اوٹکور میں بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر جلسہ عام میں مقررین کا اظہار خیال

اوٹکور میں بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر جلسہ عام میں مقررین کا اظہار خیال

 

تم زمیں کے فیصلہ پر خوشی منالو

ہم آسماں کے فیصلہ کا انتظار کریں گے-

 

اوٹکور: (اردو لیکس۔محمد وسیم) ضلع ناراٸن پیٹ کے اوٹکور منڈل میں 6 ڈسمبر کو مسلمانانِ اوٹکور کی جانب سے بابری مسجد کی یاد میں ایک جلسہ عام کا اہتمام شادی خانہ اوٹکور میں کیا گیا جس کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا عبداللّٰه جاوید نے بابری مسجد کی شہادت پر تراناِ بابری پیش کیا,

پروگرام کی صدارت جامع مسجد پنچ کے صدر عبدالخالق صاحب نے کی

اس موقع پر مکہ مسجد کے امام حافظ محمد افتخار کی افتتاحی گفتگو کے بعد بستی کے معزز ذمہ داران جیسے منصور احمد صاحب امیر مقامی جماعت اسلامی ہند اوٹکور, سیف اللّٰه رحمانی صاحب امیر مقامی اہلحدیث اوٹکور, بشیر احمد صاحب, قاضی عبدالخالق صاحب صدر شاہی مسجد و امیر مقامی اہلسنت والجماعت اوٹکور اور عبدلرشید نگری وغیرہ نے بابری مسجد کی شہادت کے حوالہ سے اظہار خیال پیش کرتے ہوۓ مسلمانوں سے متحد رہنے کی اپیل کی۔

جلسہ میں جامع مسجد پنچ کے خطیب و امام مولانا نورالاسلام رحمانی صاحب نے خطاب فرماتے ہوۓ بابری مسجد کے قیام سے لیکر سپرم کورٹ کے فیصلہ تک تمام تاریخی مناظر پر سیر حاصل گفتگو کی۔انہوں نے سپرم کورٹ کے فیصلہ کے تین اہم نکات بیان کرتے ہوۓ کہا کدو سال قبل ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی سیاہ فیصلہ میں کہا کہ :-

 

1- 23 اور 24 ڈسمبر 2021 ء کو آدھی رات چوری چھپے مورتیاں رکھنا غیر قانونی تھا۔

2- مسجد کی جگہ مندر ہونے کا کوٸی ثبوت عدلیہ کو نہیں ملا ۔

3- 1992ء کو مسجد توڑنا قانونی جرم تھا۔

 

مولانا نے کہا اس سب کے باوجود عدالت نے اپنا فیصلہ نہ صرف مسلمانوں کے خلاف دیا بلکہ ملک کی اکثریت کو خوش کرنے اور انکی آستھا کا حوالہ دیکر ایک جمہوری ملک کے قانون کا گلا گھونٹ دیا انہوں نے مسلمانِ اوٹکور سے اپیل کرتے ہوۓ کہا کہ حالات بد سے بدتر نظر آرہے ہیں اس لیۓ ہمیں چاہیۓ کہ ہم اپنا کوٸی جامع لاٸحہ عمل تیار کریں متحد ہوں اور مساجد کی آبیاری و آبادکاری کی جانب متوجہ ہوں۔

 

اس موقع پر عبادالرحمٰن ناٸب سرپنچ, مزمّل چاندی, عبدالخالق گنتہ, عبدالخالق ہوٹل, محمد ظہیر, سیف اللّٰه, عبدالقیوم, محمد ذاکر محمد عادل وغیرہ دیگر نوجوانونانِ اوٹکور, جماعتوں اور تنظيموں سے منسلک ذمہ دار احباب کثیر تعداد میں موجود تھے۔