جنرل نیوز

چنچل گوڑہ جونیر کالج گراونڈ پر رحمت عالم کمیٹی کی چھٹویں تحفظ ِ ناموس رسالتؐ کانفرنس سے علامہ احمد رضا منظری (بریلی شریف) و دیگر کے خطابات 

مسلمانانِ عالم دنیا میں ہر تکلیف برداشت کرسکتے ہیں لیکن شانِ رسالتمآبﷺ میں گستاخی کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتے

مسلمانانِ عالم دنیا میں ہر تکلیف برداشت کرسکتے ہیں لیکن شانِ رسالتمآبﷺ میں گستاخی کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتے

چنچل گوڑہ جونیر کالج گراونڈ پر رحمت عالم کمیٹی کی چھٹویں تحفظ ِ ناموس رسالتؐکانفرنس سے علامہ احمد رضا منظری (بریلی شریف) و دیگر کے خطابات 

 حیدرآباد۔27/جون2022ء ( راست ) یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ نبی پاکﷺ کی عظمت و بلندی بیان کرنا کسی انسان کی حیثیت میں بالکل نہیں جہاں پر رب تعالیٰ خود قرآن پاک میں ارشاد فرمارہا ہے کہ ’’ ائے محبوب ﷺ ! ہم نے آپ کا ذکر بلند فرمادیا ‘‘ تو اب کسی کے بیان کرنے یا نہ کرنے سے حضور محبوب رب ِ العالمین ﷺ کی عظمت و بلندی کے بڑھنے یا کم ہونے کا کوئی مطلب ہی نہیں ۔ لیکن جب حضور نبی پاکﷺکی شانِ اقدس میں گستاخیاں کی جاتی ہوں تو ان شیاطین کی ناجائز اولادوں اور ملعونوں کو بتایا جانا ضروری ہوجاتا ہے کہ جن کا ذکر رب تعالیٰ نے خود بلند فرمادیا انکی عظمت کا عالم کیا ہوگا ۔ عصر حاضر میںجس طرح کی گستاخیوں کی مذموم کوششیں کی جاری ہیں ا س سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ملعون ناجائز نطفے کی اولاد ہیں ۔ کیونکہ اس بات کی تصدیق خود قرآن پاک میں موجود ہے کہ جو بھی ’’ شانِ رسالتمابﷺ میں گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے وہ نطفہ حرام کا ہوتا ہے ‘‘ آج سے چودہ سو سال قبل ہی یہ اعلان قرآن میں کردیا گیا ہے اگر یقین نہ آئے تو اس ملعون یا ملعونہ کا DNAٹسٹ کروالیا جائے تب پتہ چل جائے گا کہ قرآن کے حق ہونے میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا ۔

ان خیالات کا اظہار کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کی عظیم الشان چھٹویں تحفظ ناموس رسالت ؐکانفرنس منعقدہ 26/جون 2022ء بروزاتوار بعد نمازِ عشاء بمقام : گورنمنٹ جونیر کالج گراؤنڈ چنچل گوڑہ سے مہمان مقرر حضرت علامہ احمد رضا منظری صاحب (بریلی شریف ) نے کیا ۔ کانفرنس کی سرپرستی حضرت مولانا سید محمد شاہ قادری ملتانی صاحب نے کی ۔ محمد شاہد اقبال قادری (صدر رحمت عالم کمیٹی ) نے مہمان مقررین کا استقبال کیا ۔ قرأت کلام پاک سے کانفرنس کا آغازہوا ۔ معروف ثناء خوانِ رسول ﷺ نے بارگاہِ رسالتمآب میں ہدیہ نعت کا نذرانہ پیش کیا ۔ مولانا نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج جو نطفہ نا تحقیق کائنات عالم کی سب سی عظیم المرتبت شخصیت کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے کی مذموم کوششیں کررہے ہیں انہیں چاہئے کہ کبھی محسن انسانیت سرور کائنات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت بھی پڑھ لیتے ، آپ کی حیات کے درخشاں پہلو سن لیتے اگر یہ بھی نہ پڑھ اور سن سکتے تو کسی عاشق رسولﷺ کی حیات ہی پڑھ لیتے تو معلوم ہوجاتا کہ آقائے نامدار حضور نبی پاک ﷺ کے غلاموں کا عالم یہ ہے تو ان کے مالک و آقا کی عظمت و بلندی کا عالم کیا ہوگا ۔ حالیہ عرصہ میں ایک ملعونہ جس کا نام نپور شرما ہے جس نے حضور اقدس ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا جرم کیا ہے اس کو میں یہ بتانا اور سنانا چاہتا ہوں کہ کیا تو نے نبی پاک ﷺ کی حیات مبارک کے متعلق پڑھا ، تو سن لے ائے ملعونہ ! میرے آقا نبی پاکﷺ جب 25سال کے ہوئے تو عرب کی ایک کنواری لڑکی نے آپ کے حسن و جمال کو دیکھ کر آپ سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا اور آپ سے نکاح کے متعلق بات کی لیکن آپ نے کہا کہ میں تجھ سے نکاح نہیں کرسکتا ، میرے چچا اور دیگر رشتہ دار ہیں تو ان سے نکاح کرلے ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ کہہ کر اپنے گھر آگئے تب ہی کسی نے آکر کہا کہ آپ کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سلام کہتی ہیں اور آپ سے نکاح کرنا چاہتی ہیں ، غور کریں نبی پاکﷺ کی عمر شریف اس وقت 25سال اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر شریف اس وقت 40سال تھی اور شائد لوگوں کو اس بات کا علم نہ ہو کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پہلے دو شوہروں سے بیوہ تھیں ، حضور نبی پاک ﷺ نے آپ کے رشتے کو قبول فرمایا ، اور اس وقت ساری دنیا کو یہ پیغام دیا جب کہ ساری دنیا میں عورتوں کی تذلیل کی جاتی تھی ، عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ،

