حیدرآباد میں جنوب ایشیائی حیاتیاتی تحفظ کانفرنس

حیدرآباد میں جنوب ایشیائی حیاتیاتی تحفظ کانفرنس( ایس اے بی سی) میں 13 ممالک شرکت کررہے ہیں۔ اس کانفرنس میں سائنسداں اور ریگولیٹر بایو ٹیکنالوجی، ماحولیات کو درپیش خطرات اور حیاتیاتی تحفظ سے متعلق ریگولیشن کے بارے میں بین الاقوامی تجربات کا تبادلہ کیا جائے گا۔ تین دن تک چلنے والی اس کانفرنس میں بایو ٹیکنالوجی کی تحقیق و ترقی اور حیاتیاتی تحفظ سے متعلق وسیع موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا۔
ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا میں تبدیلی کی وزارت میں ایڈیشنل سکریٹری اور جنیٹک اپریزل کمیٹی (جی ای اے سی) کی سربراہ ڈاکٹر امیتا پرساد نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ہندوستان میں ماحولیاتی تحفظ کے قانون 1986 کے تحت جینیاتی پر بنائے گئے ہر طرح کے آرگینزم کے حیا تیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کا مضبوط ریگولیٹری طریقہ کار موجود ہے۔ انھوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ مختلف پہلوؤں سے نمٹنے کے لئے ان ضابطوں کے لئے بہت سے رہنما خطوط بھی موجود ہیں۔ ڈاکٹر پرساد نے زور دے کر کہا کہ حیاتیاتی تحفظ کے ریگولیشن کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے صلاحیت سازی اور تجربات کے تبادلے کا عمل مسلسل جاری رہنا چاہئے۔
اس کانفرنس میں آسٹریلیا، بنگلہ دیش، بھوٹان، کمبوڈیا، ایران، جاپان، کینیا، فلپین، سری لنکا، جنوبی افریقہ، تا جکستان اور امریکا کے 200 سے زائد مندوبین شرکت کررہے ہیں۔ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں ماحولیات سے متعلق خطرات کے جائزے (ای آر اے) کے لئے رہنما دستاویز بھی جاری کی گئی جسے حال ہی میں ہندوستا ن کی ریگولیٹری اتھارٹیز نے ای آر اے کے عمل کو مستحکم کرنے کے لئے منظور کیا ہے۔