جنرل نیوز

مسلمانوں کے لئے نفرت کا بحران

از۔محمدقمرانجم قادری فیضی

گذشتہ سات سال سے کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ شہریت تر میمی قانون کے ذریعہ ان کی شہریت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی مذہبی آزادی کو سلب کرنے کے لئے قانون کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ان کی تہذیب و تمدن اور ان کی زبان کو ختم کرنے کی پوری تیاری کرلی گئی ہے۔اسی ہفتہ "سوریہ نمسکار”کو تعلیمی اداروں میں لازمی طور پر پڑھنے کا قانون بی جے پی کی ریاستی حکومتوں نے بنایا ہے۔ بی جے پی اس تیر سے دو شکار کررہی ہے۔ ایک تو یہ کہ جو بچے سرکاری مدارس میں پڑھ رہے ہیں وہ اس شرکیہ عمل کے عادی ہو جائیں اور آئندہ اپنی زندگی میں اسے ورزش کے نام پر اپنا لیں۔ اور جو بچے سوریہ نمسکار کرنے کے لئے تیار نہ ہوں ،ان کو سرکاری اسکول میں آ نے سے روک دیا جائے۔ اس طرح مسلم بچے تعلیم سے دور ہو جائیں۔ ہر دو صورتوں میں ہمارے لئے آزمائش ہے ۔

 

مسلم خواتین جو تعلیم میں آ گے بڑھ رہی ہیں، میڈیا میں اپنی پہچا ن بنا رہی ہیں اور اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں، ان کی یہ ساری انقلابی سر گرمیاں فا شسٹ قوتوں کو انجانے خوف میں مبتلا کر رہی ہیں۔ انہیں یہ خوف کھائے جا رہا کہ کہیں مسلم خواتین ان سے حساب کتاب چکانے کے لئے آگے نہ بڑھ جائیں۔ سی اے اے کے خلاف اٹھے احتجاج اور خاص طور پر دہلی کے شاہین باغ کے خواتین کے احتجاج نے پورے ملک میں ایک ہیجان پیدا کر دیا تھا۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ کا یہ پہلا احتجاج تھا جس میں نوجوان تعلیم یا فتہ خواتین سے لے کر معّمر خواتین نے اپنے عزم اور ہمت کا ثبوت دیتے ہوئے یہ ثابت کر دیاتھا کہ مسلم خاتون اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے کسی کی محتاج نہیں ہے۔ وہ جب میدان میں آ تی ہیں توعزم و استقلال کے ساتھ پُرامن طریقے پر آگے بڑھتی ہیں اور کوئی اُنہیں ڈرا اور دھمکا نہیں سکتا ہے۔ شاہین باغ کے دھرنے  نے یہ ثابت کردیا ہے  کہ کسی قائد کی قیادت کے بغیر بھی مسلم خواتین اپنی آنے والی نسلوں کی حفاظت کے لئے اپنی ساری طاقت جھونک دینے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔مسلم خواتین کے اس عزم و استقلال کو دیکھ کر منافر طبقہ حواس باختہ ہوگیا ۔اوراب اُسی حواس باختگی کے نتیجہ میں اِن با صلاحیت اور بیباک خواتین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے خباثت بھرے دماغوں نے "بلی بائی "اور "سلی بائی "کا ہتھکنڈا استعمال کر تے ہوئے انہیں بدنام کر نے کی مذموم حرکت کی ہے۔ لیکن وہ اپنے ناپاک ارادوں میں کبھی بھی کا میاب نہیں ہو سکتے۔ مسلم خواتین کی اس شعور بیداری سے مسلم دشمن طاقتیں اس لئے بھی پریشان ہیں کہ گزشتہ چند برسوں سے ان طاقتوں نے مسلم خواتین سے ہمدردی کے نام پر انہیں اسلام سے برگشتہ کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ چند نام نہاد ترقی یا فتہ خواتین کو منظرِ عام پر لا کر یہ باور کرانے کی سعیِ ناکام کی گئی کہ مسلم خواتین اپنے مذہبی عقیدہ اورسماجی بندھنوں کو توڑ کر اپنی پسند کی زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔ وزیراعظم نریندرمودی نے مسلم عورتوں سے بے پناہ محبت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے تین طلاق کے خلاف قانون بھی بنا دیا۔ مسلم علماء اور مسلم پرسنل لاء سے واقف دانشوروں سے کوئی مشاورت کئے بغیر مسلمانوں کی مرضی کے خلاف یہ قانون ملک میں نا فذ بھی کردیا گیا۔ وزیراعظم کو مسلم لڑکیوں کی تعلیم اور ان کی معاشی پسماندگی کو دور کرنے کی فکر نہیں رہی۔ انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ کتنی ہی مسلم لڑکیاں تعلیم کو اس لئے ترک کر نے پر مجبور ہوئیں کہ اسکولوں میں ضرورت سے فارغ ہونے کے لئے پردے کا انتظام نہیں ہے۔ سچر کمیٹی نے اس تلخ حقیقت کو اپنی رپورٹ میں پیش کیا ہے۔ لیکن مودی حکومت نے اس پر غور بھی نہیں کیا۔ حکومت کی فلاحی اسکیموں میں مسلم خواتین کی حصہ داری کتنی ہے ،اس کے کوئی حقیقی اعداد و شمار حکومت پیش نہیںکر سکتی۔ البتہ یکساں سول کوڈ کا نعرہ بھی ہر تھوڑے دن بعد ملک کی فضاؤں میں گونجتا رہا ہے۔