عرب میں عورت کو بیوہ ہونے پر 40دن تک ایک کمرے میں بند کردیا جاتا تھا اس عورت کا کھانا پینا اور فارغ ہونا سب اسی کمرہ میں کردیا جاتا تھا حد تو یہ تھی کہ چھوٹی بچیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا لیکن ہمارے آقا و مولاٰ حضور نبی پاکﷺ نے 40سالہ بیوہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرماکر ساری دنیا کو پیغام دیا کہ ائے لوگوں ’’ محمد رسول اللہ ‘‘ عورتوں کی اس تذلیل کو یہاں ختم کرتا ہے عورتوں کی عزت کرنا اور انہیں مقام و مرتبہ دینا اسلام کی عظمت و بلندی کی نشانی ہے ، غور کریں ایک 25سال کے نوجوان نے 40سالہ بیوہ خاتون سے نکاح کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ عورت کی عظمت کی جانی چاہئے ۔ کیا ہے کوئی نوجوان جو 25سال کی عمر میں 40سالہ بیوہ وہ بھی دو دو بار بیوہ ہونے والی خاتون سے نکاح کرے ۔ اسکے بعد آپ نے دوسرا نکاح بھی ایک بیوہ خاتون حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کیا ۔ وہ بھی اُس وقت جس وقت عورتوں کی تذلیل کی جاتی تھی ۔لیکن ان ملعونوں کو شائد یہ نہیں معلوم کہ ہندو مذہب میں پہلے ’’ستی ‘‘کی رسم کا رواج تھا ۔ جس کا مطلب شوہر کے مرنے کے بعد اسکی بیوی کو زندہ اس کی نعش کے ساتھ جلادیا جاتا تھا ، کیا یہ لوگ بھول چکے ہیں اپنے مذہب کی اس خطرناک رسم کو جہاں پر عورتوں پر ظلم و ستم کرکے انہیں شوہر کے مرنے کے بعد زندہ جلادیا جاتا تھا ۔لیکن جب اسلام ساری دنیا میں پھیل چکا تو اسلام نے عورت کو جو مقام و مرتبہ عطا کیا وہ کسی مذہب نے عورت کو نہیں دیا ، تمام مذاہب میں عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تھا ، لیکن پردہ جیسی باوقار و عظمت والی چیز صرف اسلام نے ہی عورت کو

