اسکیم “اڑاں” عام آدمی کرسکے گا ہیلی کاپٹر میں سفر

 شہری ہوابازی کی وزارت نے چھوٹے شہروں کے عام آدمیوں کے لئے ہوائی جہاز سے سفر کو ایک حقیقت بنانے کے لئے آج ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ شہری ہوابازی کے مرکزی وزیر جناب پی اشوک گج پتی راجو نے آج نئی دلی میں علاقائی رابطے کی اسکیم ‘‘اُڑان’’ کا آغاز کیا، جس کا کافی عرصے سے انتظار تھا۔ اڑان شہری ہوابازی کی علاقائی منڈی کو فروغ دینے کی ایک منفرد اسکیم ہے۔ یہ ایک منڈی کی شرحوں پر مبنی ایک نظام ہے، جس میں ایئرلائن کمپنیاں سیٹوں پر سبسڈی فراہم کریں گی۔ عالمی سطح پر اپنی نوعیت کی اس پہلی اسکیم کے ذریعے علاقائی روٹ پر مناسب قیمت پرپروازیں دستیاب کی جا سکیں گی تاکہ چھوٹے شہروں میں بھی عام آدمی کے لئے ہوائی جہاز سے سفر کرنا آسان ہو سکے۔
اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے جناب راجو نے امید ظاہر کی کہ اس اسکیم کے تحت پہلی پرواز اگلے سال جنوری تک شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم متعلقہ فریقین کے ساتھ پوری طرح صلاح و مشورے کےساتھ تیار کی گئی ہےاور اسے کامیاب بنانے کےلئے تمام ساجھیداروں سے مدد کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اڑان اسکیم سے ملک میں موجود پرانی فضائی پٹیوں اور ہوائی اڈوں کا پھر سےاحیاء کیا جا سکے گا اور ایسے علاقوں میں جہاں فضائی خدمات نہیں ہیں ، یا بہت کم ہیں، کنکٹی ویٹی میں اضافہ ہوگا۔ یہ اسکیم دس سال کے لئے نافذالعمل ہوگی۔
منتخب ایئر لائن آپریٹروں کو طیاروں کے ذریعے اڑان کے لئے پروازوں میں کم سے کم 9 اور زیادہ سے زیادہ 40 /اڑان سیٹیں فراہم کرنی ہوں گی، جبکہ ہیلی کاپٹروں میں کم سے کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ 15 سیٹیں فراہم کرنی ہوں گی۔ اس طرح کے ہر روٹ پر ایک ہفتے میں کم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ سات پروازیں چلانے کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ اس اسکیم کے تحت طیاروں کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے حصول کے لئے روٹ نیٹ ورک کی بھی ہمت افزائی کی جائے گی۔
طیاروں کے ذریعے ایک گھنٹے یا 500 کلومیٹر کے سفر کے لئے یا ہیلی کاپٹر کے 30 منٹ کے سفر کے لئے زیادہ سے زیادہ 2500روپے کرایہ لیا جا سکے گا۔ اس میں مرکز ی حکومت کی طرف سے ایکسائز ڈیوٹی، سروس ٹیکس کی شکل میں رعایت فراہم کرے گی، جس میں غیرآر سی ایس (اڑان)سیٹوں اور آر سی ایس (اُڑان )ہوائی اڈوں پرکوڈ شیئرنگ میں نرمی کی جائے گی۔
ریاستی سرکاریں آگ بجھانے والی خدمات اور سکیورٹی کی مفت فراہمی کے علاوہ بجلی، پانی اور دیگر اشیاء کی رعایتی دروں پر فراہمی کے ساتھ ساتھ اے ٹی ایف پر ویٹ میں ایک فیصد کی کمی کریں گی۔
ایئرپورٹ آپریٹرروٹ نیوی گیشن فیسلیٹی کے محصول پر رعایت کے ساتھ ساتھ لینڈنگ اور پارکنگ کا محصول عائد نہیں کریں گے۔
اسکیم کے تحت وائبلٹی گیپ فنڈنگ (وی جی ایف) کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک علاقائی کنکٹی ویٹی فنڈ قائم کیا جائے گا۔ ہر پرواز کے لئے کچھ مخصوص گھریلو پروازوں پر آر سی ایف محصول عائد کیا جائے گا۔
ساجھیدار ریاستی سرکاریں(شمالی-مشرقی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو چھوڑ کرجن کا تعاون دس فیصد ہوگا) اس فنڈ کے لئے 20 فیصد رقم فراہم کریں گی۔ متوازن علاقائی ترقی کےلئے اسکیم کے تحت ملک کے پانچ جغرافیائی خطوں یعنی شمال، مغرب، جنوب، مشرق اور شمال مشرق میں برابری کی سطح پر رقم مختص کی جائے گی۔
اس اسکیم کے تحت ریاستوں کا رول بہت اہم ہوگا۔ اڑان آپریشنوں کے لئے ہوائی اڈوں کا انتخاب ریاستی سرکاروں کی طرف سے ان کی رعایتوں کی تصدیق کے بعد صلاح مشورے سے کیا جائے گا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک میں بے کار پڑے ہوائی اڈوں اور ہوائی پٹیوں کے احیاء کے لئے مطالبات بہت پرانے ہیں اور زیادہ تر ریاستیں ان ہوائی اڈوں کا اڑان اسکیم کے تحت احیاء کرسکیں گے۔