غیر مسلموں میں اسلام کا تعارف کیسے ہو؟

افادات :حضرت مولانا محمد عبد القوی صاحب مد ظلہ العالی ناظم جامعہ اشرف العلوم حیدرآباد

مع و ترتیب :- مفتی محمد عبد الحمید قاسمی*

 

معلم جامعہ صدیقیہ فیض العلم کریم نگر

 

ابتداء آفرینش سے ہی حق و باطل کی کشمکش چلتی ہوئی آرہی ہے اور تا قیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا، اور یہ بات بھی مُسلّم ہے کہ ہمیشہ حق کی فتح ہوئی ہے، کیونکہ حق کی دعوت ظلم و نا انصافی، اور تلوار کے زور پر نہیں بلکہ عمدہ اخلاق، بہترین کردار اور انسانیت کا اعلیٰ  نمونہ پیش کرنے کے ذریعہ ہوئی ہے،-

ہر شعبہ (فیلڈ) میں نبی کا نمائندہ بن کر زندگی گزاریں :

انسان وہ ہے جسے دوسرے کی تکلیف اور درد کا احساس ہو ورنہ وہ انسان نہیں کہلاتا، روایتوں میں یہ بات موجود ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پھنسلی سے حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا کیا تو حضرت آدم علیہ السلام نے ایک قسم کا انس اور سکون محسوس کیا،  معلوم ہوا انسان انسانیت کا سبب ہے، لھذا زندگی گزارنے کے لئے جس میدان میں بھی اپنی خدمت و مصروفیت حتی کہ اپنے معاش اور روزی کے لئے ہی کیوں نہ ہو اس میں انسان بلکہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے باقی رہیں، غیر کو بھی یہ لگے کہ ہمارے ساتھ ایک انسان بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ لگے کہ مسلمان ہمارے ساتھ ہے، ایمان نہ کتاب میں نہ زبان پر بلکہ انسانیت کے سانچے میں جگمگاتا ہے، انسانیت ہوگی تو ایمان کی روشنی پھیلے گی اور لوگوں کے قلوب تک پہنچے گی، اسی لئے نبی کریم ﷺ نے نمازی، روزہ دار اور حاجی کو کامل مومن والا قرار نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ تم میں کامل مومن وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ بہتر اخلاق والا ہو، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ سونے چاندی کی کان کی طرح ہے جس معیار میں کان ہو، سونا چاندی اسی طرح سے نکلتا جائے گا، اس طریقہ پر جس معیار پر انسان کی انسانیت ہو اسی کے مطابق شرافت کا ظہور ہوگا، جو لوگ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی اچھے ہیں ان میں اسلام تو پہلے بھی موجود تھا اسلام نہیں تھا، اس لئے ہر جگہ انسانیت پر کھرے اترنا چاہئے اور حضورﷺ نے جو زندگی گزار کر بتلائی ہے وہی اسلام اور انسانیت ہے، کیونکہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر کوئی انسانیت نواز اور انسانیت مزاج نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے جس کو جس جگہ موقع دیا ہے اپنی صلاحیت کے ذریعہ اس مقام تک پہنچنا چاہئے وہاں پہنچ کر ایسے رہنا چاہئے کہ وہ اس ماحول اور سرکل میں اللہ تعالیٰ کا نمائندہ بنے، اسلام دنیوی علوم کے حاصل کرنے سے منع نہیں کرتا ہے بلکہ اس کے لئے اپنے سینہ کو کشادہ رکھتا ہے کہ ایک مسلمان ڈاکٹر، انجینئر، ٹکنالوجسٹ، سائنٹسٹ، ایجوکیٹیڈ، صحافی، اور سیاست کے میدانوں کا کارندہ بنے، کیونکہ یہ سب انسانوں کی ضرورت ہے مگر وہاں انسان اور مسلمان بن کر موجود نہ ہو تو اس کا ہونا نہ ہونا دونوں برابر ہے، اس کے موجود ہونے کے باوجود بھی مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے، جس میدان کا بھی انتخاب کریں ہر ایک کو اختیار ہے، البتہ شرط یہ ہے کہ ناجائز اور حرام کام نہ ہو حتی المقدور ہر جائز خدمت کریں، لیکن آج ہماری کمزوری یہ ہے کہ تعلیمات اور شعائر کو دکھانا تو دور کی بات ہے چھپانے کی کوشش کریں گے، جبکہ کروڑوں خداؤں کو ماننے والے اپنے مذھب کو اپنی ظاہری وضع قطع کے ذریعہ دکھانا چاہتے ہیں، اور کھلے طور پر اپنی فکر اور نظریات کا اظہار کرتے ہیں، ڈاکٹر، وکیل، انجینئر ، سیاست داں، صحافی، تاجر ہر ایک کو اپنے اپنے شعبہ میں نبی کا نمائندہ بن کر زندگی گزارنا ہے تب جا کر ہی غیروں کے اعتراضات اور اسلامی احکام میں  شکوک و شبہات کا سلسلہ تھم سکتا ہے –

