جنرل نیوز

گیان واپی مسجد مسئلہ پر کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کے ہنگامی اجلاس سے مرزا نثار احمد بیگ نظامی ( ایڈوکیٹ سپریم کورٹ) ، شوکت علی صوفی ، ڈاکٹر نادر المسدوسی کے خطابات

مساجد کی بے حرمتی مسلمانانِ ہند کیلئے ناقابل برداشت ‘گیا ن واپی مسجد مسئلہ پر حکومت و عدالتوں کا رویہ مایوس کن

گیان واپی مسجد مسئلہ پر کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کے ہنگامی اجلاس سے مرزا نثار احمد بیگ نظامی ( ایڈوکیٹ سپریم کورٹ) ، شوکت علی صوفی ، ڈاکٹر نادر المسدوسی کے خطابات

حیدرآباد۔ 19/ مئی 2022ء ( راست) عصر حاضر میں جس طرح ہمارے ملک میں فرقہ پرست عناصر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسلسل سازشیں کرتے آرہے ہیں اور چاہے مرکزی حکومت ہو یا ریاستیں حکومتیں اور ان کی خاموشیاں اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے متعلق ان کا موقف کیا ہے ، جس طرح سے بابری مسجد واقع ہمارے سامنے واضح مثال بن گیا ہے پھر اسلام اور مسلمانوں پر ایک بعد ایک مسائل کا آغاز ، کبھی شریعت محمدی ؐ میں مداخلت ، کبھی ماب لنچنگ کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام ، کبھی تین طلاق کا مسئلہ ، کبھی حجاب کا مسئلہ ، کبھیCAA, NRCکے نام پر ہراسانی ، مساجد ، درگاہوں اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی لیکن ان شر پسند عناصر پر حکومت کی مجرمانہ خاموشی دستور ہند اور دیگر قوانین کے تحت انتہائی افسوسناک ہے ۔

شر پسندوں کی جانب سے گیان واپی مسجد ، متھرا کی عیدگاہ مسجد ، یہاں تک کہ تاج محل اور جامع مسجد پر بھی برُی نظریں اس بات کی طرف اشارہ دے رہی ہیں کہ ملک میں انتہاء پسندوں اور فساد برپا کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے حکومتیں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں ۔ ساری دنیا میں ملک کا وقار مجروح ہورہا ہے ۔ ملک کے نام پر داغ لگانے والوں اور ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچانے والوں پر حکومت کی طرف سے خاموشی انتہائی حیران کن ہے ۔ ان خیالات کا اظہار کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کے زیر اہتمام ہنگامی اجلاس منعقدہ قادریہ اسلامک سنٹر ، دبیر پورہ سے جناب مرزا نثار احمد بیگ نظامی صاحب ( ایڈوکیٹ سپریم کورٹ) نے کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو حکومتیں دستور ہند کے تحت قائم کی گئی وہی دستور ہند کی حلف برداری لینے کے باوجود ناجائز کاموں کے تحت اپنے حلف کو توڑ رہی ہے ۔ 1991ء سے گیان واپی مسجد کا مقدمہ چل رہا ہے مقامی مندر کے پنڈت سومناتھ ویاس و ڈاکٹر رام رنک شرما و دیگر افراد نے وارانسی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا اور یہ لوگ عدالت سے اس بات کی اجازت طلب کررہے ہیں کہ مسجد کی زمین پر وہ نئی مندر تعمیر کرینگے ۔

یہ انتہاء پسند تقریباً 300عبادت گاہوں جن میں مساجد ، عیدگاہیں ، درگاہیں و دیگر عبادت گاہوں پر اپنی بری نظریں ڈالے ہوئے ہیں ۔ 1991ء میں ( Places of Worship Acts ) لاگو کیا گیا ، اس قانون میں صرف بابری مسجد کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ دیگر مساجد ، عیدگاہوں ، درگاہوں ، چرچ ومنادر کو اس میں شامل کیا گیا ۔جسکے تحت ان تمام عبادتوں پر مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا ۔ اسکے باوجود یہ انتہاء پسند گیان واپی مسجد پر مسلسل تنازعہ پیدا کررہے ہیں ۔ ان انتہاء پسندوں کا مقصد ملک میں مسلمانوں کو مسلسل ہراساں کرنا ہے جسکی وجہ سے عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے اور ملک کا امن و امان خراب ہورہا ہے یہ انتہاء پسندوں کا ایک مخصوص طبقہ ہے جو ہیرو بننے کیلئے ایسے من گھڑت مقدمہ عبادت گاہوں پر دائر کررہے ہیں

