خانقاہ قتالیہ میں علمی مذاکرہ سے علماء جامعہ نظامیہ کا خطاب

بزرگادین کی خانقاہیں انسانیت کے لئے عظیم تربیت گاہیں ہیں

 

 

بزرگادین کی خانقاہیں انسانیت کے لئے عظیم تربیت گاہیں ہیں

خانقاہ قتالیہ میں علمی مذاکرہ سے علماء جامعہ نظامیہ کا خطاب 

 

نارائن پیٹ 6/ڈسمبر( نامہ نگار) خانقاہ قتالیہ کولم پلی میں 5/ڈسمبر بروز اتوار بعدنماز مغرب بضمن 547 واں عرس شریف حضرت مخدوم خواجہ سید شاہ احمد قتال حسینی اشرفی جلالی رحمتہ اللہ علیہ کولم پلی میں علمی مذاکرہ سیمینار کا بصدارت مخدوم خواجہ سید شاہ جلال حسینی اشرفی جلالی سجادہ نشین بارگاہ قتالیہ انعقاد عمل میں آیا علمی مذاکرہ کا آغاز سید شمس عالم حسینی کی قرات محمد مشتاق متعلم مدرسہ دارالعلوم اشرفیہ نعت پاک سے ہوا جس میں مولانا حافظ شکیل کامل جامعہ نظامیہ اپنا مقالہ بعنوان (خانقاہی نظام کی اہمیت وضرورت اور صحبت صالحین )خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خانقاہ ایک ایسا مقام ہے جہاں انسان کی تربیت، سونچ اور اس کے خیالات کو اسکے اعمال کو عین شریعت کے مطابق ڈھالا جاتا،اور مزید کہا کہ خانقاہوں میں برے اخلاق اور صفات مذمومہ سے نفس کو پاک کیا جاتا ہے اور اخلاق عالیہ اور صفات حمیدہ سے مزین کیا جاتا ہے اور بزرگان دین کی خانقاہیں انسانیت کے لئے عظیم تربیت گاہ ہیں،

مولانا حافظ امتیاز الرحمن کامل جامعہ نظامیہ اپنا مقالہ بعنوان( حقوق العباد قرآن وحدیث کی روشنی میں) سے گفتگو کرتے ہوئے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ تم سے کوئی مومن کامل ہونہیں سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو وہ اپنے نفس کے لئے پسند کرے اور مزید کہا کہ والدین سے حسن سلوک سے پیش آنا نماز، روزہ، حج اور جہاد فی سبیل اللہ سے بہتر ہے۔ نظامت کے فرائض۔مولانا حافظ محمد شفاعت علی نظامی نے انجام دیا جس میں علماء کرام مشائخین عظام کے علاوہ، سید ولی اللہ حسینی، سید دستگیر حسینی، سید یونس قادری سگری، محمد عمران اشرفی خلیفہ شیخ الاسلام،محمد شفیع چاند، عبدالسلیم ایڈوکیٹ، خلیل احمد تاج، رفیق چاند،ڈاکٹر لیاقت،محمد ہدایت اللہ ، حافظ فاروق بن مخاشن، حافظ حسن، تاج الدین ٹنگلی،ریاض الدین رنگریز ، ذاکر ہزاری، محمدتقی خرادی، محمدسمیع، دستگیر چاند ‘ معین الدین انپور،محمد جعفر تاج ودیگر موجود تھے مولانا سیدشاہ احمد حسینی اشرفی جلالی جانشین سجادہ کے شکریہ پر سمینار کا اختتام عمل میں آیا۔