!

قارئین کرام!

 

اِس وقت ملک عزیز ہندوستان کا جو حال ہے وہ کسی ذی علم سے مخفی نہیں ہے، سیاسی جماعتوں نے ملک کے حالات اتنے بدتر کر دئے ہیں کہ شاید اب پہلے والے حالات آنے میں مدت مدیدہ درکار ہوگی،

 

جب کہ اسی بیچ ہندوستان کی مشہور و معروف  مصنفہ اور سیاسی کارکن ارون دتی رائے نے الزام لگایا ہے کہ ملکی حکومت اکثریتی ہندوؤں اور اقلیتی مسلمانوں کے مابین کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے اور بھارت میں مسلمانوں کے لیے صورت حال’نسل کشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

 

ارون دتی رائے نے  ڈوئچے ویلے کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں خبردار کیا کہ اس وقت پوری دنیا میں پھیل چکی کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں بھارت میں اس وبائی مرض کی آڑ میں جو صورت حال پیدا کی گئی ہے، اس پر پوری دنیا کو نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی والے ملک بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ملکی سطح پر لاک ڈاؤن کے دو سال  پورے ہو چکے ہیں۔ نئی دہلی میں مودی حکومت کا کہنا ہے کہ اس لاک ڈاؤن کا مقصد کووِڈ انیس نامی مرض کا سبب بننے والے وائرس کے پھیلاؤ کے سلسلے کو منقطع کرنا ہے۔ تاہم جنوبی ایشیا کے اس ملک میں کورونا وائرس کے خلاف جدوجہد کا ایک مذہبی پہلو بھی ہے۔ مثال کے طور پر شہر میرٹھ میں مسلم اقلیتی شہریوں کو اس لئے نشانہ بنایا گیا تھا کہ چند مقامی شخصیات کے بقول وہ مبینہ طور پر ‘کورونا جہاد‘ کر رہے تھے۔ڈی ڈبلیو نیوز نے اس پس منظر میں معروف بھارتی ناول نگار اور سیاسی کارکن ارون دتی رائے کے ساتھ ایک انٹرویو میں ان سے یہ پوچھا کہ وہ کیا کہنا چاہیں گی کہ اس وقت ان کے اپنے وطن میں کیا ہو رہا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ارون دتی رائے نے کہا، ”بھارت میں کووِڈ انیس کا مرض اب تک کسی حقیقی بحران کی وجہ نہیں بنا۔ اصل بحران تو نفرت اور بھوک کا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ایک بحران ہے، جس سے قبل دہلی میں قتل عام بھی ہوا تھا۔ قتل عام، جو اس بات کا نتیجہ تھا کہ لوگ شہریت سے متعلق ایک مسلم مخالف قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس وقت بھی جب ہم یہ گفتگو کر رہے ہیں، کورونا وائرس کی وبا کی آڑ میں بھارتی حکومت نوجوان طلبہ کو گرفتار کرنے میں لگی تھی۔ وکلاء، سینیئر مدیران، سیاسی اور سماجی کارکنوں اور دانشوروں کے خلاف مقدمات قائم کیے جا چکے تھے اور ان میں سے کچھ کو تو  جیلوں میں بند بھی کیا جا چکا تھا جو ابھی تک سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ڈی ڈبلیو نیوز کی سارہ کَیلی نے اس انٹرویو میں ارون دتی رائے سے یہ بھی پوچھا کہ اگر ان کے بقول بھارت میں اصل بحران نفرت کا بحران ہے، تو پھر ایک سیاسی کارکن کے طور پر خود ان کا بھارت کی ہندو قوم پسند حکومت کے لیے اپنا پیغام کیا ہو گا، جو بظاہر کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے؟