نظام شوگر فیکٹریز کے دوبارہ احیا کی کوشیش

ٹی آر ایس کی رکن پارلیمنٹ کے کویتا نے کہا ہے کہ نظام شوگر فیکٹریز کے دوبارہ احیاء کی حکومت پابند عہد ہےانھوں نے صدر تلگودیشم و متحدہ ریاست کے سابق چیف منسٹر چندرابابونائیڈو پر نظام شوگر فیکٹریز کو خانگیانے کا الزام لگایا.جس کی وجہ سے فایدہ میں چلنے والے فیکٹریز نقصان میں آگئے.کویتانے کہا کہ  گزشتہ دو سال سے تلنگانہ کے تین بودھن,میٹ پلی اور میدک شوگر فیکٹریز کو دوبارہ کھولنے کی مسلسل جدوجہد کی جارہی ہے تلنگانہ بھون میں پارٹی ارکان اسمبلی پدمادیویندرریڈی ڈپٹی اسپیکر,عامر شکیل,اور کے ودیاساگر راو کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کویتا نے اپوزیشن جماعتوں اور جے اے سی قایدین پر الزام عاید کیا کہ وہ نظام شوگر کے کسانوں اور ملازمین کو گمراہ کررہے ہیں جب کہ حکومت اپنی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے انھوں نے کہا کہ جے اے سی کی جانب سے بودھن میں شوگر فیکٹریز کے ملازمین اور کسانوں کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی گئی تھی جس میں صرف اپوزیشن جماعتوں کو مدعو کیا گیا.جب کہ برسراقتدار جماعت کے قایدین کو بھی مدعو کیا جانا چاہیے تھا مقامی رکن اسمبلی عامر شکیل یا پھر رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے  مجھے مدعو کرنا تھا تاکہ حکومت کے اقدامات سے واقف کروایا جاسکے.جے اے سی نے حکومت کا موقف جاننے کی کوئی کوشیش نہیں کی.کویتا نے کہا کہ نظام حکومت نے 1937 میں شوگر فیکٹریز قایم کئے تھے جس کو چندرابابو حکومت نے  2002 میں خانگیانے کا فیصلہ کرتے ہوے جواینٹ وینچر کے تحت ڈیلٹا کمپنی کے حوالہ کردیا.جس میں خانگی کمپنی کو 51 فیصد اور حکومت کا 49 فیصد شیر دیا گیا.اس کے باوجود تین چار سال تک تلنگانہ کی تین فیکٹریز فایدہ میں چل رہی تھی لیکن رفتہ رفتہ نقصان میں آگئی.فایدہ میں لانے کے لئے متحدہ ریاست میں ھاوز کمیٹی بھی قایم کی گئی.6 سال تک کمیٹی نے کوئی رپورٹ نہیں دی.2014 میں ٹی آر ایس اقتدار میں آنے کے بعد  دو مرتبہ کسانوں کے 66 کروڑ کے بقایاجات کو ادا کیا گیا.فی میٹرک ٹن گنے پر  340 روپیے معاوضہ ادا کیا گیا.اس کے لئے 11.25 کروڑ روپیے ادا کئے گئے.