نیشنل

کسانوں کے احتجاج نے سبق دیا کہ عوامی رائے کی قدر کی جانی چاہئے : نائب امیر جماعت اسلامی ہند

*کسانوں کے احتجاج نے سبق دیا کہ عوامی رائے کی قدر کی جانی چاہئے : نائب امیر جماعت اسلامی ہند*

نائب امیر جماعت اسلامی ہند پروفیسر سلیم انجینئر صاحب نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”کسانو ں کا احتجاج جمہوریت کی جیت ہے اوراس سے یہ بھی سبق حاصل ہوتا ہے کہ جمہوریت میں لوگوں کی آراء کی قدر کی جانی چاہئے۔ کسانوں کا حالیہ احتجاج ہمارے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور تمام مذاہب، ذاتوں اور خطوں کے لوگوں کے متحد ہوکر اپنے حقوق کے لئے جدو جہد کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ احتجاج کثرت میں وحدت کی طاقت کا مظاہرہ تھا۔ قابل ذکر ہے کہ کسانوں نے ابھی اپنا احتجاج واپس نہیں لیا ہے بلکہ اسے موقوف کیا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ موجودہ حکومت پر کسانوں کی عدم اعتمادی محسوس ہوتی ہے۔حکومت پر اعتماد کی یہ کمی تشویشناک ہے۔ اس کی وجہ ماضی میں سامنے آئے حکومت کا رویہ اورحکومت کی جانب سے کئے جانے والے بیشتر وعدوں اور اعلانات کی عدم تکمیلی ہے۔ ایک جمہوری ملک میں لوگوں کی آراء کی قدر کی جانی چاہئے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے کسی بھی فیصلے کو اٹل قرار نہ دے، کیونکہ یہ آمریت کو ظاہر کرتا ہے جبکہ کسی بھی جمہوری ملک میں حکومت اپنے عوام کی رائے کی قدر کرنے کی پابند ہوتی ہے۔یہاں پر یہ بھی غور کرنے والی بات ہے کہ حکومت کی جانب سے غیر منصفانہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ انتخابی مجبوریوں کی وجہ سے کیا گیا ہے یا جمہوری اور آئینی روح کی بقا کے لئے کیا گیا؟ اگر حکومت واقعی کسانوں کے مفادات کا خیال رکھتی اور انہیں اہمیت دیتی تو اس فیصلے کو پہلے ہی واپس لے لیتی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے ان زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا فیصلہ مجبور ہوکر کیا ہے۔کیونکہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اسے اپنی ممکنہ شکست نظر آرہی تھی۔اس لئے حکومت کا یہ فیصلہ کسانوں میں اعتماد پیدا کرنے کا محرک نہیں بن رہا ہے۔پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ ” حکومت زرعی قوانین کو محض کاشتکاری اور زراعت کے نقطہ نظر سے نہ دیکھے۔بلکہ اس کا اثر ملک کی پوری معیشت پر پڑتا ہے۔۔ لہٰذا حکومت کو ایسی پالیسیاں لانی چاہئے جو زرعی معیشت کی ضروریات کے ساتھ منڈی کی ضروریات اور تقاضوں کو پورا کریں۔حالیہ زرعی قوانین کے بننے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم قومی اورعام شہری مفادات کو بھلا کر بین الاقوامی اداروں اور ایجنسیوں کے حکم کی اندھی تقلید کررہے ہیں۔کسانوں کے مسائل کے حل کے لئے ایک جامع اور پائیدار طریقہ کار کو عمل میں لانے کی ضرور ت ہے۔ کسانوں کے احتجاج نے یہ بتا دیا کہ آج بھی جمہوریت اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پُر امن احتجاج حکومت تک اپنے جائز مطالبات پہنچانے کا بہترین زریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ کسانوں کا مسئلہ معاشرے میں ہر سطح پر بحث کا موضوع بننا چاہئے۔ہمیں کسانوں کے احتجاج سے سبق سیکھنا چاہئے اور سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جمہوریت میں عوام کی آراء کی قدر کی جانی چاہئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button