میڈیا کا مسلمانوں کے ساتھ منافقانہ رویہ

میڈیا اپنے پورے زور کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے، مسلمانوں کی تعداد کو کبھی جلاد تو کھبی عالم کیلئے خطرہ تو کبھی مسلمانوں کا وجود ہی امن و سلامتی کو ختم کرنے والا بتلا کر ایک دوسرے کے دلوں میں آگ بھڑکاتا ہے، پوری دنیا میں کہیں حادثہ پیش آئے تو سب پہلے مسلمان کو ٹارگٹ بنایا جاتا ہے اور میڈیا نے یہ فیشن بنادیا ہے کہ ایک غلطی اگر مسلمان کرے تو پوری دنیا اس کو ٹویٹ کرتی ہے، اگر کوئی دوسرا کرے تو نہ کسی ویب سائٹ پر آتا ہے نہ کسی کی زبان پر اس کا چرچہ ہوتا ہے، دوغلی پالیسی اور منافقت کا ماحول چل رہا ہے –

حالات حاضرہ میں تعلیم یافتہ اور دانشوران ملت کی ذمہ داریاں:

دنیا کے بڑے مناصب، عہدہ داروں اور تعلیم یافتہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے میدان اور فیلڈ میں دین کی علامت اور نمائندہ بنے، اپنی وضع قطع اور اپنے کردار سے اسلام کا تعارف پیش کریں اور یہ بات ذھن میں رکھیں کہ دیندار اور اللہ والے بننے کے لئے دنیا چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے نیز بتلائیں کہ بلا لحاظ قوم و ملت، عقیدہ ومسلک ہم انسانیت کے لئے جیتے ہیں، کووڈ کے دور میں جب لوگ پریشان حال تھے، اس وقت مسلمانوں نے اپنے جان و مال سے غیر معمولی طور پر انسانی خدمت کی، لیکن میڈیا نے اتنے اہم معاملہ کو پس پشت ڈال دیا جبکہ میڈیا کی دیانتداری یہ تھی کہ مسلمانوں کا یہ کارنامہ پوری دنیا کے سامنے لاتے، لیکن دبایا اور چھپایا گیا بلکہ بعض علاقوں میں غیر مسلم مسلسل مسلمانوں کی خدمات سے متاثر تھے، لیکن مسلمانوں کو یہ کہہ کر بدنام کیا گیا کہ "وہ اپنے مفاد اور تم کو مسلمان بنانے کی خاطر یہ خدمت کی، تم ہوشیار اور چوکنا رہنا” اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا کام باقاعدہ ہورہا ہے اس کا مقابلہ رونے دھونے، نا امیدی اور مایوسی سے نہیں ہوگا بلکہ جن چیزوں سے انسانوں کے دل جیتے ہیں ان کاموں کو اور اضافہ کرنا ہوگا، انسانیت کب تک انکار کرے گی انسانیت کو ایک نہ ایک دن ضرور ماننا پڑے گا نیز اب کام وعظ و نصیحت اور ذکر و تلاوت تک ہی محدود نہیں رکھنا ہے بلکہ دنیا والوں کے جو مطالبات ہیں دین کو چھوڑے بغیر اللہ کے دین کی روشنی میں پورا کرنا ہے، مولانا ابو الحسن علی میاں ندویؒ فرماتے ہیں کہ "ہم تو نبی کی ایک سنت مسواک کو بھی نہیں چھوڑیں گے چاہے ساری حکومت ہمارے مقابلہ میں آجائے” اگر کوئی کہے کہ ایک سنت سے دستبردار ہو جاؤ ہم تمہارے سارے مطالبات اور حقوق دی دیں گے، تو ہم یہ حقوق چھوڑیں گے سنت نہیں چھوڑیں گے، حضور ﷺ نے دین کردار سے پھیلایا ہے تلوار سے نہیں، اسلام کی تبلیغ و اشاعت تو اخلاق، رحم دلی اور خیر خواہی کے ساتھ ہوئی ہے، تلوار تو ظالم پر اٹھی ہے یہ بات ہمیں اپنے طرز عمل سے ثابت کرنا ہے جو نہیں جانتے انھیں بتایا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ آج سماج میں مسلمان ہر طبقہ میں غیروں کے ساتھ ملازمت، کاروبار، تجارت اور زراعت وغیرہ کے ذریعہ تعلق رکھا ہوا ہے مگر مسلمان نے اپنے کردار اور زبان سے ان کے سامنے اسلام پیش نہیں کیا، مسلم اسٹوڈنٹ غیر مسلم دوست کو، مسلم تاجر غیر مسلم تاجر کو، مسلم۔ ٹیچر غیر مسلم ٹیچر کو، مسلم مظلوم نے غیر مسلم مظلوم کو بتلایا ہی نہیں کہ ہمارا دین کیا ہے-