اور مسلمانوں کے برسوں پرانی مساجد و عبادت گاہوںکو متنازعہ بناکر اس کو شہید کرکے اپنے ناجائز مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہ رہے ہیں ۔ اس طرح کے مقدمات میں Law of Limitation اور Law of Adverse Possession بھی لاگو ہوتا ہے جسکی روشنی میں ان مقدمات کو کالعدم قرار دیا جانا چاہئے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نادر المسدوسی صاحب نے کہا کہ عصر حاضر میں مسلمانوں کو اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جس طرح ملک میں ہر طرف سے فرقہ پرست و فاشسٹ قوتیں اپنا سر اُٹھارہی ہیں مسلمانوں کو مضبوط ہونے کی ضرورت ہے ،

جس طرح سے انتہاء پسندوں کی جانب سے آئے دن نئے نئے فتنے پیدا کئے جارہیں وہ ناقابل برداشت ہیں ، کبھی شریعت میں مداخلت ، کبھی شانِ رسالتمآب ؐ میں گستاخیاں، لو جہاد کے نام پر مسلم نوجوانوں کو ہراسانی ، تین طلاق ، حجاب ، ماب لنچنگ کے نام پر قتل عام اور اب مساجد و عبادت گاہوں پر تنازعہ ناقابل قبول ہے کوئی بھی مسلمان مساجد کی بے حرمتی برداشت نہیں کرسکتا ، مسلمانا ن ہند متفقہ طور پر ایک کل ہند سطح پر ایک عظیم احتجاجی جلسہ منعقد کریں ، جس کے تحت ایک قرار داد حکومت کو پیش کی جائے کہ ملک میں مساجد ، عیدگاہوں ، درگاہوں و دیگر عبادت گاہوں پر فرقہ پرست عناصر کے ناپاک عزائم اور عبادت گاہوں پر مقدمات کو روکا جائے ملک کے امن کو امان کو نقصان پہنچانے والوں پر سختی قانونی کاروائی کرے تاکہ اس طرح کے واقعات ملک میں رونما نہ ہوں ۔

سینئر صحافی جناب شوکت علی صوفی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ فرقہ پرست و ملک دشمن عناصر آئے دن نئے نئے فتنے کو ہوا دے رہے ہیں ، جس کی وجہ سے ملک میں سنگین حالات پیدا ہورہے ہیں ، جہاں عام عوام مہنگائی سے پریشان ہے وہیں پر یہ فرقہ پرست ملک کے امن و امان کو نقصانے پہنچانے کی مذموم کوششیں کررہے ہیں ، حکومتیں اور عدالتیں ان انتہاء پسندوں کے خلاف اپنا سخت موقف جب تک واضح نہیں کرینگی تب تک ملک کافی مسائل سے دوچار ہوتا رہے گا ۔ مسلمانان ہند متفقہ طور پر ایک عظیم احتجاج منعقدکریں اور ایوان حکومت میں اپنی بات پہونچائیں تب ہی ان مسائل کا سد ِ باب ممکن ہے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد شاہد اقبال قادری ( صدر کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی ) و ڈاکٹر محمد عبدالنعیم قادری نظامی ( نائب صدر ) نے اپنے مشترکہ خطاب میں کہا کہ دورِ حاضر میں جس طرح کے فتنے پیدا ہورہے ہیں ان کی روک تھام ضروری ہوچکی ہے ۔ مسلمانان ہند کو چاہے کہ وہ ان شر پسند عناصر کو کسی بھی طرح کا موقع فراہم نہ کریں سب سے پہلے تو ہمیں مساجد کو آباد کرنا اور نمازوں کی پابندی کرنا لامی ہے

کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی الحمد للہ مسلسل کئی سالوں سے ’’ تحریک صلوٰۃ ‘‘ پر کام کررہی ہے جس کا مقصد مسلمان نمازوں کی مکمل طور پر پابندیں کریں اور اپنے گھروں میں بھی اہتمام کروائیں ۔ اپنی نسلوں کو دین اسلام کی تعلیم و اسلاف کی زندگیوں کا درس دینا لازمی ہوچکا ہے آج اگر ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں گے تو کل ہماری نسلیں ہمیں بزدل قرار دینگی ۔ محمد عادل اشرفی ، سید لئیق قادری ، سید طاہر حسین قادری ، ملک ابراہیم علی خاں خالد ، محمد عظیم قادری ،محمد عبدالکریم رضوی ، سید اعزاز محمد ، محمد عبید اللہ سعدی قادری شرفی ، اجلاس میں اراکین کی کثیر تعداد شریک تھی ۔ آخر میں صلوٰۃ و سلام پر اجلاس کا اختتام عمل میں آیا ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button