جنرل نیوز

547 واں عرس حضرت سید شاہ احمد قتال حسینی ؒ کے موقع پر بین مذہبی کانفرنس 

547 واں عرس حضرت سید شاہ احمد قتال حسینی ؒ کے موقع پر بین مذہبی کانفرنس 

جانشین دیوان جی اجمیر سید نصیرالدین چشتی’ وائیس چانسلر مانو عین الحسن’ محبوب نگر ایم پی ودیگر نے کی شرکت

نارائن پیٹ: ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے۔ جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے الگ الگ زبان بولنے والے اور تہذیب وثقافت کو جداجدا رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن ان سب کی اپنی اپنی انفرادیت کے باوجود قومی یکجہتی کے دھاگے میں پروے رکھنے کا کام اولیاء اکرام کے آستانوں پر ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بھٹکی ہوئی انسانیت کو صیح راہ دکھاے جانے کا عمل ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مذاہب کے پیشواء اور سیاسی قائدین نے نارائن پیٹ منڈل کے موضع کولم پلی درگاہ حضرت سید شاہ احمد قتال حسینی اشرفی جلالی کے 547 واں عرس شریف کے موقع پر بین مذہبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جسکی صدارت مولانا الحاج سید شاہ محمد محمد الحسینی گوگی شریف نے کی۔

 

جبکہ مولانا سید شاہ جلال حسینی اشرفی جلالی سجادہ نشین بارگاہ قتالیہ کولم پلی نے نگرانی کی۔ اس بین مذہبی کانفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے سید نصیرالدین چشتی جانشین و دیوان اجمیر شریف و صدرنشین آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل’ سید عین الحسن وائیس چانسلر مانو یونیورسٹی’ محمد حنیف علی سنٹرل وقف کونسل ممبر’ وحید پاشاہ قادری نیشنل کوڈینٹر اے آئی ایس ایس سی’ سرینواس ریڈی ایم پی محبوب نگر’ نظام پاشاہ چیرمین ڈی سی سی بی’ ڈاکٹر چیتنیا ضلع ایس پی’ امتیاز اسحاق سیکریٹری ٹی آر ایس’ سید مصطفی قادری کرناٹک’ سید شاہ اشرف رضا رائچور’ مولانا عبدالناصر مظاہری’ ناگوراو ناموجی’ دیاکرریڈی سابق ایم ایل اے’ ڈاکٹر تبریز حسین تاج’ امیر الدین ایڈوکیٹ’ محمد تاج الدین ضلع معاون رکن کے علاوہ مختلف مذاہب کے پیشواء دیگر نے شرکت کی۔مقررین نے کہا کہ اولیاء اللہ کے آستانوں سے انسانیت کا پیغام ملتا ہے۔ اور ہر شخص ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرے۔ سید نصیرالدین چشتی جانشین دیوان جی اجمیر شریف ودیگر مہمانوں کا شاندار استقبال کیا گیا ۔

 

 

اس موقع پر سجادہ نشین بارگاہ قتالیہ کولم پلی مولانا سید شاہ جلال حسینی اشرفی اور جانشین سجادہ بارگاہ قتالیہ کولم پلی مولانا سید احمد حسینی اشرفی جلالی کے ہاتھوں مہمانوں کی گلپوشی کی گی۔ اس موقع پر محمد شفیع چاند’ محمد جعفر تاج’ محمد تقی چاند’ فضل احمد’ ودیگر موجود تھے۔ عبدالسلیم ایڈوکیٹ نے کانفرنس کی کارروائی چلائی۔ سید فیض پاشاہ کے اختتامی کلمات سے کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا۔کانفرنس کے دوران جنرل بپن راوت ودیگر کے موت پر 2 منٹ کی خاموشی مناتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button