جنرل نیوز

ملک کی آزادی میں دینی مدارس کا کردار ناقابلِ فراموش، یوپی کے وزیر کا بیان ذہنی دیوالیہ پن کی علامت _ مفتی محمد اکرام الدین کانکرتوی کا اِظہارِ مذمّت

 

حیدرآباد 26 نومبر(اُردو لیکس) مفتی محمد اکرام الدین کانکرتوی امام وخطیب مسجدِ غفاریہ و استاد مدرسہ شوکت العلوم حیدرآباد نے اُترپردیش کے وزیر رگھوراج سِنگھ کا مدارسِ دینیہ کو دہشت گردی کی پناہ گاہیں کہنے والے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اِس بیان سے وزیر کی جہالت اور اُن کی تاریخِ ہند  سے عدمِ واقفیت آشکار ہوتی ہے،
مفتی اکرام نے کہا کہ مُلک اور اِس ملک میں بس نے والے باشندے کبھی بھی اِن مدارس دینیہ کے احسانات سے دست بردار نہیں ہوسکتے، کیونکہ آزادی کی تحریک چلانے اور انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی دے کر اُن کو یہاں سے بھگانے میں مدارس دینیہ ہمیشہ پیش پیش رہے، آزادی ہند کی جنگ میں تقریبا دو لاکھ مسلمان شہید ہوئے جن میں اکیاون ہزار علماء کرام بھی شامل ہیں،
اُنہوں نے کہا کہ وزیرِ موصوف کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ جس وقت اُن کے باپ دادا جنگِ آزادی میں انگریزوں کے تلوے چاٹ کر اُن کو معافی نامے لکھ رہے تھے اُس وقت یہی دینی مدارس سے نکل نے والے علماء کرام دیش کی آزادی کے لئے پھانسی کے پھندوں پے جھول رہے تھے،
انہوں نے کہا کہ دینی مدارس امن و محبت کا گہوارہ ہوتے ہیں جہاں سے نکلنے والے عُلماء و حُفّاظ حکومت پر بوجھ بنے بغیر اِنتہائی قلیل آمدنی میں بھی دیش واسیوں کو سُدھارنے اور ان کی تربیت کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں، اُنہوں نے آخر میں وزیر اعظم سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی جماعت کے ایسے افراد پر لگام کسیں جو اُن کے نعرے "سب کا ساتھ سب کا وِکاس اور سب کا وِشواس” کا مذاق اُڑاتے ہوئے ہمیشہ ایک مخصوص طبقے کو ہی اپنی نفرت و بُغض کے ذریعے نشانہ بناتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button