عطا کی ۔ عورتوں کے حقوق مقرر کئے ۔ آج میں رحمت عالم کمیٹی کے اسٹیج سے اس بارش میں بھی میں موجود حضور نبی پاک ﷺکے عاشقوں کو یہ بات بتانا چاہتا ہوںکہ آج تمہارا اس بارش میں نبی پاکﷺ کا ذکر سننے بیٹھنا کل روزِ حشر میرے اور تمہارے لئے مغفرت کی سند بن جائیگا ۔ کیونکہ یہ کوئی سیاسی جلسہ نہیں یہ تو عظمت والی محفل ہے جس کیلئے رب تعالیٰ نے خود اپنی رحمت کی بارش برسائی ہے اور میں اس بارش میں اپنے خطاب کو روکونگا نہیں بلکہ ان عاشقانِ رسول ﷺ کے عشق کو دیکھتے ہوئے اپنے خطاب کو جاری رکھونگا ۔ مولانا نے مزید کہا کہ آج مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ حضور نبی پاک ﷺکی سیرت مبارکہ پر مکمل عمل پیرا ہوجائیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو یہ پیغام دیں کہ جب ہم اپنے آقا کی سیرت پر عمل کرنے والے ایسے ہیں تو ہمارے آقا ﷺ کی عظمت کا عالم کیا ہوگا ۔ مولانا نے کہا کہ جب خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قسطنطنیہ کو فتح کیا تو قسطنطنیہ کے قلعے میں عیسائیوں نے اپنی لڑکیوں کو نیم برہنہ حالت میں ٹہرادیا ،حضرت خالد بن ولید ؓ نے تمام مجاہدین سے خطاب کیا کہ کوئی بھی مجاہد اپنی نگاہ اوپر نہیں اٹھائے گا ، اپنی نگاہیں نیچے رکھ کر قلعے میں داخل ہونگے ، تو عیسائی چراغ پا ہوگئے اور تمام عیسائی لڑکیاں اور عیسائیوں کے پادری حضرت خالد بن ولید ؓ کے قدموں میں گرگئے اور کہا کہ تم کیسی قوم ہو جو اتنی حسین و خوبصورت برہنہ لڑکیوں کی طرف نظر نہیں اُٹھارہے ہو ، اور وہ تمام کے تمام اسی وقت دائرے اسلام میں داخل ہوگئے ۔ تو آج میں مسلمان لڑکے و لڑکیوں سے گذارش کرتا ہوں کہ اپنی نگاہوں کو نیچے رکھیں تاکہ پتہ چل جائے کہ مسلمان کیسا ہوتا ہے ۔ مولانا محمد ظریف قادری صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمان ہر چیز کو برداشت کرسکتے ہیں لیکن اپنے آقا و مولا نبی مکرم ﷺکی شانِ اقدس میں گستاخی کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتے ، جنکی شان و عظمت کو رب تعالیٰ نے بلند و بالا فرمادیا ، جن کی فضیلت قرآن پاک خود بیان کرتا ہے جن کو رب تعالیٰ نے اپنا محبوب بنایا اور سارے انبیاء پر فضیلت عطا فرمائی ، جن کو تمام انبیاء کا امام بنایا ، جن کو خاتم النبین بنایا ،جن کے نور کو اپنے نور سے پیدا فرمایا اس عظیم المرتبت شخصیت کا مقام و مرتبہ ہر کس و ناکس کی سمجھ میں نہیں آسکتا ۔ وہ تو محبوب رب العالمین ہیں ، رحمۃ اللعالمین ہیں ،خلق کے رہبر ہیں ان کی شان میں گستاخی ہندوستان کا مسلمان ہی کیا سارے عالم کے مسلمان ہرگز برداشت نہیں کرسکتے ۔ لہذا کل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کے اسٹیج سے مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں ان کو یہ بات پہنچائی جاتی ہے کہ ان گستاخوں کو فوری گرفتار کرتے ہوئے سخت سزاء کا اعلان کیا جائے تاکہ آئندہ پھر کوئی ملعون اس طرح کی مذموم کوشش کرنے کی جرأت نہ کرسکے ۔ علامہ ڈاکٹر سید شاہ عبدالمعز حسینی رضوی قادری شرفی (کامل الحدیث جامعہ نظامیہ)، مولانا فاروق برکاتی صاحب ، ڈاکٹر محمد عبدالنعیم قادری نظامی ( نائب صدر رحمت عالم کمیٹی) نے شرکت کی ۔ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے جناب سید اعزاز محمد ( مالک اعجاز پریس) شرکت کرینگے ۔ آخر میں صلوٰۃ و سلام اور دعا پر کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا ۔ محمد اسلم اشرفی ، سید لئیق قادری ، محمد عادل اشرفی ، محمد عبدالمنان عارف قادری ، محمد عبدالکریم رضوی ، سید طاہر حسین قادری ، محمد عبید اللہ سعدی قادری شرفی نے انتظامات کئے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button