وزیراعظم نریندر مودی نے بڑے نوٹ کی منسوخی سے متعلق فیصلہ کی عوام سے راے طلب کی ہے

وزیراعظم نریندر مودی نے 500 اور 1000 روپے سے متعلق مرکزی حکومت کے حالیہ فیصلے پر عوام سے آراء طلب کی ہیں۔ عوام کے ایک سروے کے ذریعہ جس میں دس سوالات شامل ہوں گے، اپنی آراء دے سکتے ہیں۔ یہ سوال نامہ نریندرمودی ایپ پر دستیاب ہے۔ وزیراعظم نے آج ٹوئیٹ کر کے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے تعلق سے براہ راست کی آراء جاننا چاہتے ہیں۔ سرے میں کئے گئے دس سوالات ذیل میں ہیں:

1-کیا آپ سوچتے ہیں کہ ہندوستان میں بلیک منی موجود ہے؟(الف)ہاں (ب)نہیں۔

2-کیا آپ سوچتے ہیں کہ بدعنوانی اور بلیک منی کی برائی کے خلاف جنگ لڑی جائےاور اسےختم کیا جائے؟(الف)ہاں(ب)نہیں۔

3-مجموعی طورپر بلیک منی کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے، اس کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیںْ

4-مودی حکومت کے ذریعہ بدعنوانی کے خلاف اب تک کی گئی کوششوں کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟ ایک سے پانچ تک کے پیمانہ پر یعنی غیر معمولی کام، بہت اچھا کام، اچھا کام، ٹھیک ٹھا ک اور بے کار کام۔

5-500 اور1000 روپئے کے پرانے نوٹوں پر پابندی لگانے کی مودی حکومت کی پہل کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟(الف)صحیح سمت میں اچھی پہل (ب) اچھی پہل(ج)اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ 6-کیا آپ سوچتے ہیں کہ نوٹ بندی سے بلیک منی، بدعنوانی، دہشت گردی کے خاتمہ میں مدد ملے گی؟(الف)اس کا براہ راست اثر پڑےگا (ب)درمیانی اور طویل مدت میں اس کا اثر پڑے گا (ج)بہت کم اثر پڑے گا(د)پتہ نہیں۔

7-نوٹ بندی ریئل اسٹیٹ، اعلیٰ تعلیم، حفظان صحت کو عام آدمی کی دستردس میں لائے گی؟(الف)پوری طرح متفق(ب)جزوی طورپر متفق(ج)کہہ نہیں سکتا۔

8-بدعنوانی، بلیک منی، دہشت گردی اور جعلی نوٹ کے کلاف جاری جنگ کی وجہ سے درپیش مسئلہ سے آپ کو تکلیف پہنچی ہے؟(الف) قطعی نہیں (کچھ حد تک، لیکن کوئی بات نہیں(ج)ہاں۔

9-کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کچھ بدعنوانی مخالف سرگرمیاں اب دراصل بلیک منی، بدعنوانی اور دہشت گردی کی حمایت میں جاری ہیں؟(الف) ہاں(ب)نہیں۔

10-آپ کے پاس کوئی مشورہ، نظریہ یا خیال ہے، جسے آپ وزیراعظم کو بتانا چاہیں گے؟

یہ سروے دراصل وزیراعظم کے حکومت میں عوام کی شرکت کے خواب کے مطابق ہے۔ اس میں اہم پالیسی اور معاملہ کے نفاذ میں براہ راست عوام کی رائے لی گئی ہے۔

وزیراعظم نے 500/اور 1000 روپئے کے نوٹ آئینی طورپر مسترد کرنے کے فیصلے کے مختلف پہلوؤں پر براہ راست آراء طلب کی ہیں۔ انہوں نے عوام سے یہ بھی معلوم کرنا چاہتا ہے کہ وہ افیصلے پر سختی سے کس طرح عمل درآمد کر یں۔

وزیراعظم کو اہم معاملات میں براہ راست عوام کو شریک کرنا، اس سروے سے بالکل عیاں ہے۔