غیر مسلم برادری میں بغیر مفاد کے تعلق جوڑیں:

انسانیت اور اعلی اخلاق سے فائدہ پہنچائے دور نبوی ﷺ کا واقعہ ہے ایک غیر مسلم کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا گیا ، رعب کا زمانہ ہے اپنی مسجد اور اپنی قید میں لیکن اس قیدی کے ساتھ بھی حسن سلوک کیا گیا، مسلمان ماز کے وقت کھجور، دودھ لاتے اور حضور ﷺ ہر نماز کے بعد ہمیشہ اسلام کی دعوت دیتے وہ غیر مسلم ہمیشہ انکار کرتا رہا ایک مرتبہ اس نے کہا آپ سے بھلائی کی امید رکھتا ہوں آپ مجھے چھوڑ دیجئے آپ نے اس کو چھوڑ دیا وہ شخص مدینہ کے باغات میں جاکر غسل کیا اور کپڑے پہنے کر آپ کی خدمت میں آکر کہا آپ مجھے مسلمان بنا دیجئے پہر کہا قید کی حالت میں بھی میں مسلمان ہو سکتا تھا مگر لوگ کہیں گے کہ مجبور ہوکر یہ اسلام قبول کیا ہے، پوری تاریخ میں کسی کو بھی مجبور کر کر مسلمان نہیں بنایا گیا ہے اور نہ اسلام اس کی تعلیم دیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے فرمایا اَفَاَنۡتَ تُکۡرِہُ النَّاسَ حَتّٰی  یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۹﴾ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرو گے تاکہ وہ سب مومن بن جائیں؟(سورہ یونس: 99)

آپ کا کام صرف دعوت دینا ہے، لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے (البقرة:  253)

اس لئے حضور ﷺ نے کس کو مجبور نہیں کیا، اسلام جس نے قبول کیا قبول کیا ، ظالم کا مقابلہ کرنا بھی ظلم ہے اسی وجہ سے عورتوں بچوں، بوڑھوں معروف اور وہ لوگ جو لڑائی میں شریک نہیں ہے ان کو چھوڑ کر جو جنگ کرنے کے لیے آئے انھیں سے مقابلہ کیا گیا-

*خلاصہء کلام :-* اہل علم اور دانشوران ملت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام پر ہونے والے اعتراضات اور شکوک و شبہات کا حوالہ کے ساتھ جواب دیں ، اگر ہمیں سماج میں جینا ہے تو اپنے مذہب اور اپنے دین کی نمائندگی کے ساتھ اور آپ کی لائ ہوئی شریعت اور رسالت کے تحفظ کے ساتھ جینا ہے مقصد عظیم ہو اور مقصد عظیم وہ ہے جو نبی نے متعین کیا ہے اور مقصد وہ جس کے لئے اللہ نے ہمیں پیدا کیا، انفرادی کوتاہیوں سے بچیں، اگر ہوجائیں تو توبہ و استغفار کریں اور اجتماعی غلطیاں جس سے اسلام کی شبیہ خراب ہوتی ہے ان سے مکمل احتراز کریں اور اپنی زبان اور کردار سے سچے اور پکے مسلمان بن کر غیر مسلموں کے سامنے اسلام کا صحیح تعارف پیش کریں –

 

دعا ہے کہ الله تعالٰی ہم سب کو سب کی دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے آمین یا رب العالمین