جنرل نیوز

مطالعہ کتب شخصیت کے ارتقأ کا ضامن, افراد کے مجموعہ سے بنتا ہے معاشرہ صالح معاشرہ کیلیۓ افراد کی اصلاح لازم

*_” مطالعہ کتب شخصیت کے ارتقأ کا ضامن, افراد کے مجموعہ سے بنتا ہے معاشرہ صالح معاشرہ کیلیۓ افراد کی اصلاح لازم “_*

 

 

” اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾ “

 

ازقلم :- ✍🏻 *_” نورالاسلام رحمانی “_* ✍🏻

{91 8899105447}

 

مطالعہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ :

عرب کے بگڑے معاشرہ میں ایک صالح انقلاب یا یو کہیں کہ سماج کی تشکیل نو کیلیۓ افراد کو تیار کرنے کیلیۓ حضرت محمدﷺ پر چالیس (40) سال کی عمر میں وحیِ اول کی پہلی آیت کا لفظِ اول ہی اقرأ (پڑھو) کے ساتھ ہے۔

اور 23 سال کے قلیل عرصہ میں

اسی اقرأ والی پالیسی کے تحت ایک ایسا انقلاب برپا ہوا کہ تاریخ عالم اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔

 

اسی بات کو بطور یاد دہانی ڈاکٹر علّامہ اقبالؒ نے اپنے کلام میں کہا ہے کہ:-

*_” سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا “_*

اب اس بات میں کوٸی شک نہی رہ جاتا ہے کہ کتابوں کا سب سے بڑا اور اولین مقصد ہی یہ ہے کہ انکو پڑھا جائے اور ان سے استفادہ کیا جائے۔

کتابیں مصنفین کے طویل مطالعہ و جدّو جہدِ مسلسل کا نچوڑ ہوا کرتی ہیں، قاری اُن سے کم وقت میں بہت سے فوائد حاصل کرسکتا ہے۔

 

ہر انسان کا بہترین ہمنشین کتاب ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اچھی کتاب اپنے قاری کے لیۓ ایسے دوست کی حیثیت رکھتی ہے جو اُس کو کبھی تنہائی کا احساس ہونے نہیں دیتی اور نہ ہی اکتاہٹ کو اُس کے قریب پھٹکنے دیتی ہے۔

یہ ایک ایسے ہمسفر کی مانند ہے جو اپنے ساتھی کو دوردراز کے علاقوں اور شہروں کی سیر کرادیتی ہے یہاں تک ایسی شخصیات کی رفاقت کا جیسا احساس پیدا کرادیتی ہیں جن سے ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔

یوں تو کتابیں پڑھنے کے بے شمار فوائد ہیں اور کتابوں کوبہترین دوست ہونے کے ساتھ ہی کامیابی کی کنجی بھی کہا جاتا ہے۔

کتابوں کا مطالعہ ایک عام انسان کو عظیم انسان بنانے میں کلیدی کردار ادأ کرسکتا ہے۔

 

اسوقت مطالعہ کتب کے چند فوائد ذیل میں تحریر کیۓ جاتے ہیں :-

 

1- مطالعہ سے متعدد و متنوع افکار سے واقفیت حاصل ہو تی ہے۔

 

2۔ ایک ہی مضمون کو کئی اسالیب میں اظہار کا ملکہ پیدا ہوتا ہے۔

 

3- کتب کے مطالعہ سے آدمی کی فکر اور سوچ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، وہ کُواں کے میڈھک والی سوچ سے باہر آتا ہے اس کی دماغی صلاحیتیں جلا پاتی ہیں۔

 

4- کتابيں پڑھنے سے قوتِ حافظہ کو تقویت ملتی ہے ۔

کسی نے امامِ بخاریؒ سے حافظہ کی دوا کے بارے میں دریافت کیا تو وہ فرمانے لگے کہ :-

” حافطہ کے لیۓ آدمی کے انہماک، دائمی نظر و مطالعہ کتب سے بہتر کوئی چیز میرے علم میں نہیں ہے “

 

5- اپنی کمزوریوں اور جہالت کا ادراک ہوتا ہے اور حصولِ علم کی جستجو میں مزید اضافہ ہوتا ہے جو شخصیت کی ارتقأ کا سبب بنتا ہے۔

 

6- کتابوں کے ذریعہ انسان کو صحیح اور غلط کی پہچان اور تنقید کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ورنہ انسان اندھا اور بہرا بنکر رہ جاتا ہے۔

 

7- وقت لایعنی کاموں میں ضائع ہونے سے محفوظ ہوکر قیمتی سرمایا ثابت ہوتا ہے۔

 

8- مطالعہ سے مختلف لوگوں کے اسالیبِ تحریر سامنے آتے ہیں جس سے لکھنے اور بولنے کا سلیقہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

 

9- کتابوں کے مطالعے سے فنِ تخلیق کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے۔

 

10- آدمی کی ہمت اور حوصلہ میں اضافہ ہوتا ہے،کچھ کر دکھانے کا جذبہ اس میں جوش مارنے لگتا ہے کہ وہ سوچتا ہیکہ جب دنیا یہ کارنامہ انجام دے سکتی ہے تو میں کیوں نہیں کرسکتا, یہی چیز ہے جو انسان کو ترقی کی منزلیں تے کرادیتی ہے۔

 

ہماری نوجوان نسل اور خصوصی طور پر ان افراد کو جو سماج کی تشکیل نو کے خواہش مند ہیں وہ سوشل میڈیا کے سطحی علم سے باہر نکل کر مطالعہ کتب کی جانب خاص توجہ دیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button