جنرل نیوز

عادل آباد میں "عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں” کے عنوان پر علماء و حفاظ و آئمہ کی خصوصی نشست

عادل آباد _ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔اس کے ایمان کا تقاضہ آخرت میں حصول جنت اور شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذریعہ ہے۔ان خیالات کا اظہار میدان تحفظ ختم نبوت کے شہسوار حضرت مولانا سید ایوب قاسمی ورنگل نے مدرسہ خدیجتہ الکبری للبنات سندریہ نگر عادل آباد کے زیراہتمام منعقدہ علماء و حفاظ و آئمہ کی خصوصی نشست بعنوان "عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں”کے موقع پر کیا۔

 

مولانا سید ایوب قاسمی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ عقیدہ ختم نبوت روح ایمان و تکمیل ایمان ہے۔اس کے بغیر ایمان ادھورا ہے۔پوری امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا۔اللہ رب العزت نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم نبوت کا تاج پہنا کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کے سلسلے کو ختم کردیا۔خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا۔مولانا نے کہا کہ ختم نبوت اسلام کی جان ہے۔اسلام کی بنیاد توحید رسالت اور آخرت کے علاوہ جس بنیادی عقیدہ پر ہے وہ ہے عقیدہ ختم نبوت۔ساری شریعت اور سارے دین کا مدار اسی عقیدہ پر ہے قرآن کریم کی ایک سو سے زائد آیات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سینکڑوں احادیث اس عقیدے پر گواہ ہیں۔انہوں نے آگے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تیس کے لگ بھگ دجال اور کذاب پیدا نہ ہوں جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے

نعوذباللہ۔انہی میں سے غلام احمد قادیانی ہے جس نے نبی اور رسول ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا اور سینکڑوں لوگوں کو اپنے جال میں پھانس لیا۔قادنیت کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے چنگل سے بھولے بھالے مسلمانوں کے ایمان کا تحفظ کرنا وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور علماء و حفاظ کو اپنا قیمتی وقت نکال کر توحید و رسالت پر ڈاکہ ڈالنے والوں سے عوام کو ہوشیار کرنے پر توجہ دلائی۔اور باضابطہ نوجوان علماء و حفاظ کی ایک ٹیم تشکیل دیتے ہوئے ضلع عادل آباد کے دیہاتوں بالخصوص مہاراشٹرا کے پہاڑی علاقوں جہاں مسلمانوں کی آبادی ہو وہاں خصوصاً وقتاً فوقتاً دورہ کرتے ہوئے تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں جدوجہد کی جانی چاہئے۔اور اسی طرح جو نوجوان گمرہ کن فتنوں سے متاثر ہوئے ہوں ان کے لئے بھی راہ راست پر لانے کے لئے باضابطہ کونسلنگ کا نظام رکھا جائے اور مرد و خواتین کے علحیدہ علحیدہ اصلاح معاشرہ و عقیدہ ختم نبوت عنوان پر اجلاس منعقد کیے جائیں

۔واضح رہے کہ اجلاس کی صدارت صدر جمعیت علماء حافظ ابوبکر حامد نے کی،جبکہ سرپرستی مولانا منیر الدین رشیدی نظم مدرسہ خدیجتہ الکبری للبنات نے کی اور نظامت کے فرائض مفتی سردار رحمانی قاسمی ناظم تعلیمات مدرسہ ہٰذا نے کی۔قبل اس کے حافظ ارباز متعلم دارالعلوم محمدیہ کی تلاوت قرآن کریم اور حافظ مدثر کے نعتیہ اشعار سے اجلاس کا آغاز عمل میں آیا۔مہمان خصوصی مولانا سید ایوب قاسمی ورنگل کی رقت انگیز دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا۔اس موقع پر مفتی سید اکرام الدین مفتاحی آرمور نے بھی مخاطب کیا۔جبکہ مفتی محمد مصطفیٰ مظاہری نے اجلاس کی نگرانی کی۔اسی دن بعد عشاء جلسہ عام کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔جس میں مرد و خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔خصوصی نشست کے اختتام پر علماء و حفاظ نے ذمہ داری کے احساس کے ساتھ تحفظ ختم نبوت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔اس موقع پر مقامی علماء و حفاظ و آئمہ حضرات کی کثیر تعداد موجود تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button