اس سوال کے جواب میں متعدد ناولوں کی انعام یافتہ مصنفہ ارون دتی رائے نے کہا، ”مقصد ہی یہی ہے۔ آر ایس ایس نامی وہ پوری تنظیم جس سے وزیر اعظم مودی کا بھی تعلق ہے اور جو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے پیچھے فعال اصل طاقت ہے، وہ تو عرصے سے یہ کہتی رہی ہے کہ بھارت کو ایک ہندو ریاست ہونا چاہیئے اس کے نظریہ ساز بھارتی مسلمانوں کو ماضی کے جرمنی میں یہودیوں سے تشبیہ دے چکے ہیں۔ جس طرح بھارت میں کووِڈ انیس نامی بیماری کو استعمال کیا جا رہا ہے، وہ طریقہ کافی حد تک ٹائیفائیڈ کے اس مرض جیسا ہے، جسے استعمال کرتے ہوئے نازیوں نے یہودیوں کو ان کے مخصوص رہائشی علاقوں میں ہی رہنے پر مجبور کیا تھا۔ میں بھارت میں عام لوگوں اور دنیا بھر کے انسانوں کو یہی کہوں گی کہ وہ اس صورت حال کو بہت ہلکے پھلکے انداز میں نہ لیں۔‘بھارت میں صورت حال نسل کسی کی طرف بڑھتی ہوئی‘ارون دتی رائے نے اپنی اس تنبیہ کی وضاحت کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ”بھارت میں اس وقت صورت حال نسل کشی کی طرف جا رہی ہے، کیونکہ حکومت کا ایجنڈا یہی رہا ہے۔ جب سے موجودہ حکومت اقتدار میں آئی ہے، مسلمانوں کو جلایا گیا اور ان کا شکار کیا گیا۔ لیکن اب مسلمانوں کے اس وبا کے ساتھ نتھی کیے جانے سے حکومتی پالیسیاں کھل کر سڑکوں تک پر آ گئی ہیں۔ آپ ہر جگہ ان کی بازگشت سن سکتے ہیں۔ اس بات کے ساتھ شدید تشدد اور خونریزی کا خطرہ بھی جڑا ہوا ہے۔ اب تو اسی شہریت ترمیمی قانون کا نام لے کر حراستی مراکز کی تعمیر بھی شروع ہو چکی تھی، اب اس صورت حال کو بے ضرر سا بنا کر اور کورونا وائرس کی وبا سے منسوب کر کے ایسا کچھ کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس پر دنیا کو اچھی طرح نظر رکھنا چاہیے۔ اس سے زیادہ اس خطرے کی نشاندہی میں نہیں کر سکتی۔‘‘

ارون دتی رائے نے حال ہی میں اپنے ایک مضمون میں بھی لکھا تھا کہ بھارت کے موجودہ حالات ایک ایسا المیہ ہیں، جو بہت بڑا اور حقیقی تو ہے لیکن نیا نہیں ہے۔ ”تو پھر اس المیے کی نشاندی کے حوالے سے کس کی آنکھیں کھلی ہیں اور کس کی آنکھیں بند ہیں؟،اس پر رائے کا جواب تھا، ”دنیا کی آنکھیں بند ہیں۔ ہر بین الاقوامی رہنما وزیر اعظم (نریندر مودی) کا خیر مقدم کرتا اور گلے ملتا نظر آتا ہے، حالانکہ وہ بھی تو خود اس پورے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ جب پرتشدد واقعات شروع ہوتے ہیں، تو مودی خاموش رہتے ہیں۔ دہلی میں جو گزشتہ سال قتل عام ہوا، وہ وہی وقت تھا جب امریکی صدر ٹرمپ بھی بھارت کے دورے پر تھے۔ لیکن ٹرمپ نے بھی کچھ نہ کہا۔ کوئی بھی کچھ نہیں کہتا۔ اسی طرح بھارتی میڈیا بھی، سارا نہیں لیکن اس کا ایک حصہ، آج کل ایک نسل کش میڈیا بنا ہوا ہے، ان جذبات کی وجہ سے جن کو ابھارنے کا وہ کام کر رہا ہے۔ بھوک کے اس بحران کی تو میں نے ابھی بات ہی نہیں کی، جس کا کئی ملین بھارتی باشندوں کو سامنا ہے

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button