہ اہلکار جو کسانوں پر ملک توڑنے کا الزام لگارہے تھے اور بہت سے نازیبا الفاظ و جملوں کا استعمال کررہے تھے تو کیا وہ کسانوں سے معافی مانگیں گے ؟
 غرضیکہ آج میڈیا کا کردار ایسا ہے کہ ان کے اوپر عوام کا اعتماد نہیں رہا ان کے اوپر سوال اٹھنے لگے ہیں اس لئے کہ چاہے جیسا بھی وقت آیا ہو لیکن میڈیا نے کبھی اپنے منہج اور کردار سے سمجھوتہ نہیں کیا تھا اور اسی بنیاد پر میڈیا کو چوتھا ستون قرار دیا گیا ہے اور مانا گیاہے لیکن آج کی میڈیا نے خود اپنے کردار کو مشکوک کردیا، خود اپنے وقار کو مجروح کردیا خود اپنے آپ کو بڑے بڑے پونجی پتیوں اور حکومت کے ہاتھوں کا کھلونا بنا لیا جبکہ انہیں غور کرنا چاہیے کہ جمہوری نظام کی عمارت میں ذرائع ابلاغ یاصحافت کا بہت اونچا مقام ہوتا ہے جس کا کام حکومت وقت کو بہتر مشورہ دینا اور معروضی محاسبہ کرکے عوامی جذبات و عوامی مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے میڈیا کو ملک کا، معاشرے کا چوتھا ستون کہاجاتا ہے یہ اپنی اہمیت تب برقرار رکھ سکتا ہے جب یہ غیر جانبدارانہ راستہ اختیار کرے اور حقائق پر مبنی خبریں عوام تک پہنچا ئے تبھی یہ عوامی مقبولیت حاصل کرسکتا ہے اور ان کے اوپر عوام کا اعتماد قائم برقرار رہ سکتا ہے لیکن یہاں تو بعض اینکرز اور میڈیا ذاتی اغراض و مقاصد کے حصول کیلئے اپنا کردار مجروح کرنے کے طریقے پر عمل پیرا ہیں جس کی وجہ سے سماج کے باشعور افراد میں بیچینی ہے اور بہت سے صحافی بھی ناخوش نظر آتے ہیں یہ موجودہ وقت کی میڈیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے اب میڈیا کو عوام کا اعتماد اسی حالت میں حاصل ہوگا جب میڈیا کے لوگ اپنے ماضی کے حالات پر غور کریں اور آج کے اپنے روئیے کا محاسبہ کریں اور ماضی کے حالات و طور طریقے کو اپنائیں یعنی حقائق کو اجاگر کرنا، دبے کچلے لوگوں کی آواز میں آواز ملانا، عوام کے جائز مطالبات کو فروغ دینا، کسی کے ساتھ حق تلفی ہوتو اسے روکنا، کنکر کو کنکر اور پتھر کو پتھر لکھنا، ہر طرح کے ظلم وجبر کی مخالفت کرنا، ہرطرح کی لالچ کو ٹھوکر مارنا، عوامی مفادات کو ترجیح دینا ان چیزوں کو شیوہ بنانا ہوگا اور یہ ساری چیزیں تبھی ممکن ہیں جب نیک نیتی ہوگی سینوں میں ملک و ملت کے تئیں ہمدردی و سچائی کا جذبہ ہوگا آج کے دور میں تو میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا سے عوام کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے عوام جب اپنے مطالبات کو لیکر کوئی تحریک چلاتی ہے تو اسے میڈیا سے بڑی امید ہوتی ہے کہ چلو ایک شعبہ ہے جس کے پاس قلم کی طاقت ہے اور وہ قلم جب چلے گا تو ہماری تحریک کو فروغ حاصل ہوگا، ہماری آواز ایوانوں میں گو نجے گی لیکن ملک کی میڈیا نے عوامی تحریکوں کی مخالفت شروع کردی جس کا نتیجہ آج سامنے ہے،، کوئی گودی میڈیا کہہ رہا ہے تو کوئی دلال میڈیا کہہ رہا ہے،، ضرورت اس بات کی ہے کہ آج کی میڈیا اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرے اور ملک کے چوتھے ستون کے معیار کو بلند کرے –